The news is by your side.

تیمور سلیم جھگڑا پر مقدمہ: ہر خاص و عام کو ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں میل جول اور اجتماع سے بچنے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے، ساتھ ہی فیس ماسک کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کی جارہی ہے اور ہر ملک میں اس حوالے سے سختی کی جارہی ہے۔

کرونا کی وبا کے باعث جو صورتِ حال دیکھنے میں آرہی ہے، اس میں ہر خاص و عام خواہ اس کا تعلق سماج کے کسی بھی شعبے سے ہو، وہ اہم سیاست داں ہوں یا سماجی راہ نما یا پھر عوامی سطح پر مقبول شخصیت، اس پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح جہاں وہ خود کو اس وائرس سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، وہیں عوام کو بھی اس کی ترغیب دے رہے ہیں۔

یقیناً اگر ہم ہر قسم کی احتیاط کے ساتھ ان اصولوں کو اپنائیں تو خود کو ہی نہیں بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی کرونا وائرس کے خطرے کو کم سے کم کر سکتے ہیں اور اس کا پھیلاؤ روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جسے مکمل لاک ڈاؤن اور سختی سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے باعث اب کرونا فری قرار دیا جاچکا ہے۔ یہ تو ایک ترقی یافتہ ملک کی مثال ہے، لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں طبّی سہولیات بہت کم ہیں، وہاں اس مہلک وائرس کے خلاف غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کر کے ہم اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال چکے ہیں۔ عام لوگوں اور میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کی اموات اس کی واضح مثال ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس مہلک وائرس سے یومیہ اموات 35 ہوئیں جب کہ 1100 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ ان میں 80 فی صد کا تعلق پشاور سے ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں‌ اس عالم گیر وبائی مرض سے سب سے زیادہ متاثر شہروں میں مردان میں مثبت کیسوں کا تناسب تیس اعشاریہ چھ فیصد، پشاور تیئیس اعشاریہ نو فیصد، سوات انیس اعشاریہ چار فیصد اور نوشہرہ اٹھارہ اعشاریہ ایک فیصد ہے اور یہ چار شہر ملکی سطح پر سب سے متاثرہ سترہ شہروں میں شامل ہیں جہاں اب احتیاطی تدابیر پر عمل کروانے کے لیے سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج بھی آچکی ہے۔

اس تفصیلی تمہید کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اگر ہم ذمہ دار افراد کی طرح برتاؤ رکھیں تو اس بیماری کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں، لیکن آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس قسم کی تلقین تو ہر روز ہو رہی ہے اور اس کے لیے خصو صی پروگرام بھی چلائے جارہے ہیں، ضلعی انتطامیہ خلاف ورزی پر جرمانے اور کاروباری عمارتیں سیل کر رہی ہے تو اس میں غیر معمولی کیا بات ہے۔ جی تو اب آتے ہیں غیر معمولی اور غیر سنجیدہ عمل کی طرف جس کا مظاہرہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے دانستہ یانادانستہ طور پر کیا اور آپ نے بھی سنا اور پڑھا ہوگا۔ وہ اپنے حلقے کے ان افراد کی افطار پارٹی میں شریک ہوئے جو ان کے حامی بتائے جاتے ہیں اور تعداد کے حوالے سے یہ ایک بڑا پروگرام تھا جس کے لیے ان حکومتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوٹل کھلوایا گیا جن کی منظوری وزیرِ صحت دے چکے ہیں جس کے تحت ہوٹل میں کھانا بند کیا گیا ہے۔

ہم آئے روز پڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اور عوامی سطح پر غیر سنجیدگی دکھائی جارہی ہے جس پر ضلعی انتظامیہ گرفتاریاں، جرمانے اور کمرشل عمارتیں اور شادی ہال سیل کررہی ہے لیکن خاطر خواہ نتائج نہیں مل رہے تو اب فوج کی بھی مدد حاصل کرلی گئی ہے۔

چوں کہ ضلعی انتظامیہ عام افراد کے خلاف یہ کارروائی کرتی آرہی ہے تو کیسے ہوسکتا تھا کہ جب اے آر وائی نیوز سمیت تمام ریگولر اور سوشل میڈیا پر وزیر صحت و خزانہ کی دعوتِ عام کی خبر چلے تو وہ ایکشن نہ لے، لیکن جب تیمور سلیم جھگڑا جیسے اعلٰی تعلیم یافتہ اور انگریزی زبان میں پریس بریفنگ دینے کے لیے مشہور شخص جن کو وزیراعظم عمران خان نے خیبر ٹیچنگ اسپتال کے پروگرام میں ہدایت کی کہ وہ اردو میں پریزینٹیشن دیں، وہ ایسی لاپروائی دکھائیں تو عوام کو سمجھانا تو مشکل ہو ہی جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ کہ انتظامیہ نے ایف آئی آر اس واقعہ پر جو درج کرائی اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اتنے اہم مسئلہ جس کا تعلق انسانی زندگی سے جڑا ہے کیا اقدام اٹھاتی ہے، لیکن صوبائی وزیر کی اس غیر ذمہ درانہ حرکت سے ہٹ کر عوامی سطح پر کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ مزید بے احتیاطی کی گنجائش باقی نہیں اور اگر اب بھی ہم نہ سمجھے تو جہاں انسانی زندگی سنگین خطرہ سے دوچار ہوگی وہیں سخت لاک ڈاؤن معاشی اور معاشرتی مسائل کو جنم دے گا جس کے باعث غربت، بے روزگاری اور کاروباری بندشیں دیکھنے کو ملے گی جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے کسی کرب سے کم نہیں ہوگا۔

اب چوں کہ سول اداروں کے ساتھ ہماری مسلح افواج جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے اب میدان میں اتر چکی ہے تو ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے کرونا وبا کو شکست دینی ہے اور اپنے آپ کو ہندوستان جیسی صورت حال سے بچانا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort