The news is by your side.

کرونا کی وبا میں گداگروں کی یلغار اور حکومتی اقدامات

آپ جب بھی بازار، مسجد، درگاہ یا کسی تقریب میں پہنچیں تو مرکزی راستوں اور صدر دروازوں پر لوگ ہاتھ پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں جنہیں ہم گداگر اور بھکاری کہتے ہیں۔ ان میں ہر عمر کے تن درست ہٹّے کٹّے اور معذور افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ خصوصاً رمضان اور عیدین یا بڑے تہواروں پر یہ بھکاری بڑی تعداد میں‌ سڑکوں پر نظر آئیں گے۔

یقیناً آپ اس موضوع پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ پڑھ چکے ہیں، لیکن اس تحریر کا مقصد صرف پیشہ وَر بھکاریوں اور گداگری کی لعنت کو زیرِ بحث لانا نہیں بلکہ ان دنوں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے یہ معاملہ حکام کی خاص توجہ چاہتا ہے۔

قارئین، تہذیب سے عاری، اکثر بے حس اور بلا کے ڈھیٹ یہ بھکاری وبا کے دنوں میں بھی اسی طرح ہماری طرف لپکتے اور دستِ سوال دراز کرتے نظر آتے ہیں جیسا کہ وہ اس سے پہلے کیا کرتے تھے۔ یہ گداگر کسی قانون کو سمجھتے ہیں نہ قاعدے کے پابند ہیں، ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بات کی جائے تو وہ عام شہریوں کو ماسک نہ پہننے پر جرمانہ عائد کر رہے ہیں، لیکن ان گداگروں کو گویا ہر قسم کی چھوٹ اور آزادی حاصل ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار انھیں خاموش تماشائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

حیرانی کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ گداگری قانون پاس ہوچکا ہے۔ اس کے تحت زبردستی کسی کو بھیک مانگنے پر مجبور کرنا اور گداگری کروانا جرم ہے اور ایسا کرنے والے کو 5 لاکھ روپے جرمانہ یا ایک سال قید کی سزا ہوگی۔ اس کے علاوہ بے گھر افراد اور بھکاریوں کے لیے ‘’دارُ الکفالہ’’ قائم کیا گیا ہے۔ مجسٹریٹ گداگروں کو بطور سزا دارُ الکفالہ بھیج سکتا ہے جہاں گداگری کے خلاف ان کی ذہن سازی اور تربیت کرتے ہوئے اس لعنت سے چھٹکارا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔

قانون کے تحت پولیس کو پیشہ ور گداگروں کو گرفتار کرنے کا اختیار ہوگا۔ انتظامیہ کو مطمئن کرنے کے بعد گداگر یا بے گھر فرد دارُ الکفالہ چھوڑ سکتا ہے، لیکن اس قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کی موجودگی میں گداگر دندناتے پھر رہے ہیں۔

ایک اور بات جو توجہ طلب ہے کہ حکومت نے قانون سازی کرلی ہے اور سماجی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر نادار، غریب اور ضرورت مند افراد کے لیے زکوٰۃ پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ اور احساس کیش پروگرام موجود ہے جس کے تحت مستحقین کو نقد رقم دی جارہی ہے جب کہ مسافروں یا بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہیں قائم کردی گئی ہیں جن میں رہایش اور کھانا مفت دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت پشاور میں موبائل کچن کا آغاز ہوچکا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بڑی تعداد رفاہی ادارے بھی بڑی تعداد میں غریب اور مستحق افراد کی مدد کررہے ہیں، لیکن شہر کے اہم اور بارونق مقامات پر بھکاریوں کی بڑی تعداد اسی طرح نظر آرہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ اسی سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے سوشل ڈپارٹمنٹ کے ذمہ دار افسر حبیب آفریدی سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون موجود ہے، لیکن ہر سرکاری محکمے کے ذمہ داروں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ جب قانون یا اعلیٰ حکام کی ہدایات پر مکمل عمل درامد میں کم زوری دکھانے کا سوال کیا جاتا تو ان کا جواب ہوتا ہے وسائل کی کمی ہے اور یہی جواب مجھے بھی ملا۔ میرا سوال کہ بھیک مانگنے والوں میں تو اضافہ ہو رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بھائی یہ پیشہ ور گداگروں کے لیے ایک ایسا نفع بخش کاروبار بن چکا ہے جس میں ایک بھکاری یومیہ کم از کم دو ہزار روپے کماتا ہے۔ یہ ایک مافیا کی صورت اختیار کرچکا ہے اور ان گداگروں سے ایک منظّم اور باقاعدہ نیٹ ورک کے ذریعے پوری پلاننگ کے ساتھ یہ کام کروایا جارہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پشاور میں موجود گدا گروں کے گروہوں میں اکثر کا تعلق سندھ اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع سے ہے جو رمضانُ المبارک میں زکوٰۃ، خیرات اور صدقات کا سلسلہ بڑھنے کی وجہ سے شہر کا رخ کرتے ہیں، اگر انہیں گرفتار کرنا شروع کردیا جائے تو کہاں رکھا جائے گا، کیوں کہ دارُ الکفالہ وغیرہ میں اتنی گنجائش نہیں‌ ہے۔

چند روز قبل نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا تو میں نے ایک بھکاری کو اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے مالی مدد کی اپیل کرتا دیکھا، اسے بتایا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے تمام شہریوں کے لیے صحّت انصاف کارڈ شروع کر دیا ہے جس سے کسی بھی اسپتال سے دس لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتے ہو۔ اس کا جواب تھا میں جاہل ہوں، میرے پاس موبائل فون نہیں ہے جس سے خود کو رجسٹرڈ کروا کر سہولت سے فائدہ اٹھا سکوں۔ مجھے لگا کہ وہ صرف بہانہ بنا رہا ہے اور مفت کی کمائی کا جو مزہ اسے لگ چکا ہے، وہ نہیں چھوڑنا چاہتا۔

ان حالات میں نظر تو یہی آتا ہے کہ جہاں ایک مافیا گداگری کو دھندا اور مضبوط و منظّم گروہ نفع بخش کاروبار بنا چکا ہے، وہیں حکومت اختیار اور قانون ہونے کے باوجود کم زور ہے اور کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں بھی عوام کو ان گداگروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

غربت، مفلسی، لوٹ مار اور گداگری پہلے بھی ہمارا مسئلہ رہا ہے، لیکن آج جب اعداد و شمار بتارہے ہیں کہ پاکستان میں کرونا کی وبا میں تیزی آئی ہے اور مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس طرف بھی سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort