The news is by your side.

یاک پولو: برف پوش چوٹیوں کے درمیان واقع وادیِ بروغل کا منفرد کھیل

یاک اور اس پر سوار ہو کر کھیلی جانی والی پولو کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں، لیکن جنھیں معلوم نہیں وہ جان لیں کہ یاک، بیل یا گائے جیسا مضبوط اور بڑا جانور ہے جو پاکستان میں‌ سطحِ سمندر سے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر چترال اور گلگت بلتستان کی انتہائی سرد اور برف پوش چوٹیوں کے بیچ واقع وادی بروغل میں پایا جاتا ہے۔ یہ جانور مقامی آبادی کی دودھ، مکھن اور گوشت جیسی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے اور یہ لوگ اس بھاری بھرکم اور مضبوط جسم والے جانور پر سوار ہوکر پولو بھی کھیلتے ہیں۔

یاک پولو کے میچوں کا انعقاد یہاں کے باسیوں کے لیے جشن کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ راقم کو بھی بروغل میں اس کھیل کو دیکھنے کا موقع ملا جو خیبر پختونخوا ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ نے دیا تھا۔ یہ ڈیپارٹمنٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے سیاحت کو فروغ دینے کی پالیسی پر گام زن ہے۔

بروغل چترال سے 250 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، لیکن روڈ ناہموار، کچا اور پتھریلا ہے، اس لیے یہ فاصلہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ جو لوگ شندور پولو فیسٹیول کے لیے گئے ہوں، انھیں‌ معلوم ہو گا کہ چترال کی تحصیل مستوج کے بازار سے شمال کی جانب شندور اور مغرب کی جانب بروغل کو راستہ جاتا ہے، راستے میں سیب کے باغات، شور مچاتے دریا، خوب صورت جھیلیں اور برف پوش چوٹیاں تھکاوٹ کا احساس کم کردیتی ہیں۔

یاک کے بارے میں بتاتا چلوں کہ جس طرح ٹراؤٹ مچھلی کی تاثیر گرم اور یہ انتہائی ٹھنڈے پانی میں پائی جاتی ہے، ویسے ہی یاک کا گوشت بھی تاثیر میں گرم اور لذیذ ہوتا ہے۔ راقم کو بھی اس کا گوشت کھانے کا اتفاق ہوا۔

یاک کی دیکھ بھال اور پولو میچ
راقم نے یاک کی دیکھ بھال اور پولو میچ کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ یاک پولو کا دورانیہ چالیس منٹ ہے، پہلا ہاف تیس منٹ تک جاری رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یاک اور گھوڑا پولو میں فرق ہے۔ یاک سست رفتار جانور ہے اور اس کی سواری خطرناک ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ بروغل کے علاوہ دنیا بھر میں کہیں بھی یاک پولو نہیں کھیلا جاتا جس کے لیے یاک کو بھی خاص ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس جانور کو پالنا اور اسے سدھانا یا اس کی تربیت کرنا محنت طلب ہے۔ موسم گرما میں ان کے لیے گھاس پھونس جمع اور ذخیرہ کرتے ہیں جس سے سرد موسم میں‌ ان کا پیٹ بھرتا ہے۔

ایک سیاح نے بتایا
ہم گجرات سے آئے ہیں۔ یہ کافی مشکل ٹریک تھا۔ ہم نے خاصا پہلے بروغل کا یہ فیسٹیول دیکھنے کا منصوبہ بنایا تھا اور پلان کیا تھا کہ برمبر جھیل جائیں گے۔ ہم پہلی بار یہاں‌ یہ کھیل دیکھ رہے ہیں۔ کبھی ٹی وی پر بھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ ایک مختلف کھیل ہے جسے دیکھنے میں مزہ آرہا ہے۔

ڈی سی اپر چترال نے کہا
یہ دور دراز علاقہ ہے، اس کے باوجود پچھلے اور اس سال بھی خاصی تعداد میں سیّاح یہاں آئے ہیں، یہاں خوشی میں رقص ہو رہا ہے، پولو کھیلا جا رہا ہے، فٹ بال بھی کھیلا جا رہا ہے۔ یہاں کی خاص بات بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر یاک پولو کا اہتمام ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد کھیل ہے۔

پہلے مقامی لوگ پہاڑوں کی ڈھلوان پر یاک پولو کھیلتے تھے اور اکثر گیند نیچے دریا میں گر جاتا تھا، ان کے یاک بھی زخمی ہو جاتے تھے، یہاں یاک مَر بھی چکے ہیں، اب کھیلنے کے لیے میدان بنا دیا گیا ہے اور چاروں طرف جنگلے بھی لگا دیے ہیں اور یوں یہ لوگ اور جانور زیادہ محفوظ ہوگئے ہیں۔

Please follow and like us:

Comments

ضیا الحق سینئر صحافی ہیں اور اے آر وائی نیوز پشاور بیورو سے بحیثیت بیورو چیف وابستہ ہیں ، آپ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقے کے حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں