The news is by your side.

کراچی: این اے 249 پر انتخابی گہماگہمی میں ‘پانی’ کی دہائی

خصوصی رپورٹ: وقاص جاوید آرائیں

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 249 پر ضمنی انتخابی دنگل 29 اپریل کو ہوگا جہاں گزشتہ دنوں انتخابی مہم زوروں‌ پر تھی۔ سیاسی جماعتوں کے نام زد امیدواروں نے اجتماعات کے دوران حسبِ روایت مخالف جماعتوں کو عوامی مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مخالفین پر مختلف الزامات عائد کیے۔ مقامی لوگوں سے کارنر میٹنگ اور اجتماعات کے دوران ایک بار پھر سیاسی اکھاڑے کے امیدواروں نے مسائل حل کرنے کے وعدے اور بہت سے دعوے بھی کیے ہیں۔

این اے 249 گنجان آبادی پر مشتمل حلقہ ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والےلوگ آباد ہیں اور اس حلقے میں تقریباً تمام جماعتوں کا ووٹ بینک موجود ہے۔ یہی اس حلقے کی انفرادیت بھی ہے۔

اس حلقے میں 1988 سے لے کر اب تک چار جماعتوں کے امیدوار منتخب ہوچکے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے امیدوار فیصل واوڈا نے 35 ہزار 349 ووٹ حاصل کرکے کام یابی حاصل کی تھی۔ اسی انتخابی معرکے میں مسلم لیگ نواز کے راہ نما اور سابق وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف صرف 723 ووٹ کے فرق سے ناکام رہے تھے، انھوں نے 34 ہزار981 ووٹ حاصل کیے تھے۔

ماضی میں پاکستان مسلم لیگ نواز یہاں سے دو بار فتح اپنے نام کرچکی ہے۔ لیگی امیدوار میاں اعجاز شفیع (مرحوم) 1993 اور 1997 میں اس حلقے سے کام یاب ہوئے۔ 2002 میں ایم ایم اے، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں ایم کیو ایم یہاں سے کام یاب ہوئی تھی۔

1988 میں اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کو کام یابی ملی تھی۔

حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 3 لاکھ 39 ہزار ہے۔ اس بار ضمنی معرکے کے لیے یہاں‌ 276 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 185 کو انتہائی حساس اور 91 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

اس ضمنی انتخاب میں‌ پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے مفتاح اسماعیل، پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال، پی ٹی آئی کی جانب سے امجد آفریدی، پی پی پی کے قادر مندوخیل، ایم کیو ایم کے حاجی مرسلین سمیت 30 امیدوار میدان میں ہیں۔

گزشتہ دنوں اے آر وائی ڈیجیٹل نے اس حلقۂ انتخاب کے باسیوں اور سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے گفتگو کی جس کا مقصد انتخابی اکھاڑے کے امیدواروں کی ترجیحات اورعوام کے مسائل کو سمجھنا تھا۔

اس حلقۂ انتخاب کے مکینوں کا ایک بڑا مسئلہ میٹھے پانی کی عدم فراہمی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ بلدیہ ٹاؤن میں چند گھر ایسے ہیں جہاں دو مہینے میں فقط ایک گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ 11 سال پہلے پانی کی جو لائن ڈالی گئی تھی، وہ متعدد مقامات پر غیر قانونی کنکشنز کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں‌ رہی جب کہ علاقے میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس قائم ہوچکے ہیں۔ طرفہ ستم یہ ہے کہ انہی غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے بلدیہ ٹاؤن کے لوگوں کو پانچ سے چھے ہزار روپے کے عوض ٹینکر مافیا پانی فراہم کررہا ہے۔

علاقہ مکین پاکستان تحریکِ‌ انصاف (پی ٹی آئی) سے سخت مایوس نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کے نام پر فیصل واوڈا کو ووٹ دیا، مگر انھوں نے الیکشن میں‌ کام یاب ہونے کے بعد اپنے حلقے کا رخ ہی نہیں‌ کیا اور اپنے ووٹروں کا حال تک نہ پوچھا۔ وہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل رہے ہیں، لیکن اپنے ووٹروں کے لیے پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی تک ممکن نہیں‌ بنا سکے۔

اس علاقے میں‌ ‌پانی کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے باعث مکینوں کی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پانی سپلائی کا نظام جو لائن مین چلا رہے ہیں، وہ ‘سیاسی’ ہیں اور اس حلقے میں صرف ان علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے جس میں مخصوص جماعت کا ووٹ بینک ہے یا پھر ان لوگوں کو پانی ملتا ہے جو ان کی مٹھی گرم کرتے ہیں۔ یعنی لائن مین کو بخشش کے نام پر ہفتہ وار اور ماہانہ رشوت دیتے ہیں۔

یوں‌ تو اس حلقۂ انتخاب کے مکینوں کی مشکلات اور ان کے مسائل کی فہرست طویل ہے، لیکن پانی وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے حصول کے لیے انھیں ماہانہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس علاقے کے مکینوں کی اکثریت دیہاڑی دار ہے یا یومیہ اجرت پر کام کرتی ہے، جب کہ کئی خاندانوں کے سربراہ معمولی نوکریاں کرکے اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ بھرتے ہیں۔ جو لوگ سرکاری یا پرائیوٹ اداروں میں ملازم ہیں‌، ان کی ماہانہ آمدنی اتنی نہیں‌ کہ وہ گھر کے اخراجات پورے کرتے ہوئے ٹینکر کا پانی خرید سکیں۔

اب چلتے ہیں سیاسی اکھاڑے کے امیدواروں کی طرف جو چند دنوں سے بلدیہ ٹاؤن میں اپنی مہم کے دوران عوام سے میل جول بڑھاتے اور ان سے ووٹ دینے کی اپیل کرتے نظر آرہے تھے۔

امجد آفریدی (پی ٹی آئی امیدوار)
اے آر وائی ڈیجیٹل کی جانب سے پانی کے مسئلے پر سوال کیا گیا تو امجد آفریدی نے الزام عائد کیا کہ لائن مین پیپلز پارٹی کے بھرتی کیے ہوئے ہیں جو رشوت خور ہیں۔

امجد آفریدی نے کہا کہ “غیرمنصفانہ تقسیم نے بھی اس حلقے کے مکینوں کو پانی کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے۔ پی پی پی کے بھرتی کیے ہوئے لائن مین پانی چوری میں ملوث ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ڈی 19 پمپنگ اسٹیشن پر پی پی پی کے “غنڈے” قابض ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پانی کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے۔ امجد آفریدی نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے کئی بار اس پمپنگ اسٹیشن کو بنانے کی کوشش کی، مگر ان ‘غنڈوں’ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوا۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہاں سے دوبارہ منتخب ہوتی ہے تو قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی کرے گی اور مزید پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی تاکہ بلدیہ ٹاؤن کے لوگوں کو پانی مل سکے۔

امجد آفریدی کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا اس حلقے سے منتخب ہوئے تھے تو پی ٹی آئی نے پچھلے ڈھائی سال میں دو کروڑ روپے کے فنڈ جاری کیے تھے جس میں سڑکوں کی تعمیر اور دیگر چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے۔

اے آر وائی ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ وہ اس حلقے کے رہائشی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں جب کہ دیگر امیدوار مقامی نہیں ہیں۔

امجد آفریدی نے بتایا کہ انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے ان کے حالیہ دورۂ کراچی میں علاقے کے مسائل پر گفتگو کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ “میں نے وزیراعظم کو حلقے کے تین بنیادی مسائل سے آگاہ کیا جس میں سب سے پہلے پانی کی فراہمی، دوسرا یونیورسٹی اور تیسرا سرکاری اسپتال کی تعمیر تھا۔”

پی ٹی آئی امیدوار نے بتایا کہ عمران خان نے انھیں یقین دلایا کہ بلدیہ ٹاؤن کے تمام مسائل کو ہر قیمت پر حل کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے اندرونی اختلافات کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امجد آفریدی نے کہا کہ قیادت متحد ہے اور شہزاد اعوان کی بات کریں تو ان کے تحفظات دور ہوچکے ہیں اور 29 اپریل کو یہاں سے پی ٹی آئی ایک بار پھر کام یاب ہوگی۔

مفتاح اسماعیل (ن لیگی امیدوار)
سابق وزیرِ خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے حلقہ این اے 249 پر امیدوار مفتاح اسماعیل نے اے آر وائی ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز یہ ضمنی معرکہ ضرور جیت لے گی، کیوں کہ ڈھائی سال کے دوران پی ٹی آئی نے اس حلقے کے لوگوں کے لیے کوئی کام نہیں کیا اور لوگ تحریکِ انصاف سے سخت مایوس ہیں۔

انھوں نے بتایا، “فیصل واوڈا بلدیہ ٹاؤن کے اس حلقے سے منتخب ہوئے، وزیر برائے آبی وسائل رہے، مگر این اے 249 کے مکینوں کو پانی دینے میں ناکام رہے اور جس دن حلف اٹھایا اس کے بعد سے حلقے کا دورہ تک نہیں کیا۔”

ان سے پوچھا گیا کہ اگر عوام نے انھیں‌ ووٹ دیے تو پانی کا مسئلہ کس طرح حل کریں گے، کیوں کہ نہ تو وہ وفاق میں ہیں اور نہ ہی مرکزی حکومت کا حصّہ ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ “پیپلز پارٹی پچھلے تیرہ سال سے سندھ پر حکم رانی کر رہی ہے تو کیا اس نے پانی کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا؟ پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت ہے تو کیا اس نے بلدیہ ٹاؤن کے لوگوں کو پانی کی سہولت مہیا کر دی؟ اگر صرف مرکز میں رہ کر مسائل حل کرنے کی بات ہوتی تو یہ تمام جماعتیں اب تک مسائل حل کر چکی ہوتیں۔”

ن لیگی امیدوار نے بتایا کہ وہ سب سے پہلے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے خلاف کیس دائر کریں گے۔

“اگر کلفٹن کے لوگوں کو پانی مل سکتا ہے، گلشنِ اقبال کو مل سکتا ہے، پی ای سی ایچ ایس کو مل سکتا ہے تو پھر این اے 249 کے لوگوں کو پانی کیوں نہیں دیا جاسکتا؟”

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ اگر عدالت میں جانے سے بھی یہ مسئلہ حل نہ ہوا اور وفاق نے ان کو فنڈز جاری نہ کیے تو وہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں سے چندہ اکٹھا کرکے اس حلقے میں ہر صورت پمپنگ اسٹیشن تعمیر کرائیں گے اور مزید جو کچھ کرنا پڑا، کریں گے، لیکن‌ مکینوں تک پانی ضرور پہنچائیں گے۔

“میں وزیر خزانہ رہا ہوں، میرا کئی ایسی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے رابطہ ہے، میں ان سے چندہ جمع کروں گا، اگر وفاق نے مجھے ترقیاتی فنڈز جاری نہ کیے، مگر بلدیہ کے لوگوں کو پانی ضرور پہنچا کر رہوں گا۔”

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنے دورِ حکومت میں کئی میگا ترقیاتی منصوبے مکمل کیے تو پانی فراہم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔

حلقے میں ٹافیاں بانٹنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ لوگ “لولی پوپ” دیتے ہیں اس لیے وہ ٹافیاں بانٹ رہے ہیں۔

وہ پُرامید ہیں کہ نواز لیگ اس بار یہ سیٹ نکالنے میں ضرور کام یاب ہو گی۔

قادر مندوخیل (پی پی پی امیدوار)
پی پی پی نے قادر مندوخیل کو ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار نام زد کیا ہے۔ انھوں نے پی ٹی آئی کے امیدوار امجد آفریدی کے لائن مین سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ ضرور ہے کہ لائن مین پانی کھولنے کے لیے مقامی لوگوں سے رشوت لیتے ہیں جس کی شکایت انھوں نے صوبائی حکومت سے بھی کی ہے، لیکن ان کا تعلق پی پی پی سے نہیں‌ ہے۔

قادر مندوخیل کا کہنا تھاکہ یہاں سے منتخب نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اس حلقے میں بے شمار ترقیاتی کام کرائے جن میں پانی کی لائنیں بھی بچھائی گئی تھیں۔ انہوں نے اے آر وائی ڈیجیٹل کو بتایا کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ برسوں میں اس حلقے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 40 کروڑ روپے دیے جس میں کئی منصوبے مکمل کیے گئے اور کچھ پر کام جاری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پی پی پی پر ہمیشہ تنقید کی جاتی ہے کہ اس جماعت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔ “میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم جو پچھلے دس سال تک بلدیہ ٹاؤن کے لوگوں پر مسلط رہی، یہاں تک کہ ان کے بلدیاتی نمائندے بھی یہاں سے منتخب ہوئے، یہ لوگ کام کیوں نہیں کروا سکے۔ تنقید ان پر بھی ہونی چاہیے، صرف پی پی پی کو نشانہ بنانا درست نہیں۔”

مندوخیل نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی این اے 249 سے منتخب نہیں بھی ہوئی تو اس حلقے کے لوگوں کے لیے کام کرتے رہیں‌ گے، پانی کی حب ڈیم سے فراہمی کے لیے مزید پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی اور کے فور پراجیکٹ کو مکمل کر کے بلدیہ کے لوگوں کو ہر صورت پانی مہیا کیا جائے گا۔

مصطفٰی کمال (پی ایس پی امیدوار)
پی ایس پی کے چیئرمین مصطفٰی کمال اس حلقے سے ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے اے آر وائی ڈیجیٹل سے بات چیت کے دوران بتایا کہ جب انھوں نے اپنے دورِ نظامت میں خصوصاً بلدیہ ٹاؤن کے لوگوں کے لیے حب ریور، ناردرن بائی پاس سے ساٹھ لاکھ گیلن پانی کی پائپ لائن بچھائی، جس سے بلدیہ ٹاؤن کو تیس سال تک پانی ملنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ کافی سال بعد اس حلقے میں دوبارہ آئے اور پانی کے لیے لوگوں کو پریشان دیکھا اور فریاد سنی تو ایم ڈی واٹر بورڈ سے ماجرا پوچھا۔ معلوم ہوا کہ حب ریور سے بچھائی گئی پائپ لائن پر اب 178 غیر قانونی کنکشنز اور 25 غیر قانونی ہائیڈرنٹس بن چکے ہیں اور انہی ہائیڈرنٹس سے لوگوں کو پانی بیچا جا رہا ہے۔

جب سوال کیا گیا کہ وہ اس حلقہ انتخاب سے کام یابی کی صورت میں پانی کا مسئلہ کیسے حل کریں گے تو ان کا کہنا تھا، “میں سب سے پہلے اس حلقے میں چلنے والے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو بند کرواؤں گا جو کہ پانی کی عدم فراہمی میں اوّلین رکاوٹ ہیں۔”

اس سوال پر کہ انھوں نے اس نشست پر کسی کو نام زد کرنے کے بجائے خود ضمنی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا، مصطفٰی کمال نے بتایا “جتنا میں اس حلقے کو جانتا ہوں، اتنا کوئی نہیں جانتا، میں نے یہاں رات رات بھر جاگ کر کام کرایا ہے، میں اس حلقے کے لوگوں کے ہر مسئلے سے بخوبی واقف ہوں اور یہی وجہ تھی کہ میں نے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔”

اس حلقہ انتخاب میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے حوالے سے بینرز بھی نظر آرہے ہیں۔ اس بارے میں‌ سوال پر مصطفٰی کمال نے کہا کہ یہ مخالفین کی سازش ہے اور یہ تمام جماعتیں ایک ہوگئی ہیں جو انھیں ضمنی انتخاب میں‌ ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔

پی ایس پی چئیرمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ 29 اپریل کو این اے 249 سے کام یابی کے بعد حلقے کے باسیوں کی خدمت کے لیے دن رات ایک کر دیں گے۔

شہر کی موجودہ سیاسی فضا اور بدلتے ہوئے حالات میں‌ کراچی جیسے اہم تجارتی مرکز کے اس گنجان آبادی والے علاقے میں مصطفٰی کمال اور مفتاح اسماعیل نے مؤثر انتخابی مہم چلائی ہے۔ ان کی انتخابی مہمات اور علاقہ مکینوں کے خیالات جاننے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ کل انتخابی دنگل میں اصل مقابلہ مسلم لیگ نواز اور پاک سرزمین پارٹی کے مابین ہو گا اور انہی جماعتوں کے امیدواروں میں سے کوئی ایک فاتح قرار پائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort