The news is by your side.

ایمل ولی خان اور نئی سیاسی صف بندی

2018 میں جب سے تحریکِ انصاف کی حکومت بنی ہے، ملکی سیاست میں گرما گرمی برقرار ہے، لیکن اس میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سات ماہ قبل بننے والا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس اس کی تازہ مثال ہے جو عوام کو عمران خان کی حکومت سے نجات دلانے کے لیے بنا تھا، لیکن اندرونی اختلافات کی نذر ہوکر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔

یہ اتحاد اس وقت سوشل میڈیا اور ملکی ذرایعِ ابلاغ میں‌ موضوعِ‌ بحث ہے اور سبھی اپنی اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق اس پر تبصرے اور سیاسی صورتِ حال پر اپنا تجزیہ پیش کررہے ہیں۔ اس تناظر میں جب عوامی نیشنل پارٹی کے راہ نما ایمل والی خان سے ملاقات کی دعوت ملی تو اسے موجودہ سیاسی صورتِ حال اور اس اتحاد کے دَم خَم کو سمجھنے کا اہم موقع جانا اور ولی باغ پہنچ گئے۔

32 سالہ ایمل ولی خان عوامی نیشنل پارٹی، خیبر پختون خوا کے صدر ہیں۔ وہ خان عبدالغفار کے پڑ پوتے، خان عبدالولی خان کے پوتے اور اسفند یار ولی خان کے بیٹے ہیں اور ایچی سن سے فارغ التحصیل ہیں۔

ان سے ملاقات کے دعوت نامے نے جہاں صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ملک کی سیاسی صورتِ حال اور موجودہ حالات کو سمجھنے کا تجسس پیدا کیا تھا، وہیں عملی صحافت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری نے بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ پشاور سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کرکے ان تک پہنچ کر سازشی مفروضوں کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جائے۔

ضلع چارسدہ کی حدود میں تخت بائی روڈ پر واقع تاریخی ‘ولی باغ’ ایک زمانے میں خان عبدالغفار(مرحوم)، بعد میں خان عبد الولی خان اور اب پارٹی کے موجودہ صدر اسفند یار ولی کا مسکن ہے، جہاں پہنچنے پر پختونوں کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ دیکھا اور ایمل ولی خان کو استقبال کرتے ہوئے پایا۔ وہاں اے این پی کے ممبر پختونخوا اسمبلی ثمر ہارون بلور جو ہارون بلور شہید کی بیوہ اور بشیر بلور شہید کی بہو ہیں، سوات سے ممبر صوبائی اسمبلی اور پشاور سے صوبائی اسمبلی میں‌ پہنچنے والے صلاح الدین سمیت دیگر راہ نما موجود تھے۔

پی ڈی ایم سے علیحدگی
اس ملاقات میں مختلف اہم سیاسی موضوعات اور موجودہ حالات پر بات ہوئی، لیکن تمام ساتھیوں کا زیادہ فوکس پی ڈی ایم اتحاد سے اے این پی کا الگ ہونا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ تاثر یہ ہے کہ اے این پی نے مقتدر حلقوں کے کہنے پر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور اپوزیشن کو کم زور کر دیا ہے۔ کسی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے سیاسی صف بندی ہو رہی ہے جس کے لیے ایسا کیا گیا، لیکن ایمل ولی خان نے جو کچھ بتایا، اور جو حقائق سامنے رکھے وہ بہت مختلف تھے۔ انھوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم میں تمام جماعتیں مساوی حیثیت رکھتی تھیں، لیکن ان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن جن کی جماعت انتخابات میں ان کے مدمقابل ہوتی ہے، وہ انھیں دیوار سے لگا کر یہ تاثر دے رہے تھے جیسے اے این پی ان کے اور مسلم لیگ نواز کے رحم و کرم پر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم کی تنظیم سازی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، کیوں کہ یہاں وہ اپنے بھائی کو کنوینئر بنانا چاہتے تھے جب کہ اے این پی سردار حسین بابک جو پارلیمانی لیڈر اور پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بھی ہیں، انھیں کنوینئر بنانا چاہتی تھی۔ اسی طرح پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ منعقد ہوا جس سے تمام پارٹیوں کے مرکزی لیڈروں نے خطاب کیا، اے این پی کی خواہش تھی کہ جلسہ کا انتظام سنبھالے، لیکن یہ ہونے نہیں دیا گیا، جب کہ اس کا مالی بوجھ بھی اے این پی ہی کو برداشت کرنا تھا۔

پارٹی راہ نما ایمل ولی خان کے مطابق اس وقت سردار حسین بابک نے کہا تھا کہ مولانا جب ہمارے نقصان میں ہمارے ساتھ نہیں تو فائدے کے وقت تو ہمیں قریب بھی جانے نہیں دیں گے۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا بڑا مقصد عمران خان کی حکومت کا خاتمہ تھا، لیکن اس اتحاد کو مولانا نے مریم نواز شریف کے احتساب مقدموں میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایمل خان ولی نے شکوہ کیا کہ انھیں پی ڈی ایم میں اپنی حیثیت ہمنوا اور تالی بجانے والی لگ رہی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں ان کے اور پارٹی کے اندر غم و غصّے کا باعث بن رہی تھیں اور ہم انتظار میں تھے کہ کب یہ کوئی بڑی غلطی کریں اور ہم ان سے راہیں جدا کرلیں اور شوکاز نوٹس ہمارے لیے راہِ نجات بن گیا۔

پیپلز پارٹی کی حمایت
ایمل ولی خان اس نکتے پر بہت واضح تھے اور اس کے لیے انھوں نے تاریخ سے دلائل دیے۔ جنرل ضیاالحق کے دور کی تحریک برائے بحالیِ جمہوریت سے 2008 میں بننے والی پی پی پی کی حکومت تک کا ذکر کیا کہ خیبر پختونخوا میں پی پی پی نے حکومت بنانے میں مدد کی، پھر صوبے کے نام کی تبدیلی، اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے خودمختاری دلوائی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے کہنے پر پی ڈیم ایم میں شامل ہوئے تھے، وہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کو ترجیح دیں گے، انھوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو اور ان کا گزشتہ سولہ سال سے دوستانہ تعلق ہے۔

اسفند یار ولی کا مستقبل
اسفند یار ولی گزشتہ ایک عرصہ سے علیل ہیں اور اس باعث اپنے گھر تک محدود ہیں۔ ایمل ولی خان کے مطابق کرونا سے صحت یابی ان کی نئی زندگی کے مترادف ہے۔ تاہم ان کی باتوں سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ اسفند یار ولی اب عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔

عمران خان کا مسقبل
اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی سیاست اور اس کے مسقبل پر ان کی رائے تھی کہ عمران خان کو اگر مقتدر حلقے سپورٹ کرتے رہے تو وہ آئندہ بھی اقتدار میں آسکتے ہیں، لیکن یہاں ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ عمران خان سیاسی داؤ پیچ کے چالاک کھلاڑی ہیں اور جیسا ان کے بارے تاثر ہے، اس سے بالکل مختلف ہیں۔
اس ملاقات اور گفتگو سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے‌ کہ تحریکِ انصاف کو اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کرکے نئی سیاسی صف بندی کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ چوں کہ ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیاں جہاں اپنے نظریے کی سیاست کو بنیاد سمجھتی ہیں، وہیں اقتدار کی طاقت کو اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا مضبوط ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اقتدار کی سیاست کی سوچ کو تقویت ملتی ہے اور اس کے لیے نئی صف بندی کے لیے تیّار سیاسی پارٹیاں مقتدر حلقوں سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہاتھ ملانے پر آمادہ نظر آرہی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس دوڑ کا فاتح کسے بنایا جاتا ہے یا کون اپنے بَل بوتے پر سب سے آگے نکلتا ہے اور کون محروم رہتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort