The news is by your side.

افغانستان: اتحادی افواج کا انخلا، بے یقینی کی فضا اور خدشات

گولیوں کی بوچھاڑ، بم دھماکے، سیاسی انتشار، سماجی گھٹن، ہر طرف اسلحہ کی نمائش، جگہ جگہ ناکے، مشکلات، پریشانیاں اور خوف و ہراس کے ساتھ افراتفری اور غیر یقینی صورتِ حال۔ یہ تصویر ہے افغانستان اور موجودہ حالات کی۔

یہ اُس افغانستان کا نقشہ ہے جہاں سن 2001ء سے 2021ء تک امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کی طاقت ور افواج نے 20 سال تک جنگ، انتہا پسندی اور مختلف افغان گروپوں کے مابین مسلح تصادم اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور وہاں امن و امان، جمہوریت کی بحالی کے ساتھ سماجی، انتظامی، ثقافتی اور سیاسی استحکام کے لیے کوشش کی، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ آج بھی افغانستان عدم استحکام کا اور تباہی و بدحالی کا شکار ہے۔

طالبان 20 سال تک غیر ملکی افواج سے برسرِپیکار رہے اور امریکہ کے ساتھ فروری 2020ء میں دوحہ مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فورسز کی واپسی کو یقینی بنایا۔ افغانستان کے دارُالخلافہ کابل کے نزدیک غیر ملکی فورسز کا سب سے بڑا فوجی اڈہ بگرام بھی خالی ہوگیا ہے، لیکن دوسری طرف امریکہ اور دیگر بین الاقوامی قوتیں طالبان کو حملوں سے روکنے میں نہ صرف ناکام نظر آرہی ہیں بلکہ افغانستان کے 387 اضلاع میں سے امریکی خفیہ ادارے کے مطابق 120 پر طالبان قابض ہوچکے ہیں اور اپنی فکر اور سوچ کے مطابق اسلامی قوانین بھی نافذ کردیے ہیں جب کہ افغان حکومت ان اطلاعات کو مسترد کررہی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ افغان حکومت نے طالبان سے زیادہ تر علاقے خالی کرا لیے ہیں اور اب طالبان پسپائی اختیار کررہے ہیں لیکن دعویٰ اور تردیدیں یہ ثابت کررہی ہیں کہ افغانستان کے حالات امن کی بجائے تشدد کی طرف بڑھ رہے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں جب کہ امریکہ اور اتحادی افواج کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

افغانستان میں اتحادی افواج کا کردار اور واپسی
11 ستمبر 2001 میں جب امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا تو امریکہ نے اس کا الزام القاعدہ اور اس تنطیم کے سربراہ اسامہ بن لادن پر لگاتے ہوئے افغانستان پر حملے شروع کردیے۔ اس وقت افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی جو اپنے سخت گیر قوانین اور عورتوں پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے سیکولر افغان قوتوں اور مغربی دنیا میں بدنام تھے، لیکن اس بات کا اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان جیسے بدامنی کے شکار ملک میں اس وقت طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں نہ صرف امن قائم تھا بلکہ ہیروئن کی پیداوار بھی رک گئی تھی۔ البتہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ وہاں موجود تھے اور جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تو اس وقت طالبان تنظیم اور افغان حکومت کے سربراہ ملا محمد عمر نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرکے افغانستان میں ہی مقدمہ چلانے کی آفر کی جس کو رد کرتے ہوئے امریکہ نے حملہ کردیا۔

اس وقت طالبان مخالف شمالی اتحاد نے بھی امریکہ کو زمینی مدد دی جس کے باعث طالبان حکومت تو ختم ہوگئی لیکن ان کا وجود ختم نہ ہوا بلکہ القاعدہ بھی قائم رہی۔

اس وقت امریکہ اور دیگر اتحادی افواج نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ائے ہیں اور گزشتہ 20 سال اس بات کے گواہ ہیں کہ افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کیے گئے، ہزاروں لوگ مارے گئے یا ذخمی ہوئے لیکن امن کا یہ حال نکلا کہ جب دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان میں سب سے بڑے فوجی اڈہ، بگرام خالی کررہے تھے تو کوئی باضابطہ تقریب منعقد نہ کرسکے بلکہ افغان حکومت نے شکوہ کیا کہ اتحادی رات کے اندھیرے میں بھاگ گئے اور بگرام ائیر بیس کو بے یار و مدد گار چھوڑ گئے جس کے باعث مقامی لوگوں نے وہاں لوٹ مار کی۔

طالبان کی پیش قدمی اور طالبان مخالف اتحاد کی ملیشیا فورس کی تشکیل، نئی خانہ جنگی کی شروعات

اس وقت بین الاقوامی میڈیا میں طالبان کی پیش قدمی کی تازہ صورت حال سامنے آرہی ہے اور تمام ادارے امریکہ اور دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کی بنیاد پر دعوی کررہے ہیں کہ جونہی جولائی 2021 میں تمام سپاہیوں کی واپسی مکمل ہوگی تو طالبان قندھار اور کابل پر قابض ہو کر اپنی حکومت کا اعلان کردیں گے لیکن طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت بین الافغان امن مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے مسقبل کا حل نکالیں گے۔ تاہم اس بدلتی صورت حال میں افغان حکومت جو طالبان کو باغی گردانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ طالبان امن مذاکرات میں سنجیدہ نہیں بلکہ وہ اپنی مرضی مسلط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اسی لیے ان سے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے افغان حکومت کے سیاسی حریف رشید دوستم، عطا احمد نور، اسماعیل خان اور پکتیکا کے قبائل اور افغان حکومت کے اتحادی احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے متحر ک ہوگئے ہیں اور انہوں نے باقاعدہ اپنی ملیشیا فورس قائم کر لی جس کا مقصد افغان آرمی کے ساتھ مل کر طالبان کی پیش قدمی کو نہ صرف روکنا ہے بلکہ ان سے وہ علاقے بھی خالی کرانا ہے جو ان کے قبضے میں ہیں۔

مقامی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورت حال افغانستان کو نئی خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں برآمد ہوں گے جو افغانستان کی خون آلُود تاریخ میں ایک تاریک اور بھیانک باب کا اضافہ کرسکتی ہے۔

داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا پھیلاؤ
اقوامِ متحدہ کے ادارے انسٹیوٹ اور پیس کے مطابق 2016 تک داعش کے 4000 مسلح افراد افغانستان کے ننگرہار صوبے میں متحرک تھے جو بعد ازاں افغان حکومت اور اتحادی افواج کی کارروائیوں کے باعث 2000 تک محدود ہوگئے اور امریکہ کے دفاعی ادارے کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح افراد کی تعداد 3 سے 4 ہزار ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق افغانستان کی بگڑتی صورت حال ان تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کرے گی اور یہ اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرمیاں تیز کریں گے جس کی تازہ مثال صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں دہشت گردی کی تازہ لہر کی شکل میں نمودار ہورہی ہے۔

گلبدین حکمت یار کی خاموشی
افغانستان کی تازہ صورت حال میں جہاں طالبان اور طالبان مخالف قوتیں آمنے سامنے آرہی ہیں حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار، جو 90 کی دہائی میں افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے مختصر وقت کے لیے وزیراعظم رہے جو 1996 میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد روپوش ہوگئے جب کہ امریکہ اور اتحادی افواج کے افغانستان پر قبضے کے بعد ان سے برسر پیکار رہے تاہم 2016 میں موجودہ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ معاہدے کی صورت میں افغانستان کے سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئے، اس دوران ان کا اور ان کی پارٹی کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کیا گیا،
اب دوبارہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ گوکہ ان کے موجودہ صدر اشرف غنی سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

مسلح خواتین کا مارچ
طالبان کی پیش قدمی کے تناظر میں جہاں دیگر طالبان مخالف قوتیں ان کے سخت گیر قوانین کے خوف سے اتحاد تشکیل دے رہے ہیں وہیں افغانستان کے شمالی اور وسطی اضلاع میں خواتین نے مسلح ہوکر جلوس نکالے ہیں اور اس حوالے سے بڑا جلوس، صوبہ غور میں نکالا گیا۔ جس میں مسلح خواتین نے پیغام دیا کہ افغانستان کی مبینہ کرپٹ حکومت کو تو برداشت کرسکتے ہیں لیکن طالبان کو حکومت پر قابض ہونے نہیں دیں گے کیوں کہ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں طالبان نے جن اضلاع پر قبضہ کیا ہے وہاں خواتین کو باہر نکلنے پر پابندی عائد کی ہے البتہ طالبان ان اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں۔

نقل مکانی اور پاکستان پر اثرات
افغانستان کی تازہ ترین صورت حال خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے لیے مختلف حوالوں سے تشویش ناک شکل اختیار کر رہی ہے کیوں کہ پاکستان سی پیک کی صورت میں اقتصادی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے جس میں افغانستان کی وسطی ایشیا کے لیے راہ داری ایک کلیدی جزو ہے لیکن اس دوران امریکہ جو پہلے ہی سی پیک کا مخالف تھا اس کے افغانستان سے تیزی سے انخلا اور اس کے نتیجے میں بد امنی کی فضا کا پیدا ہونے، امریکی کردار پر سوالیہ نشان پیدا کیے ہوئے ہے جس پر پاکستان اور چین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تعاون سے حال ہی میں یہاں بسنے والے افغان مہاجرین کو واپس بھجنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور ان کے کیمپ بھی ختم کردیے تھے اب دوبارہ ایک اندازے کے مطابق 7 سے 10 لاکھ افغان باشندے نقل مکانی کرسکتے ہیں۔

گو کہ بتایا جارہا ہے کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی اور بین الاقوامی اداروں نے مدد کی تو افغان سرحد کے قریب کیمپ قائم کیے جائیں گے، لیکن پاکستانی حکومت کا خدشہ ہے کہ ان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروپ یہاں منظم ہوسکتے ہیں جس کے لیے فرںٹئیر کور اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے اور باڈر مینیجمنٹ کو بھی بہتر کیا جارہا ہے جب کہ افغان سر حد پر باڑ لگانے کا 90 فی صد کام پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

fethiye escort denizli escort denizli escort bayan diyarbakır escort diyarbakır escort bayan edirne escort edirne escort bayan erzincan escort erzincan escort bayan erzurum escort erzurum escort bayan gaziantep escort gaziantep escort bayan gümüşhane escort gümüşhane escort bayan hakkari escort hakkari escort bayan hatay escort hatay escort bayan ığdır escort ığdır escort bayan ısparta escort ısparta escort bayan istanbul escort istanbul escort bayan izmir escort izmir escort bayan karabük escort karabük escort bayan kars escort kars escort bayan kastamonu escort kastamonu escort bayan kilis escort kilis escort bayan kırıkkale escort kırıkkale escort bayan www.escortperl.com
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort