The news is by your side.

گود بھرائی کی رسم سے جڑا ایک دل آزار اور تکلیف دہ احساس

امتدادِ زمانہ کے ساتھ پاکستانی ثقافت میں تکلفات سے بوجھل، غیرضروری اور ایسے رسم و رواج شامل ہوچکے ہیں جو اکثر بد دلی، رنجش اور لڑائی جھگڑے کا سبب ہی نہیں‌ بنتے بلکہ بداخلاقی کی ایک مثال ہیں۔ گود بھرائی ایک ایسی ہی رسم ہے جس گویا ڈھول بجا بجا کر دنیا کو یہ بتانا مقصود ہے کہ خیر سے گھر کی بہو بیٹی امید سے ہیں۔ یعنی جسے خبر نہ ہو اسے ہوجائے!

بدقسمتی دیکھیے کہ ہمیں مغربی رسم و رواج اور اقدار کو اپنے تمدّن کا حصّہ بنانے میں کوئی شرم  محسوس نہیں ہوتی۔

 اسے ایک عام رسم سمجھا جاتا ہے اور شاید بیہودہ اور شرم ناک کہنے پر کچھ حلقے اسے دقیانوسی سوچ اور فرسودہ خیالی کہہ کر رد بھی کردیں، لیکن جب اس رسم کے ایک دل خراش پہلو کو زیرِ‌ بحث لایا جائے تو اسے افسوس ناک اور بدترین ہی کہا جائے گا۔ گود بھرائی کی رسم میں بیوہ اور بے اولاد یا ایسی شادی شدہ عورت جس کے ہاں مردہ بچّے نے جنم لیا ہو، شرکت نہیں‌ کرسکتی۔

یہ سلوک محلّے دار یا دور پرے کی رشتہ دار خواتین کے ساتھ نہیں کیا جاتا بلکہ خوشی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے اس موقع پر گھر ہی میں موجود اپنی ہی بھابھی، جٹھانی اور دیورانی جو ایسے کسی المیے سے دوچار ہوئی ہوں، انہیں بے حسی اور سفاکی سے اس موقع پر دور رکھتے ہوئے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گویا وہ ان کی خوشیوں کو نگل سکتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہم اتنی بڑی خوشی کے موقع پر اپنے جیسی احساسات اور جذبات رکھنے والی اپنے ہی گھر کی ایک عورت کی دل آزاری کا باعث نہیں بن رہے؟

کیا گود بھرائی کی رسم کے دوران ہم ان بے بس اور مجبور عورتوں کو بدنصیبی کا سرٹیفکیٹ نہیں‌ تھما رہے۔ غور تو کیجیے کہ ایسی خوشی جو ابھی مکمل نہیں ہوئی اور کوئی نہیں‌ جانتا یہ خوشی گود میں‌ آئے گی بھی یا نہیں، لیکن اس کے لیے ہم کسی کے ارمانوں کا خون کتنی آسانی سے کردیتے ہیں۔

ایک آنے والی جان کے لیے پہلے سے موجود ہنستی مسکراتی زندگی کو جو پہلے ہی اپنے ساتھ ہونے والے معاملات کی وجہ سے پریشان ہے، اور اس خوشی سے محروم ہے، ہم اسے تقریب میں شرکت سے کیسے روک سکتے ہیں؟

اس رسم کو منانے کا یا اس خوشی کے اظہار کی کوئی اور شکل بھی ہوسکتی ہے اور گود بھرائی کا اہتمام کرنے کے بجائے آپ اپنے ربّ سے خیر و عافیت کی دعا کیوں نہیں کرتے؟

گود بھرائی کی رسم جسے مغرب میں بے بی شاور بھی کہتے ہیں اور یہ حمل کے چوتھے یا آٹھویں مہینے میں منعقد کی جاتی ہے۔

تقریب کا پروگرام اور قسم قسم کے پکوان کے علاوہ ملبوسات سے لے کر جیولری اور میک اپ تک ایک طویل اور تھکا دینے والا یہ عمل پہلی بار ماں بننے والی خاتون کے لیے انزائٹی کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیوں کہ اس پوری مدّت میں ایک حاملہ عورت کو جس آرام اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے اور اس رسم کی تیّاریوں کے دوران وہ شدید متاثر ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بسنے والے خاندان سسرال میں قدم رکھتے ہی دیگر رسمیں‌ ادا کرنے کے دوران نئی نویلی دلہن سے کی گود میں چھوٹا بچہ (لڑکا) ڈالا جاتا ہے۔ اعتقاد یہ ہے کہ اس عمل سے جوڑے کے یہاں جو پہلی اولاد ہوگی وہ لڑکا ہوگا جس کی نہ تو کوئی سائنسی توجیہہ پیش کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مذہب میں اس کا کوئی تصور موجود ہے، لیکن ایسی رسموں کا اہتمام کرکے ہم پہلی ولادت میں بیٹی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس طرح صنفی تفریق کا آغاز کرتے ہوئے ہم شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے۔

ہم پہلے ہی دن اس خواہش کا اظہار کردیتے ہیں اور نو بیاہتا لڑکی کے دماغ میں بھی یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ وہ وارث ہی پیدا کرے گی۔

یہ سوچ کسی لڑکی کے لیے کس ذہنی تناؤ کا باعث بنے گی، ہم اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔

ایسی تقاریب اور رسموں کا اہتمام کرکے ہم اپنے معاشرے کو توہم پرستی، بدعقیدگی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہم انسانوں کو یا تو ڈراتے ہیں یا ان سے ڈرتے ہیں، لیکن ہم آپس میں پیار، محبّت نہیں بانٹتے اور ایک دوسرے پر توجّہ نہیں دیتے۔ فرد یا افراد کے مسائل اور ان کی مشکلات کا ادراک نہیں کرپاتے اور نکاح جیسے فریضے کی انجام دہی کے دوران ہی نہیں اولاد کی خوشی نصیب ہونے تک خاص طور پر عورت کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ ​

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort