The news is by your side.

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا اور خدشات

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا دنیا بھر میں موضوعِ بحث ہے امریکا اور افغان طالبان میں‌ دوحہ معاہدے کے بعد ستمبر میں “نائن الیون” کے سانحے کو بیس سال مکمل ہورہے ہیں جس کے ساتھ ہی امریکا افغانستان سے انخلا کا عمل مکمل کرلے گا۔

اس حوالے سے خطّے کے دیگر ممالک کی جانب سے مختلف خدشات کا اظہار تو پہلے ہی کیا جارہا تھا، لیکن اب اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے، طالبان کے حملوں میں نہ صرف اضافہ دیکھا جارہا ہے بلکہ دارُالحکومت کابل کے قریبی اضلاع پر ان کا قبضہ بھی ہوتا جارہا ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے مکمل انخلا کے بعد طالبان آسانی سے کابل کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس پر قبضہ کرنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ گوکہ افغان حکومت ان دعوؤں کو مسترد کررہی ہے لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ نائن الیون کے بعد امریکا کے افغانستان پر حملے، طالبان کو پسپائی پر مجبور کرنے اور افغانستان میں اپنے فوجیوں کی قربانی دینے اور ایک لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی ہلاکت کا سبب بننے کے علاوہ کھربوں ڈالر خرچ کر کے اسے پُرامن اور خوش حال ملک نہ بنا سکا بلکہ تباہی و بربادی کی تصویر بنے افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل کر نکل رہا ہے۔ یہی نہیں‌ بلکہ اس کے ساتھ پاکستان جہاں خود کشں حملوں کا نام و نشان نہیں تھا اس کو بھی اس دہشت گردی کے دہانے پر چھوڑ رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کو اب تک 120 ارب ڈالر کے مالی و تجارتی نقصان کے علاوہ یہاں 70 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ امریکا کی دہشت گردی کے نام پر گزشتہ بیس سالہ اس ناکام اور سرد جنگ سے قبل افغانستان اپنی روایات اور قبائلی ثقافت کے تناظر میں خطے میں ترقی اور امن کی مثال آپ تھا جہاں ملکی اور غیر ملکی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ یہاں بہترین تعمیراتی ڈھانچہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ پشاور اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے لوگ تفریح کے لیے صبح کابل اور پشاور کے درمیان چلنے والی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس سے فائدہ اٹھاتے تھے لیکن حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ 1973ء میں اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ ان کے رشتہ دار داؤد خان نے الٹا تو اس وقت سے آج تک پارلیمینٹ کی موجودگی کے باوجود بیرونی مداخلت اور فوجی طاقت سے حکومت بنانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری رہا جس نے افغانستان کو خانہ جنگی کی بدترین مثال بنا دیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جب سے امریکی صدر جو بائیڈن نے پچھلی حکومت کے امریکی افواج کی واپسی سے متعلق طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے کی توثیق کی ہے اور اس انخلا کے لیے راوں برس یکم مئی سے 11 ستمبر تک کی تاریخ کا اعلان کیا ہے اس وقت سے افغان عوام اپنے مستقبل کے لیے فکرمند ہیں، کیونکہ ان کے مطابق اس معاہدے کی رو سے امریکا صرف اپنے فوجیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے طالبان کی سخت شرائط تسلیم کررہا ہے جو طالبان کو افغان حکومت پر فوقیت دینے کے مترادف ہے اور جس کے باعث طالبان اپنے پانچ ہزار قیدی رہا کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق رہا ہونے والے طالبان قیدی دوبارہ ان کارروائیوں کے لیے متحرک ہوگئے ہیں جس میں تازہ ترین افغان میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق وہ (طالبان) افغانستان کے 398 اضلاع میں سے 107 پر قابض ہوچکے ہیں جن میں وسطی افغانستان کا صوبہ بامیان، غزنی اور شمال میں بدخشاں کے اضلاع بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تاجکستان اور افغانستان کی سرحد شیر خان بندر بھی بدستور طالبان کے کنٹرول میں ہے جہاں طالبان نے دونوں ممالک کے مابین تجارت جاری رکھنے کے لیے افغان حکومت کے اہلکاروں کو برطرف کرکے اپنے اہلکار تعینات کردیے ہیں۔ طالبان کی حالیہ پیش قدمی ان کے 1996ء میں افغانستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں بشمول دارالحکومت کابل پر قبضہ کی یاد دلارہا ہے۔

اس وقت افغانستان کی مسلح تنظیمیں جن کو جہادی تنظیمیں بھی کہا جاتا ہے آپس میں نبرد آزما تھے اور شمال کو چھوڑ کر طالبان نے مشرقی اور جنوبی اضلاع بشمول دارالحکومت کابل پر قبضہ کرلیا تھا جو 1996ء سے 2001ء تک جاری رہا اور امریکا کے حملے کے بعد یہ قبضہ ختم ہوا لیکن اس دوران افغان تنظمیں خاموش تماشائی بنی رہیں اور موجودہ صورت حال میں بھی جب دوحہ معاہدے کے تحت غیرملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد جب بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے تو طالبان ان قبضوں کی بنیاد پر اپنی برتری جتاتے ہوئے افغانستان کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر اپنی شرائط منوانے کی کوشش کریں گے اور تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر افہام و تفہیم سے مسئلہ حل نہ ہوا تو افغانستان کے پشتون کے علاوہ دیگر نسلی گروہ جن میں تاجک، ہزارہ، ازبک اور دیگر شامل ہیں مزاحمت کا راستہ اختیار کرسکتے جس سے نہ صرف خانہ جنگی بڑھ سکتی ہے بلکہ افغانستان کی نسلی بنیادوں پر تقسیم کی تحریک کو بھی ہوا مل سکتی ہے۔

اسی لیے کوشش کی جارہی ہے کہ افغانستان کے پُرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے تمام گروپ دوحہ معاہدے کے مطابق بغیر بیرونی مداخلت کے مذاکرات کے ذریعے متفقہ لائحہ عمل پیش کریں جو کہ سیاسی طور پر تمام اقوام و قبائل کو منظور ہو۔

پاکستان کا کردار
افغانستان کی نصف صدی پر محیط شورش کے دوران پاکستان سرد جنگ سے دہشت گردی خلاف لڑی جانی والی جنگ تک ایک فریق کے طور پر جانا جاتا رہا ہے اور اس کو تقویت اس وقت ملی جب 1992ء میں ڈاکٹر نجیب کی افغانستان میں حکومت کا تختہ الٹا گیا تو اس وقت اسلامی جہادی کونسل قائم کرکے پشاور کے گورنر ہاؤس میں صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں عبوری حکومت کا اعلان کیا گیا اور پھر اقتدار برہان الدین ربانی کو منتقل ہوا لیکن مجاہدین کی آپس کی لڑائی میں شدت آتی گئی اور پھر طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا جس کو بعد میں پاکستان، سعودی عرب اور عرب امارات کی حکومت نے تسلیم کیا جو 2001ء میں امریکی حملے سے ختم ہوگئی اور افغانستان میں حامد کرزئی اور شمالی اتحاد کے مقتول رہنما احمد شاہ مسعود کے حامیوں کی حکومت قائم ہوئی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حکومت پاکستان سے نالاں تھی جس سے بھارت کو پاکستان کے خلاف سازش کا کھلا میدان مل گیا جس نے تحریک طالبان پاکستان نامی دہشت گرد تنظیم کو جنم دیا جس کے باعث پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا اس وقت سے یہ کوشش شروع ہوئی کہ افغان عوام میں پاکستان کا نہ صرف تشخص بہتر بنایا جائے بلکہ تمام گروپوں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں اور افغانستان میں سیاسی خلا کی شکل میں بے ہنگم نقل مکانی کو روکنے کے لیے پاکستان افغانستان سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ شروع ہوا جو نوے فیصد مکمل ہوچکا ہے جب کہ سیاسی مفاہمت کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نہ صرف دوحہ مذاکرات کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے افغان رہنماؤں سے ملاقات کرکے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و ترقی چاہتا ہے جس کے لیے Afghanistan Pakistan Action Plan for Peace and Solidarity (APAPPS) کے نام سے میکینزم کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جب کہ بین الافغان مذاکرات سے سیاسی حل کا بھی خواہاں ہے کیوں کہ پاکستان کی لیڈر شپ کے مطابق افغانستان کا فوجی حل اس کو نہ صرف خانہ جنگی میں دھکیل دے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی اس نازک صورتحال کے تناظر میں حکومت نے منتخب سیاسی قیادت کے لیے ان کیمرہ سیکیورٹی بریفنگ کا اہتمام بھی کیا ہے اور اس کا مقصد آنے والے خطرات کے پیش نظر ایسی پالیسی بنانا ہے جو پاکستان کا افغان مسئلہ میں غیر جانبدرانہ کردار یقینی بناسکے اور تحریک طالبان پاکستان اور داعش جیسی دہشت گرد تنظمیوں کو دوبارہ منظّم نہ ہونے دے اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات کو روک سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

fethiye escort denizli escort denizli escort bayan diyarbakır escort diyarbakır escort bayan edirne escort edirne escort bayan erzincan escort erzincan escort bayan erzurum escort erzurum escort bayan gaziantep escort gaziantep escort bayan gümüşhane escort gümüşhane escort bayan hakkari escort hakkari escort bayan hatay escort hatay escort bayan ığdır escort ığdır escort bayan ısparta escort ısparta escort bayan istanbul escort istanbul escort bayan izmir escort izmir escort bayan karabük escort karabük escort bayan kars escort kars escort bayan kastamonu escort kastamonu escort bayan kilis escort kilis escort bayan kırıkkale escort kırıkkale escort bayan www.escortperl.com
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort