The news is by your side.

بدعنوان افسران کی الٹی گنتی شروع؟؟

نئے کراچی پولیس چیف کی تعیناتی کے بعد اب صورتحال کیا ہوگی ہرمتعلقہ حلقے میں چہ مہ گوئیاں جاری تھیں اکثریت کا کہنا تھا کہ ایک ایسے افسر کو کراچی پولیس چیف بنا دیا گیا ہے جو فیصلہ کرتے وقت کسی کی نہیں سنے گا۔

 اس بات کا اندازہ ان افسران کو بھی ہوا جو سیٹ سنبھالنے کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی کی پہلی میٹنگ میں شریک ہوئے جہاں ان کو اندازہ ہوا کہ اب ایک اور اصول پرست ایڈیشنل آئی جی کراچی سیٹ پر آگئے ہیں اور سابقہ کراچی پولیس چیف کی رہی سہی کسر وہ پوری کرینگے، غلام نبی میمن اور عمران یعقوب منہاس میں جو ایک بات مشترکہ ہے وہ یہ ہے کہ دونوں منظم جرائم پیشہ عناصر کو ایک فیصد بھی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائیوں کی حکمت عملی تیار کرتے نظر آتے ہیں، کراچی میں اس وقت نمبر ایک پر موٹرسائیکل لفٹنگ نمبر دو پر موبائل چھیننا اور تیسرے نمبر پر اسٹریٹ کرائم ہے، جس کے سدباب کے لیے پولیس دن رات کام کرتی تو نظر آتی ہے۔

 میں نے موٹرسائیکل لفٹنگ سمیت کچھ دیگر مسائل پر اے آر وائے کے پروگرام باخبر سویرا میں اپنا موقف اعداد و شمار کے ساتھ بتایا جس پر مجھے پتہ چلا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی اس بات سے ناراض ہیں کہ میں نے ان کا موقف کیوں نا لیا، تو جناب اس کی وجہ تھی سندھ سرکار کی وہ پالیسی جس کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے کراچی پولیس کا مورال نیچے جاتا جارہا ہے، پولیس بدقسمتی سے اپنی کارکردگی کی تشہیر نہیں کرسکتی کیونکہ پولیس کے ہاتھوں میں سیاسی زنجیریں اور منہہ پر سیاست کی وجہ سے ٹیپ لگا کر کسی بھی بات کا جواب دینے سے باقاعدہ آرڈر دے کر منع کیا گیا ہے یہ آرڈر اگر سیاسی وزیروں مشیروں پر بھی لگایا جاتا تو اسے انصاف سمجھا جاتا لیکن بدقسمتی سے یہ آرڈر صرف کراچی پولیس کے سر پر تھوپ دیا گیا اور آج پولیس بڑی سے بڑی کارکردگی دکھائے یا پولیس پر کوئی الزام آئے پولیس اپنا موقف نہیں دے سکتی۔

بہرحال میرے اور ایڈیشنل آئی جی کراچی عمران یعقوب منہاس کے درمیان ایک ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں ان کی کیا حکمت عملی ہوگی اور ان کا کام کرنے کا انداز کیا ہوگا سب سے پہلےاے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبرسویرا میں چلنے والی خبر پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کا موقف سامنے آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ اے آر وائے  نے کراچی میں موٹرسائیکل لفٹنگ کے  جس معاملے کو اٹھاتے ہوئے لوکل پولیس کے کردار کے بارے میں بتایا تھا اس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ کراچی کے 31  ایس ایچ اوز کو 45 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہےاور  ان 31 تھانوں میں سے 25 تھانے وہی ہیں جن میں موٹرسائیکل لفٹنگ کی وارداتیں کی جاتی ہیں،  عمران یعقوب منہاس نے واضح اور کھلے الفاظ میں بتایا کہ علاقے میں ہر جرم کا زمہ دار ایس ایچ او ہوتا ہے ایڈیشنل آئی جی کے مطابق منشیات کے منظم کاروبارکے خلاف خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں اور اپنی خفیہ ٹیم کو منظم منشیات فروشوں کی کھوج میں لگا دیا ہےانہوں نے مذید انکشاف کیا ہے کہ ان کی ویجلینس ٹیم نے کراچی کے 4 مقامات سے منشیات خریدی، ان کا کہنا ہے وہ خود بھی سادہ لباس میں بھیس بدل کر مختلف جگہوں کا دورہ کرتے ہیں، ان کے مطابق منشیات کیماڑی، ڈاکس، لیاقت آباد ار عزیز بھٹی سے خریدی گئی اور مذید یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا، ان کا کہنا تھا منشیات کے خلاف رینجرز اور پولیس مشترکہ کارروائی کررہی ہے، پولیس کا انٹیلیجنس نظام بہت مضبوط ہے۔

 عمران یعقوب منہاس کے مطابق ان کی ڈی جی رینجرز سے 1 جبکہ ایس ایس پی سٹی سرفراز نواز کی دوملاقاتیں ہوئی ہیں،  ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی چند کالی بھیڑوں کی جانب سے لوکل منشیات فروش گروہوں کی سرپرستی کی جاتی رہی ہے رضویہ میں چپس والے کی جان جانے کے بعد سے منشیات اڈے کا مالک فرار ہے، منشیات فروشی میں اگر پولیس ملوث ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی، ان کے مطابق کیماڑی، سٹی، موچکو، ملیر، ایسٹ پی آئی بی میں منشیات کے اڈے ہیں منشیات فروشی میں ایک آپریٹر، ایک مڈل مین اور ایک منشیات کا اصل کردار ہوتا ہے اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اصل کردار پر کام کر رہے ہیں، عمران یعقوب منہاس کے مطابق ڈی آئی جی ساوتھ جاوید اکبر ریاض مسلسل منشیات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اصل کرداروں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، ساوتھ اور ملیر پولیس نے بھی کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہ بھی بتایا کہ کراچی کے تھانوں میں ہزاروں موٹرسائیکل کئی سالوں سے پڑی ہیں جس پر ہرزون کی 5 سے 6 ممبران پر مشتمل ٹیم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تھانوں میں موجود وہ موٹرسائیکلیں جن کے دعویدار نہیں ان لسٹ بنائیں گےجبکہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل نے بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور گذشتہ تین ماہ کے دوران چوری اور چھیننے میں کمی آئی ہے، ایس ایچ او گلشن اقبال پولیس اسٹیشن عبید کی جانب سے چوری میں ملوث ماسیوں کو جانتے بوجھتے چھوڑ دیا گیا تھا گھریلوملازماوں کو چھوڑنے پر بھی ایڈیشنل آئی جی کراچی نے سخت نوٹس لیا ہے ان کا کہنا کہ ایس ایس پی ایسٹ تحقیقات کر رہے ہیں، رپورٹ کا انتظار ہے۔

 اگر ایس ایچ او کی غلطی ہوئی تو اس کو سخت سزا دی جائے گی دوسری جانب تفتیشی پولیس کی بھی انسپکشن ٹیم تیار کی جارہی ہے، تھانے میں ایس او پی کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں ہوتی ہیں اور تفتیش افسران آپریشن پولیس کی ملی بھگت سے پیسے لے کر رات گھر پر گذارنے کے لیے ملزمان کو چھوڑ دیتے ہیں اس حوالے سے بھی ایک انسپکشن ٹیم بنائی جارہی ہے جو کہ  ایف آئی آر کے مطابق تھانوں کو چیک کرے گی، گرفتار ملزم اگر لاک اپ میں نہ ہوئے تو ایس آئی او کے خلاف کارروائی ہوگی، ماڈل تھانوں کے حوالے سے بھی بڑی خبر سامنے آگئی ہے کراچی میں تین ماڈل تھانوں کو تیار کیا گیا تھا لیکن ایڈیشنل آئی جی کے مطابق اب وہ کراچی کے ماڈل تھانے علیحدہ کرنے کا سوچ رہے ہیں اور متعلقہ تمام افسران کے ساتھ ایک مرتبہ ریویو کریں گے ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے مستقبل میں تمام تھانے اپنی سابقہ پوزیشن پر بحال کردیے جائیں کیونکہ عدالتیں آج بھی بہادرآباد اور فیروز آباد کو الگ تھانہ سنتی ہیں۔

 اے آر وائے نیوز پر ایف آئی آر رجسٹریشن فری کو افسران کی جانب سے از خود روکنے کی خبر بھی نشر کی تھی اس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ جو تھانہ سائل کا فوری مقدمہ درج نہیں کرے اس کے خلاف کارروائی ہوگی، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے صرف پانچ چیزوں پر فوکس کیا ہے جن میں گرفتاری، تفتیش، انٹیلجنس کلیکشن، چالان اور سزا ہے، ، ڈی آئی جی ٹریفک کو ماڈل سڑکیں تیار کرنے کا کہا ہے، شاہراہ فیصل، شاہراہ پاکستان 3 تلوار سمیت 5 سڑکیں ماڈل بنائیں گے،  شاہراہ فیصل پر احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی ہے۔

 آخر میں ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلی سندھ سے ملاقات کر کے ان کو کم سے کم ایس ایس پی رینک تک کے افسران کو میڈیا ٹاک کی اجازت دینے کی درخواست کریں گے تاکہ محکمہ پولیس دیگر صوبوں کی طرح اپنی کارکردی بھی دکھاسکے کیونکہ ایک پولیس افسر کا کسی بھی واقعہ کے فورا بعد آنے والے بیان بہت سے افواہوں کو توڑ دیتا ہے اور اصل صورتحال بھی واضح ہوجاتی ہے، کراچی میں امتحان پاس ایس ایچ اوز کے حوالے سے بھی عمران یعقوب منہاس کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او لگنے کی پالیسی تقریبا وہی رکھی جائے گی لیکن امتحان میں کچھ تبدیلی کی جائے گی جس میں انٹرویو دینے والے کا سابقہ ریکارڈ بھی دیکھا جائے گا کہ اس نے ماضی میں کہاں کام کیا، کریڈیٹ پر کونسے کیس اور کارکردگی مجموعی طور پر کیسی رہی۔

عمران یعقوب منہاس ک جارحانہ انداز بتاتا ہے کہ وہ بدعنوان افسران جو کراچی پولیس کے ماتحت آتے ہیں ان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ، عمران یعقوب منہاس سے متعلق میرا زاتی تجربہ کہتا ہے کہ وہ ایک ایماندار اور کام پر یقین کرنے والے افسر ہیں وہ جہاں بھی رہے اپنا کام کرتے رہے، ان کے پاس وسیع تجربہ تو موجود ہے لیکن کراچی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بہرحال ایک اچھی ٹیم کی ضرورت پڑے گی دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کو مطلوبہ تمام سہولیات میسر کی جاتی ہیں یا پھر پہلے سے موجود ٹیم سے ہی کام چلانا پڑے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

fethiye escort denizli escort denizli escort bayan diyarbakır escort diyarbakır escort bayan edirne escort edirne escort bayan erzincan escort erzincan escort bayan erzurum escort erzurum escort bayan gaziantep escort gaziantep escort bayan gümüşhane escort gümüşhane escort bayan hakkari escort hakkari escort bayan hatay escort hatay escort bayan ığdır escort ığdır escort bayan ısparta escort ısparta escort bayan istanbul escort istanbul escort bayan izmir escort izmir escort bayan karabük escort karabük escort bayan kars escort kars escort bayan kastamonu escort kastamonu escort bayan kilis escort kilis escort bayan kırıkkale escort kırıkkale escort bayan www.escortperl.com
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort