The news is by your side.

یہاں بات نہیں ہوسکتی!

لاہور کے قریب گوجرپورہ لنک روڈ پر بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی کے واقعے نے ملکی میڈیا ، سوشل میڈیا پر ہلچل مچارکھی ہے ۔ زینب کیس کے بعد ایک بار پھر مجرموں کی سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

ہر فورم پر لوگ معاشرے میں خواتین سے سلوک کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ جہاں ایک جانب اس ہولناک واقعہ کیخلاف لوگوں میں غم و غصہ ہے وہیں سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ واقعے کے بعد نجی چینل کو انٹرویو میں سی سی پی او لاہور نے کہا تھا کہ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ خاتون کو اتنی دیر رات تین بچوں سمیت گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا تھی ، پٹرول بھی چیک نہ کیا اور جی ٹی روڈ کے بجائے سنسان سڑک کا انتخاب کیا ۔

ایک اور انٹرویو میں کہا کہ چونکہ متاثرہ خاتون فرانسیسی شہری بھی ہیں اس لئے انہوں نے پاکستان کو بھی فرانس سمجھ لیا ۔۔ ان بیانات کے بعد جہاں مجرم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا وہیں سی سی پی او کو برطرف کرو کا نعرہ بھی اٹھا ۔

حکومتی نمائندوں کو بھی میدان میں آنا پڑا، معاون خصوصی شہزاد اکبر نے سی سی پی او کے ساتھ پریس کانفرنس کی جس میں عمر شیخ نے بیان پر وضاحت کے ساتھ معافی بھی مانگی ۔ کہا کہ متاثرہ خاتون کو الزام ٹھہرانا مقصد نہیں تھا ، بس معاشرے کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت گھر سے نکلنا مناسب نہیں تھا ۔

اس بیان پر ایک موضوع اب زیر بحث آچکا ہے کہ کیا خواتین گھروں سے باہر نکلنا چھوڑ دیں ؟ کیا خاتون اکیلے سفر کرنا چھوڑ دے ؟

اگر اکیلی ہو تو کیا ضروری ہے کہ اسے ہراساں کیا جائے اس کے ساتھ زیادتی کی جائے ؟ اس سمیت کئی سوالات قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پوچھے جارہے ہیں اور کئی ان افراد سے بھی جو سی سی پی او کی بات سے متفق کرتے ہیں ۔۔ جب یہ خبر نشر ہوئی تو ایک صحافی کے نقطہ نظر سے کئی پہلوؤں پر غور کیا گیا ، جس میں واقعہ ، بیانات ، تفتیش سب شامل ہے ۔ لیکن ایک شہری کے پوائنٹ آف ویو سے سی سی پی او کا بیان متنازع نہیں لگا۔

کیمرہ کے لئے یہ بیان شاید بے حس ہو لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں بات درست تھی ۔ ایک کار ڈرائیور کے لئے منزل تک کا فاصلہ اور وہاں تک پہنچے کے لئے وسائل کا اندازہ لگانا اہم ہوتا ہے ۔ لیکن اس واقعے میں شاید یہ کیلکولیشن نہیں تھی ۔ یہاں مجھے ساؤتھ افریقہ میں پیش آنے والا ایک واقعہ یاد آیا ، کیپ ٹاؤن جرائم کا گڑھ کہلاتا ہے ، مجھے اس کا علم نہ تھا میں رات گئے تک تنہا شہر میں مٹر گشت کررہی تھی ۔ شہر کا دورہ کرنے کے بعد جب آدھی رات کو پیدل سفر طے کرکے ہوٹل پہنچی تو وہاں موجود پاکستانی فیملی جو گذشتہ کئی سال سے وہیں رہائش پزید ہیں ، مجھ دیکھ کر خفا ہوئے اور بتایا کہ یہ شہر خطرناک ہے ۔ یہاں راہ گیروں خاص طور پر غیر ملکیوں کے ساتھ ڈکیتی ، زیادتی ، ہراسگی عام ہے ۔۔ میری قسمت اچھی تھی کہ دو روز تک یہی روش اختیار کرنے کے باوجود محفوظ رہی ، جس پر پاکستانی ساتھی بھی حیران تھے ، لیکن قسمت اچھی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صورت حال بھی اچھی ہے ۔ ہر جگہ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے طریقہ کار اپنایا جاتا ہے ۔

نگا پربت کلر ماؤنٹین ہے ، یہ کوہ پیماؤں کو آسانی سے خود پر قدم جمانے نہیں دیتا ، تو پھر ایسی صورت حال میں یہ سوال نہیں بنتا کہ کیا اس خوف سے نانگا پربت کو سر کرنا چھوڑ دیں ، سر ضرور کریں لیکن پھر تیاری بھی ایسی ہی رکھیں ، لاہور زیادتی واقعے پر نانگا پربت اور کیپ ٹاؤن کی گفتگو کا کچھ جوڑ نہیں لیکن موضوع اب بھی یہی ہے کہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اگر کوتاہی ہے تو جناب بطور شہری ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہیں ۔ سی سی پی او کے بیان پر جو ردعمل سامنے آیا اس نے مجھے یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا کہ شاید اب ہمارے معاشرے میں کسی قسم کی بات کو سننے ، رائے کو سمجھنے اور سوچنے کا حوصلہ بھی نہیں رہا ۔

جنسی زیادتی کرنے والے وحشی اور ذہنی مریضوں کی تعداد تو شاید پھر بھی کم ہو لیکن عدم برداشت کے شکار افراد کی گنتی اب مشکل ہے ۔ اسکا ذمہ دار سوشل میڈیا ہے یا پھر ہم خود یہ فیصلہ کرنا قارئین پر چھوڑتے ہیں ۔

نوٹ: مندرجہ بالا تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Please follow and like us:

Comments

شہر بانو اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا کی سینئر پروڈیوسر ہیں۔ وہ دستاویزی فلمیں بنانے کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں