The news is by your side.

رمضان سستا بازار ۔۔۔حقیقت یا فسانہ!

رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے جس میں‌ فرزندانِ توحید روزہ رکھنے کے ساتھ نماز اور خصوصی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں اور اس مہینے میں صدقات و خیرات کا سلسلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ ماہِ مبارک برداشت، انکساری، محبّت، تعاون اور مدد کا درس دیتا ہے اور ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہِ مبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور صدقہ و خیرات کرے اور اس کے ثمرات سمیٹ سکے۔

اسی طرح رمضان کے مہینے میں حکومتیں بھی عوام کو سہولیات کی فراہمی ،ریلیف دینے کے لیے پالیسیاں ترتیب دیتی ہیں اور اس حوالے سے انتظامیہ کو بھی متحرک کیا جاتا ہے، لیکن جب بھی ان ایّام میں خریداری کے لیے بازار جانے کا اتفاق ہو تو ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف اشیا، خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کی منہ مانگی قیمت وصول کی جارہی ہے۔

اس مہینے میں ناجائز منافع خوری عروج پر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تاجر اور دکان دار اس مہینے میں خریداروں کی کثرت اور ان کی ضروریات میں اضافے کو مدّنظر رکھتے ہوئے خاص طور پر اشیائے خورونوش ذخیرہ کرلیتے ہیں اور پھر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

آج بازار جانا تھا تو یہ تہیہ کیا کہ گراں فروشوں کی من مانی برداشت نہیں کروں گا اور یہی سوچ کر سستا بازار کا رخ کیا، کیوں کہ رمضان سے قبل ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ وزیرِاعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان نے رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کی غرض سے ایک اجلاس میں حکمتِ عملی کی منظوری دی ہے جس کے تحت عوام کو سستے نرخوں پر اشیائے خورونوش فراہم کی جائیں گی، صوبے بھر میں 83 سستے بازار اور 52 کسان مارکیٹیں قائم کی گئی ہیں جن میں آٹا، گھی، چاول، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضرورت سستے نرخوں پر دست یاب ہوں گی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں پر اسپیشل برانچ (پولیس) کڑی نظر رکھے گی، اس کے علاوہ موبائل ایپ بھی تیار ہوگی جس کی مدد سے براہِ راست شکایت کرنا ممکن ہو گا۔ جب کہ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ نمائشی سستے بازار نہیں مانیں گے اور اگر ایسا ہوا تو ڈی سی کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، اس کے علاوہ انصاف سستا موبائل شاپس بھی شروع کی گئی ہیں۔

حکومت کا یہ بھی دعویٰ تھاکہ یہ رمضان مہنگائی فری ہوگا۔ انہی باتوں اور حکومتی دعوے کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں نے شاہی باغ پشاور کے باہر بنے سستا بازار میں قدم رکھا تو دم بخود رہ گیا۔ دیکھتا ہوں کہ آدھی سے زائد دکانیں بند پڑی ہیں، اور جو کھلی ہیں، ان میں زیادہ تر سامان ختم ہوچکا تھا۔ ایک دکان کھلی تھی جہاں دکان دار سویا ہوا تھا۔ ایک خریدار عثمان جو وہاں موجود تھا، اس نے بتایا کہ وہ یہاں گھی، چینی، چائے اور آٹا لینے آیا تھا، لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف ایک مرغی والے کی دکان کھلی ہے۔ اس نے بتایا کہ بازار میں چاول 150، چینی 95، چائے کی پتی 800 روپے، آٹا 1200 روپے میں فروخت ہورہے ہیں اور یہاں سستی خریداری کرکے بچت کرنے کے ارادے سے آیا تھا، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور جو میں نے دیکھا تو بالکل یہی صورت حال تھی، حالاں کہ وہاں ایک دکان دار کا کہنا تھا کہ یہاں سب کچھ موجود تھا، لیکن اب ختم ہوچکا ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ حکم رانوں کا کام ہوتا ہے، پالیسی دینا، وسائل پیدا کرنا، لیکن انتظامیہ اگر اس پر عمل نہیں کروا سکتی تو جہاں حکومتی عمل داری پر سوال اٹھتا ہے وہیں عوام میں انتظامیہ نہیں بلکہ حکم ران بدنام ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے افسران کو سبق سکھائے جو حکومتی پالیسی پر عمل نہیں کرسکتے اور ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

ابھی رمضان المبارک کا آغاز ہوا ہے، امید ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومتِ وقت اس پر توجہ دے کر حالات کو بہتر بنائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort