The news is by your side.

سرکتے گلیشیئر اور وادیِ بروغل کی جنگلی حیات

پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جسے موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث سیلاب، طوفانی بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر پگھلنے کے مسائل درپیش ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادی بروغل ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اپنی آب و تاب کھو رہی ہے۔ یہ وادی اور یہاں کے لوگ یاک پولو کے منفرد کھیل کے لیے ہی مشہور نہیں‌ بلکہ یہ علاقہ چھوٹے بڑے گلیشیئرز کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ 39 کلومیٹر لمبائی اور 9 کلومیٹر چوڑائی رکھنے والے کُوئی گاؤں کا چنیتر گلیشیئر، دو دہائیوں کے دوران تیزی سے پگھل رہا ہے۔

ماہرِ ماحولیات اور چترال میں کلین اینڈ گرین پاکستان کے بانی رحمت علی جعفر دوست کے مطابق گلیشیئر، جنگلی حیات اور سبزہ ختم ہونے سے یہ وادی اپنی معاشی اور ثقافتی حیثیت کھو دے گی۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے چنیتر اور گرم چشمہ گلیشئیر سمیت دیگر چھوٹے بڑے گلیشرز پگلھنے لگے ہیں۔

رحمت علی جعفر دوست نے بتایا کہ ضلع چترال میں 542 گلیشیئرز ہیں جو آلودگی کی وجہ سے پگھل رہے ہیں اور نئی جھیلیں اور چشمے بن رہے ہیں جو آنے والے دنوں میں سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ رحمت علی جعفر دوست کے مطابق بروغل کے مقامی آبادی کو ماحولیات اور آلودگی پر آگاہی دینے اور ان کی ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے، انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی لوگ اس علاقے سمیت اپنا طرزِ زندگی بہتر کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت یہاں کے باسیوں کے لیے ذرایع معاش پیدا کرے، انھیں‌ سہولیات مہیا کی جائیں، ان کے لیے سڑکیں بنائی جائیں اور ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے بھی پاکستان آمد پر چنیتر گلیشئیر کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انھیں ماحولیاتی آلودگی اور اس علاقے کے گلیشیئرز کے پگھلنے سے آگاہ کیا گیا تھا۔

موسمی تبدیلیوں اور آلودگی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے سے یہاں کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہورہے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ان کا واحد ذریعہ معاش مویشی پالنا ہے اور وہ گھاس کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں، لیکن اب جہاں وادی کا قدرتی حسن متاثر ہورہا ہے، وہیں چراگاہیں اور سبزہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نشانے پر ہیں جس کا براہِ راست اثر ان کی زندگیوں‌ پر پڑے گا۔

ادھر وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کا شکار ہونے والے ممالک میں پاکستان کا پانچواں نمبر ہے جب کہ چترال اور گلگت بلتستان سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں جس کے لیے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں کمیونیٹیز کو وسائل کی فراہمی کے ذریعے مضبوط بنانا شامل ہے۔

انٹر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈے کے حوالے سے چترال میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے فنڈ سے چلنے والے گلاف پراجیکٹ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ چترال اور گلگت بلتستان میں 40 سے زیادہ گلیشیئر کے خطرے سے دوچار دیہات میں فی گاؤں 50 ہزار ڈالر کا فنڈ فراہم کیا جارہا ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کی تیاری کرسکیں۔

سطحِ سمندر سے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع بروغل کا نیشنل پارک 1300 اسکوائر کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بروغل سمیت تاجکستان، چین اور گلگت کے نیشنل پارکس، ٹرانز برڈ نیشنل پارک کہلائے جاتے ہیں۔

جنگلی حیات کی نشوونما اور تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے بروغل نیشنل پارک کی منیجمنٹ پروجیکٹ کے تحت دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ایس ڈی بروغل پارک طارق نبی کے مطابق گاؤں کی سطح پر مقامی لوگوں کو شامل کر کے کمیونٹی بنائی گئی ہے جو جنگلی حیات کا تحفظ کرتی ہے۔ اس کمیونٹی کی جانب سے اس حوالے سے تجاویز اور اقدامات کے لیے ہر ماہ اجلاس بھی کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور دراز علاقہ ہے، اس لیے یہاں جنگلی حیات کا شکار روکنے کے لیے مقامی لوگوں کو ذمہ داری دی گئی ہے جنھیں ہر سال بعد نوکریاں بھی دی جاتی ہیں۔

طارق نبی کے مطابق اس نیشنل پارک میں جنگلی حیات کی مختلف انواع میں آئی بیکس، گولڈن مرمٹ، تبت کا بھیڑیا، برفانی چیتا، رام چکور اور سائبیرین پرندے پائے جاتے ہیں۔ کورمبر کے ساتھ علاقے میں بھورے رنگ کے ریچھ کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں سر سبز چراگاہیں ہیں اور بروغل سے کرمبر تک 34 جھیلیں ہیں۔

طارق نبی کا کہنا ہے کہ ستمبر سے مارچ تک سائبیریا کے پرندے یہاں مہمان بن کے آتے ہیں اور یہاں کی جھیلیں ان کا ٹھکانہ بنتی ہیں جن کے شکار پر پچاس ہزار جرمانہ اور دو ماہ قید کی سزا مقرر ہے۔

Please follow and like us:

Comments

ضیا الحق سینئر صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز پشاور بیورو سے بحیثیت بیورو چیف وابستہ ہیں ، آپ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقے کے حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں