The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

پاکستانیت ہماری پہچان ہے اوراس پرہم سب کو فخرہونا چاہیئے

زندگی میں رب نے ہمیں جتنی بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک بہت ہی خوبصورت نعمت آزادی بھی ہے۔ آزاد ملک میں رہنا، اپنے خاندان والوں کے ساتھ مل کر ہنسی خوشی زندگی گزارنا اوراپنی مرضی سے گھومنا پھرنا یہ سب بہت شکرگزاری کی باتیں ہیں جو لوگ صرف پاکستان میں رہ کرزندگی گزاردیتے ہیں ان کو ہو سکتا  ہے کہ اس آزاد زندگی کی اتنی قدر نہ ہو   جتنا وہ لوگ جانتے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہے یا ملکوں ملکوں گھومتے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ پریشانیاں، غم اوربرے حالات یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔ آپ کسی بھی ملک میں رہیں گے آپ کو یہ سب سہنا پڑے گا۔ چاہے آپ آزاد ہیں یا غلام ہیں، حاکم ہیں یا محکوم ہیں، اکثریت میں ہیں یااقلیت میں ہیں سب کو قدرت مختلف دکھ دے کرآزماتی ہے. ان تمام احساسات کا تعلق کسی اچھی خوبصورت جگہ پررہنے سے نہیں ہے لیکن یقین مانیں اگرآپ آزاد نہیں ہیں، ڈراورخوف کے ساتھ زندگی بسرکرتے ہیں، اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں تو پھراس سے بڑھ کربھی کوئی اور پریشانی نہیں ہے۔

آپ پوری دنیا میں ذرا دیکھیں کہ جو ممالک آزاد نہیں ہیں اور آزادی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں وہاں کے لوگ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنی تاریخ تو پڑھ کے دیکھیں ذرا کہ جب ہم اقلیت میں تھے، محکوم تھے تب ہماری کیا حالت تھی. میرا یہاں مقصد کوئی لمبی چوڑی باتیں کرنا نہیں ہے کہ ہم سب کو پتہ ہے ان باتوں کا. ہم بہت پڑھتے ہیں اوردیکھتے بھی ہیں لیکن شائد اثر کم ہوتا ہم پر چوںکہ ہم نے پیدا  ہوتے ہی آزاد فضا میں سانس لی، اپنی مرضی سے بچپن گزارا، پڑھائی کی ، نوکری کی ، ہر جگہ آسانی سے آجاسکتے اور دوسری پریشانیوں میں گھرے رہتے ہیں تبھی ہم کو آزادی جسی نعمت کا احساس نہیں ہوتا  اور نہ قدر محسوس نہیں ہوتی. یہ بالکل ایسا ہی ہے جسے اگر روز پانی، بجلی اور پٹرول ملتا ہے تو پروہ نہیں ہوتی اور اگر کچھ عرصہ نہ ملے یا کم ملے تو لگ پتا جاتا ہے ان چیزوں کی اہمیت کا۔

بات یہ ہے کے آپ دنیا کے کسی بھی  ملک میں چلیں جائیں وہ آپ کو پاکستان کے حوالے سے ہی جانیں گے. اگر آپ نہیں بتاتے تو پھر بھی وہ کہیں گے کہ آپ اس ملک کے لگتے تو نہیں ہیں تب آپ کو کہنا پڑتا ہے ہاں جی میں پیدا تو پاکستان میں ہوا تھا لیکن…  یا میرے والدین پاکستان سے ہیں وغیرہ وغیرہ ، مطلب کسی نہ کسی طورآپ پہچانے جائیں گے اور پاکستان سے آپ کا تعلق نکل ہی آئے گا۔

میں ایک عام سا آدمی اور پاکستانی شہری ہوں. مجھے نہ تو زیادہ دانشورانہ لکھنا آتا ہے نہ ہی بولنا آتا ہے. سادہ اور  مختصر بات کہنا ہی اچھا لگتا ہے جو خود کو اوردوسروں کو فورا سمجھ آجائے اوراس پرعمل ہو کہ اصل کام عمل کرنا ہے نہ کے صرف باتیں کیے جانا. تو دوستو!  بات یہ ہے کے اپنے پاکستانی ہونے پہ شرمندہ کبھی بھی نہیں ہونا سراٹھا کرفخر سے اپنا پاکستانی ہونا بتانا ہے. یہ جو اپنے پاکستان کے حالات اوپر نیچے ہوتے ہیں اس سے مراد یہ نہیں کہ آپ پاکستان کو اپنی آزادی کو برا بھلا کہیں، یقین مانیں کسی کا یہ کہنا کہ کیا فائدہ پاکستان کا،  ایسی آزادی کا جس میں یہ ہو رہا وہ ہو رہا، یہ برا وہ برا ” قسم سے بہت دکھ دے جاتاہے۔ ایسے لوگوں کو میں یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ اگر آپ کو پاکستان میں اسکی آزادی میں کوئی فایدہ نہیں ملتا تو کسی اور ملک میں چلے جائیں کیوں کہ کسی اور ملک میں جانے کے لئے پہلے پاکستانی کی پہچان پاسپورٹ کی صورت میں بنوانی پڑے گی۔

ہم بھی کتنے برے ہیں ویسے کہ کسی بھی برے حالات میں پاکستان کی اور اس کی آزادی کی  برائیاں کرنے بیٹھ جاتے ہیں.  لیکن یارو ،  قربان جاؤں اپنے پاکستان پہ کہ یہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کی صورت میں اپنی پہچان دینے کی صورت میں کبھی نہیں سوچتا کہ اس کے  بنوانے والا کتنا برا، پاکستان کو گالیاں دینا والا اور نفرت کرنے والا شخص ہے. ایسا کھلے دل والا اور پیارا  ہے میرا خوبصورت پاکستان۔

ڈھونڈو گے اگرملکوں ملکوں….ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

Print Friendly, PDF & Email