The news is by your side.

حوّا کی ایک اور بیٹی کا نوحہ…

تحریر: شہلا محمود

جینز پہنتی ہے۔ خاصی ماڈرن ہے۔ دوپٹہ بھی نہیں لیتی، ننگے سَر گھومتی ہے۔ کسی آفس میں کام کرتی ہے، اور سنا ہے ترقی پر ترقی مل رہی ہے۔ ضرور باس کو پھانس لیا ہو گا۔

کسی لڑکی، خاص طور پر ملازمت پیشہ عورت کا طرزِ معاشرت، گھر سے باہر نکلنے کے لیے اس کا تیار ہونا، لباس اور اس کا انداز ہمارے یہاں ضرور موضوعَ بحث بنتا ہے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ گھر والوں سے زیادہ فکر اور پریشانی باہر کے لوگوں ہوتی ہے۔ لڑکی کے لباس سے اس کے کردار کا تعین کیا جاتا ہے اور اس کا قابل و صلاحیت ہونا ذہنی طور پر بیمار معاشرے کی نظر میں اس لڑکی کی آوارگی اور بے باکی قرار پاتا ہے۔

اسلام نے خواتین کو جس قدر حقوق اور تحفظ دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے کبھی نہیں دیا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں حوا کی بیٹی چاہے تین سال کی ہو یا تیس سال کی، شادی شدہ ہو، ماں ہو یا غیرشادی شدہ، محفوظ نہیں رہی۔ کراچی شہر کی ننھی مروہ یا قصور شہر کی زینب۔ یا پھر لاہور میں موٹر وے پر جنسی درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی ایک ماں جسے اس کے معصوم بچوں کے سامنے ہی روندا گیا۔

ستم ظریفی کہیے یا بے حسی کہ اس خاندان کے غم کا مداوا کرنے اور ایک عورت کو انصاف دلانے کی بات کرنے کے بجائے لاہور کے پولیس چیف نے میڈیا کے سامنے یہ کہا کہ خاتون کو رات گئے گھر سے نکلنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اگر نکل ہی گئی تھیں تو اس راستے سے نہیں جانا چاہیے تھا۔ اس بیان کے بعد اعلیٰ پولیس افسر کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پھر انھوں نے اس کی وضاحت کی۔

پاکستان میں جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں، لیکن جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں سنائی جائیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہو تو امکان ہے کہ کوئی وحشی کسی مروہ کو زندہ نہ جلائے یا پھر وہ کسی ماں یوں بے آبرو کرنے سے باز رہے۔ ہماری اسمبلیاں اور عوامی نمائندے ایسے قوانین تو منظور کروا لیتے ہیں جن کا اشرافیہ کے سوا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن ایسے واقعات کی روک تھام اور مجرموں کو سخت سزائیں دینے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔

کراچی کی مروہ کے بعد لاہور میں ایک ماں کی عصمت دری کا واقعہ ابھی تازہ ہے جس کی ہر فورم پر مذمت کی جارہی ہے اور اس پر بحث بھی جاری ہیں، لیکن یہ آوازیں اور اس واقعے کے خلاف ہونے والا شور بھی ختم ہوجائے گا اور ہم سب کچھ بھول جائیں گے۔ اور اس وقت تک چُپ رہیں گے جب تک کوئی اور کلی نہیں روند دی جاتی۔

کہتے ہیں جنگلوں میں بھی کوئی قانون ہوا کرتا ہے، لیکن انسانی معاشرہ تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔ نہ جان کا تحفط، نہ مال کا اور نہ ہی عزت و آبرو کا۔ ایسے میں حوا کی بیٹیاں کریں تو کیا کریں؟ کیا وہ اپنی عزت اور آبرو جانے کے ڈر سے کسی جلتے ہوئے الاؤ میں کود جائیں تاکہ ان کی لاشیں تک نہ ملیں، کیوں کہ ذہنی بیمار اور ہوس پرستوں سے تو اب ان کی میتیں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔

Please follow and like us:

Comments

بطور صحافی مختلف ٹیلی ویژن چینلوں‌ سے وابستہ رہنے والی شہلا محمود ان دنوں آرٹس کونسل، کراچی سے منسلک ہیں، وہ مختلف موضوعات خاص طور پر سماجی مسائل پر مختلف فورمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں