The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

نظربازی کی عام ہوتی لعنت۔۔ آخرکیوں

جب فرید نے لفٹ سے باہرنکل کر ساتھ نکلتی ہوئی خاتون کو بری طرح سے دیکھ کر کمنٹ پاس کیا تو میں اپنے اس ساتھی کی اس حرکت پر جہاں پریشان ہوا وہاں حیران بھی کہ کیا وجہ ہے کہ آپ چاہے اچھے ملک کے بہترین ادارے میں کمال کی نوکری کر رہے ہوں پھر بھی پست ذہنیت اور پرانی گندی عادتیں پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی ہیں؟ لڑکیوں کو گھورنا، ان کو گندی نگاہ سے دیکھ کر اپنی منحوس شکل بنا کر کوئی کمنٹ پاس کرنا ایک ایسی لعنت ہے جو آج کل بہت عام ہو چکی ہے. حیرانی کی بات یہ ہے کہ پہلے ایسے کام جاہل اور ان پڑھ طبقے میں زیادہ تھے لیکن اب پڑھے لکھے، اچھے اداروں میں کام کرنے والے اور شکل سے شریف نظر آنے والے بھی کرجاتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے دفاع میں یہی کہتے ہیں کہ یار ہم صرف دیکھتے ہی تو ہیں کچھ اور تو نہیں کرتے بس مزہ آتا ہے رب کے بنائے ہوئے حسن کو دیکھ کردل خوش کر لیتے ہیں بس اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یار یہ لڑکیاں خود ہی ایسے بن سنور کر باہرنکلتی ہیں کہ ان کو دکھا جائے ورنہ ایسے ٹائٹ کپڑوں ، کھلے بالوں اور میک اپ کے چہرے کے ساتھ باہر ہی کیوں نکلتی ہیں یہ خواتین۔ اسی طرح کچھ سادہ بھونڈ باز تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بھائی پہلے ہم نقاب والی کو نہیں دیکھتے تھے کہ احترم کرتے تھے لیکن آج کل جسے ٹائٹ قسم کے فیشن والے نقاب نکل آے تو ہم سے بھی احترم نہیں ہوتا انکا اب۔

ایسے لوگ جب پاکستان میں ہوتے ہیں تو پھر بھی ایک حد میں ہوتے ہیں لیکن اگر قسمت ان کو دبئی جیسے ملک میں لے آئےتو پھرکیا ہی کہنے.. جہاں پاکستان میں صرف  ایک جسی رنگ و صورت کی خواتین دیکھنے کو ملتی ہیں وہاں دبئی جسی جگہ میں تو مختلف ممالک کی حسینائیں مختلف جلووں میں نظر آتی ہیں. اور بس پھر ایسے لوگوں کو دبئی بہت راس آتا ہے. اپنی تعلیم ، خاندان ، مذہب، اقداروغیرہ وغیرہ سب بھول بھال جاتے ہیں جب کوئی گوری چمڑی کی حسینہ اپنے دلکش اور ماڈرن لباس میں پاس سے گزرے یا کہیں دور نظر آ جائے۔

کیا کہا جائے اب ایسی حرکتوں کو دیکھ کر. پہلے ایسے کام بہت کم ہوتے تھے اور لوگ چھپ چھپ کر برے دوستوں کی محفل میں کرتے تھے. پھر روک ٹوک بھی تھی باپ، بھائی ، یا خاندان کا کوئی فرد بھی دیکھ لیتا تھا تو لترول ہو جاتی تھی لیکن اب ایسی باتیں جب کھلے عام گھر میں ڈراموں میں ، فلموں میں ، مارننگ شوز میں فرمائی جانا شروع ہو جائیں تو یہ سب عام لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے کا حصہ ہو اورنئی اقدار کا خاصہ ہو۔ اب تو پڑھے لکھے لوگوں کا زیادہ شوق ہوتا جا رہا ہے۔ رہی سہی کسرموبائل،  فیس بک ، یو ٹیوب اور دوسری سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جہاں بھونڈ بازوں کو جی بھرکر مزے لینے کا موقع مل جاتا ہے۔

خواتین تنگ کپڑوں اور ماڈرن بن کر باہر کیوں نکلتی ہیں یہ ایک الگ بحث ہے خواتین کا پہناوا ، خوبصورت لگنا کس کے لئے ہونا چاہیے یہ  خواتین کو پتا ہے. میرے مخاطب صرف مرد حضرات ہیں کہ وہ اپنا کردار اچھا رکھیں پہلے. ایسی بنی سنواری خواتین جو باہر نظر آتی ہیں یہ بھی آزمائش کی ایک  قسم ہے رب کی طرف سے کہ ہم مرد خود کو کیسے بچا کررکھتے ہیں۔ ایسی آزمائش ہونی ہیں ہمیشہ ہم مردوں کا کردار پرکھنے کو، یقین مانیں کہ اگر مرد اچھے کردار کا ہے تو اسکی گھر میں موجود خواتین بھی پردے والی اور حیا والی ہی ہوں گی۔

دوستو، بڑے گناہ سے بچنے کے لئے چھوٹے گناہ کر لینا اور یہ کہنا کہ صرف دیکھنے سے کیا ہوتا ہے کچھ اور تو نہیں کرتے یہ سوچ بہت غلط ہے، آنکھیں دل کا دروازہ ہوتی ہیں جو ہم دل میں لاتے ہیں ہمارا دماغ انہی باتوں کو کروانے کے مختلف راستے نکالتا ہے۔

بڑا گناہ ہمیشہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کی گلیوں سے گزرکرہی ہوتا ہے تبھی ہمارا رب فرماتا ہے کہ بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ. اس لئے کچھ حیا کرتے ہوے اپنی آنکھوں میں حیا لائیں اوراپنی سوچ کو بدلیں ورنہ جس گلی، دفتر ، بازار میں آپ کسی اور کی بہن ، بیٹی کو دیکھتے ہیں تو یقین مانیں اسی گلی ، دفتر یا بازار میں آپ کی بہن بیٹی کو دیکھ کراپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کو بہت سے بھونڈ باز بیقرار کھڑے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email