The news is by your side.

بچپن کی برسات

بچپن میں جب بھی کالی گھٹائیں نیلے آسمان کو سرمئی کرنے لگتیں تو میرا دل جیسے ناچنے لگتا، کیوں کہ بارش مجھے بہت پسند تھی۔

برسات کسے پسند نہیں ہوتی؟ خاص کر بچے تو جیسے دیوانے ہی ہو جاتے ہیں۔ بارش میں نہانا، سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا، کاغذ کی کشتیاں بنا کر مقابلے کرنا اور جب بارش تھم جاتی تب تو ہمارے جیسے وارے نیارے ہو جاتے تھے۔ برسات کی وجہ سے بننے والی چکنی مٹی ہمارے لیے خزانے سے کم نہ تھی۔ مٹی سے گھروندے بنانا۔ کبھی برتن تو کبھی ہاتھی گھوڑے۔ ہم ننھے فن کار گھنٹوں چکنی مٹی سے "فن کاریاں” کرتے۔ وقت گزرتا رہا اور بچپن کے وہ دن سہانی یاد بن گئے۔

کراچی شہر میں برسنے والے مون سون کے تگڑے سسٹم نے لڑکپن کے ان دنوں کی یاد تازہ کردی، مگر افسوس کہ لڑکپن کی اس برسات اور حالیہ بارش میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اب تو مائیں اپنے بچوں کو گھر سے نکلنے ہی نہیں دیتیں کہ کہیں کوئی بجلی کا کھمبا یا پانی میں لٹکتا بجلی کا کوئی تار ان کے پیاروں کی زندگی کے چراغ ہی گُل نہ کر دے۔ جو لوگ گھروں میں تھے وہ بھی کب محفوظ رہ سکے۔ کوئی اپنے ہی گھر میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا تو کسی کے اوپر اس کے گھر کی چھت آگری اور وہ جان کی بازی ہار گیا۔

ہماری ماسی حمیدہ کی پڑوسن کا سات سالہ بچہ اپنے والد سے نہر پر جانے کی ضد کر رہا تھا، اس دن کافی گرمی تھی اور حبس بہت زیادہ تھا۔ باپ نے اسے ٹال دیا۔ انہی دنوں مون سون کے سسٹم نے کراچی میں اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ بادل جم کر برسے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہو گیا جب کہ گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ اس بچے کے باپ نے اپنے بیٹے کو گلی میں کھیلنے کی اجازت دے دی اور کہا کہ بارش میں نہاؤ اب نہر پر جانے کی ضرورت نہیں۔ بچہ بھی خوشی خوشی باہر چلا گیا، کسے خبر تھی کہ وہ اس ننھے منے کی آخری برسات ہو گی جو وہ اپنی زندگی میں دیکھ رہا تھا۔ وہ گلی کے کونے پر نصب بجلی کے کھمبے تک نہ جانے کب پہنچا اور وہیں کرنٹ لگنے سے ابدی نیند سو گیا۔

اس کی لاش دو گھنٹے تک کھمبے کے ساتھ چپکی رہی۔ ڈر کے مارے کوئی آگے نہیں بڑھا۔ بچے کے والدین کی گریہ زاری، آہ و بکا کے بعد کہیں جا کر انتظامیہ حرکت میں آئی اور علاقے کی بجلی منقطع کی گئی۔

دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ بچے کے جسم کا پچھلا حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا۔ اس واقعے کے بعد علاقہ مکین غم و غصے میں پبھرے ہوئے احتجاج کے لیے نکلے۔ سڑک بلاک کی۔ نعرے لگائے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ذمے داران کے خلاف کارروائی کے مطالبے کیے گئے، لیکن نتیجہ صفر۔ اب تک کسی کے خلاف کوئی نہیں ایکشن لیا گیا اور میڈیا بھی چیخ چیخ کر خاموش ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ اس "قتل” کا ذمے دار کون ہے؟ کسی نے بھی اس غریب خاندان کی داد رسی نہیں کی۔ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ کیا ماں ہی اپنے بچوں کی قاتل بن چکی ہے؟

Please follow and like us:

Comments

بطور صحافی مختلف ٹیلی ویژن چینلوں‌ سے وابستہ رہنے والی شہلا محمود ان دنوں آرٹس کونسل، کراچی سے منسلک ہیں، وہ مختلف موضوعات خاص طور پر سماجی مسائل پر مختلف فورمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں