The news is by your side.

ادھورا انصاف

تحریر: شہلا محمود

وہ گیارہ ستمبر کی ستم گر شام تھی جب دفتر میں بیٹھے ہوئے اطلاع ملی کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی کسی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے۔ ابتدائی طور پر یہی گمان کیا کہ یہ شارٹ سرکٹ ہو گا۔ کسے معلوم تھا کہ یہ آگ ملکی تاریخ کا ہولناک سانحہ شمار ہوگی اور دو سو ساٹھ سوختہ جسم اپنے پیچھے سسکیاں، آہیں، آنسو اور ہم سب کے لیے کئی سوال چھوڑ جائیں گے۔

میری آنکھوں‌ کے سامنے اس ماں کا چہرہ گھوم گیا جو اپنے ہاتھوں میں ایک خوبصورت سا فوٹو فریم لے کر ادھر اُدھر پھر رہی تھی۔ کبھی بلدیہ فیکٹری، کبھی اسپتال اور پھر مردہ خانہ۔ اس فوٹو فریم میں اٹھارہ سے پچیس سال کی پانچ پیاری سی شکل و صورت والی لڑکیاں اور اور ایک عمر رسیدہ خاتون نظر آرہی تھیں۔ یہ پانچوں لڑکیاں اس دکھیاری کی بیٹیاں تھیں اور عمر رسیدہ خاتون ان کی بہن۔ یہ خالہ بھانجیاں بلدیہ ٹاؤن میں واقع ڈینم فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔ جس روز فیکٹری میں آگ لگی اس دن یہ لڑکیاں بھی اپنی خالہ سمیت کام پر تھیں۔

فیکٹری میں اس دن تنخواہ ادا کی جانی تھی۔ اسی لیے سب کے سب خوشی خوشی فیکٹری گئے تھے۔ لیکن شام ڈھلے تک جب بیٹیاں اور بہن گھر نہ آئی تو اس ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خبر لینے بھیجا اور یوں انھیں‌ حادثے کا علم ہوا۔ بیٹے نے ماں کو بتایا کہ کچھ پتا نہیں چل رہا اندر کیا ہو رہا ہے، ہر طرف بس آگ اور دھواں ہے، بہنیں اور خالہ بھی اندر ہی ہوں‌ گی، اس نے کہا میں جا رہا ہوں ان کو لینے۔ بیٹے کی ماں سے وہ آخری گفتگو تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان ہذیانی کیفیت میں چیخ رہا ہے کہ میری ساری بہنیں اور خالہ اندر ہیں کوئی کچھ کرے۔ نہ جانے کب وہ لڑکا بھی کسی طرح‌ فیکٹری میں داخل ہوگیا۔ اپنی بہنوں کو بچانے کے لیے، لیکن واپس نہ آ سکا۔

چاروں طرف سے اٹھتے شعلوں نے فیکٹری کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔دروازے بند تھے۔ نہ جانے وہ لڑکا کب، کہاں کیسے اندر چلا گیا ہوگا جس کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔ آج بھی اس ماں کے بارے میں سوچتی ہوں تو دل دہل جاتا ہے۔ آن کی آن میں اس ماں کی تو دنیا ہی اجڑ گئی۔ چھے بچوں اور بہن کو تلاش کرتی، ان کی فوٹو ہاتھ میں اٹھائے کئی روز تک وہ عورت ماری ماری پھرتی رہی۔ جانے والے تو کب کے جا چکے تھے۔

آٹھ سال بعد بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ سامنے آیا جس میں نام زد ملزمان رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا ہے، لیکن ان ملزمان نے جو انکشافات کیے، اس وقت کی طاقت ور سیاسی پارٹی کے جن کارندوں کے نام لیے تھے، ان کا کیا ہوا، کیا اتنے بڑے سانحے کے ذمے دار صرف یہ دو افراد تھے؟

فیکٹری کے مالکان جن پر غفلت کا مقدمہ درج تھا ان کا کیا بنا؟ کیا یہ ادھورا انصاف نہیں ہے؟

Please follow and like us:

Comments

بطور صحافی مختلف ٹیلی ویژن چینلوں‌ سے وابستہ رہنے والی شہلا محمود ان دنوں آرٹس کونسل، کراچی سے منسلک ہیں، وہ مختلف موضوعات خاص طور پر سماجی مسائل پر مختلف فورمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں