The news is by your side.

افغانستان میں طاقت وَر قوّتوں کی پسپائی، طالبان اور ’’گریٹ گیم ‘‘ کا تسلسل

یہ موسمِ سرما کی ایک صبح کا تذکرہ ہے۔ اتوار کا دن ہے اور عیسوی کلینڈر کے مطابق 1994ء کے فروری کی 20 تاریخ ہے۔ پشاور میں زندگی معمول کے مطابق ہے!

راقم اپنے گھر پر ناشتہ کررہا تھا کہ کالج کا ایک دوست جو صحافت سے وابستہ تھا، افراتفری کے عالم میں میرے گھر پہنچا اور ہانپتے ہوئے بولا: موٹر سائیکل نکالو، ورسک روڈ پر موجود نجی اسکول کی طرف جانا ہے۔ میں نے پوچھا کیوں، کیا ہوا ہے؟ اس نے بتایا کہ اسکول کی بس کو اغوا کر لیا گیا ہے، بچّوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھا کرنی ہیں۔

میں یہ بتاتا چلوں موبائل کی فون کی سہولت ان دنوں نہیں تھی اور رابطے کا واحد ذریعہ ٹیلیفون تھا اور چوں کہ ہنگامی حالت تھی تو فون پر رابطہ ناممکن تھا۔ میں نے دوست سے پوچھا، تمھیں کیسے معلوم ہوا۔ اس نے بتایا ٹی وی اور ریڈیو پر خبر چلی ہے۔ ان دنوں اطلاعات کا ذریعہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات ہوتے تھے۔ ڈش انٹیںا بھی نایاب تھا۔ یہ چونکا دینے والی خبر تھی۔ میں نے موٹر سائیکل نکالی اور دوست کے ساتھ روانہ ہوگیا۔

وہ جس اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتا تھا، اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں تھا اور دوست کو اسکول سے تفصیلات جمع کرکے اسلام آباد فیکس کرنا تھا۔ ہم جب اسکول پہنچے تو وہاں کہرام مچا ہوا تھا، پریشان حال والدین اور ان کے رشتہ دار جمع تھے۔ معلوم ہوا کہ اسکول کی بس میں 70 طلبا اور سات اساتذہ سوار تھے جو اسکول کی طرف سے پکنک پر جارہے تھے۔ جونہی پشاور کے جی ٹی روڈ پر بس پہنچی، تین مسلح افراد نے اسے روک لیا اور اندر داخل ہوگئے اور بس اغوا کرکے اسلام آباد کی طرف لے کر جارہے ہیں۔ ان دنوں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو تھیں اور وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں‌ تھاکہ اغوا کار کون ہیں اور طلبا کو اغوا کرنے کا کیا مقصد ہے۔

پشاور سے اسکول بس کے اغوا کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں‌ پھیل گئی تھی۔ جب یہ بس اسلام آباد پہنچی تو اغوا کاروں نے اس کا رخ افغانستان کے سفارت خانے کے طرف موڑ دیا اور جب بعد میں وہاں مذاکرات شروع ہوئے تو معلوم ہواکہ تینوں اغوا کار افغانستان سے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان میں پچاس ہزار افراد کے لیے خوراک بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں‌ جب کہ پانچ لاکھ ڈالر اور اِن (اغوا کاروں) کی بہ حفاظت وطن واپسی بھی یقینی بنائی جائے۔

یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے اس وقت کے مسلّح گروہوں جنھیں مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کو استعمال کرکے افغانستان کو غیر مستحکم حالت میں چھوڑ دیا تھا اور سرد جنگ کا فاتح بن کر اسی طرح چلا گیا تھا جیسے اب افغانستان سے نکلا ہے۔ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں ڈاکٹر نجیب کی کمیونسٹ حکومت دو سال تک قائم رہی جو کابل تک ہی محدود تھی۔ جیسے آج اشرف غنی کی حکومت کی ہے۔ ڈاکٹر نجیب بھی اس وقت تمام افغان دھڑوں سے مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے حل کی تجویز دیتے تھے لیکن اس کو سیاسی اور خارجی دباؤ پر نہیں مانا گیا جس کے بعد افغانستان میں جگہ جگہ وار لارڈز کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔

1992ء میں ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہوئی اور پشاور میں اعلان کے مطابق مجاہدین کے دھڑوں پر مشتمل حکومت بنی جس کے پہلے عبوری صدر صبغت اللہ مجددی اور پھر پروفیسر برہان الدّین ربانی بنے جب کہ وزیرِاعظم گلبدین حکمت یار تھے، لیکن ان میں آپس میں مسلح تصادم اور جھڑپوں نے تباہ شدہ افغانستان کو مزید تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل دیا۔ ان دنوں پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم تھے اور پاکستان نے خانہ جنگی کے باعث مزید افغان عوام کی پاکستان نقل مکانی روکنے کے لیے اپنی سرحد بند کی ہوئی تھی۔ وہاں غذائی اجناس کی کمی پیدا ہوگئی تھی اور اغوا کاروں نے اسی لیے غذائی اجناس کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ان کا یہ طریقہ خود افغانوں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا۔ اغوا کاروں نے اسلام آباد پہنچتے ہی چند معصوم بچوں کو رہا کر دیا تھا، لیکن بڑوں کو ایک دو دن تک مغوی بنائے رکھا۔

وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر آرمی اسپیشل سروسسز گروپ کے کمانڈوز نے آپریشن کرکے نہ صرف مغویوں کو بازیاب کرایا بلکہ اغوا کاروں کو بھی ہلاک کر دیا۔ اس دوران ہمارا دوست پشاور سے اپنے اخبار کو بذریعہ فیکس صورتِ حال سے باخبر رکھے ہوئے تھا۔

افغانستان میں طالبان کا ظہور
جیسا کہ اوپر تحریر کر چکا ہوں کہ 1990ء میں سرد جنگ اور روس کی پسپائی کے بعد امریکہ افغانستان کو مجاہدین کے رحم و کرم پر چھوڑ گیا تھا اور وہاں 1994ء تک بدترین خانہ جنگی، بدامنی، انتشار اور خوب لوٹ مار اور کرپشن دیکھی گئی اور پشاور میں اسکول بس کا اغوا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اس واقعے کے 8 ماہ بعد افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ وہاں مدرارس کے فارغ التحصیل اور طالب علم نوجوانوں پر مشتمل چند گروہوں نے بعض علاقوں کا کنٹرول سنبھال کر سخت قوانین نافذ کردیے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شرعی قوانین نافذ کررہے ہیں اور خانہ جنگی اور بدامنی سے تنگ آئے ہوئے عوام انھیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ چوں کہ مواصلات کے ذرایع محدود تھے، اس لیے افغانستان کے دور دراز اور شورش زدہ علاقوں سے آنے والی ان خبروں کی تصدیق آسان نہ تھی اور اطلاعات پر یقین کرنا پڑتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو سال بعد یعنی 1996ء میں طالبان کابل پہنچ گئے لیکن شمال کے علاقے ان کے کنٹرول میں نہیں تھے۔

کابل میں داخل ہونے اور مختلف علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے سب سے پہلے کمیونسٹ دور کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب کو جو اقوامِ متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ لیے ہوئے تھے، پکڑ کر باہر نکالا اور ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو ایک کھمبے سے لٹکا دیا گیا۔

یہ وہ دن تھے جب راقم نے پشاور میں جونیئر رپورٹر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا تھا اور یونیورسٹی میں قائم ایک مدرسے میں رپورٹنگ کے لیے جایا کرتا تھا جہاں افغان طالبان اور ان کے حامی اکٹھے ہوتے تھے۔ اس وقت خیبر پختونخوا این ڈبلیو ایف پی کہلاتا تھا، کے علاقے ملاکنڈ میں شریعتِ محمدی کے نام سے ایک تحریک مولانا صوفی محمد کی قیادت میں اٹھی تھی جس کے تانے بانے پھر تحریکِ طالبان پاکستان سے ملے۔

طالبان کی دعوت پر صوبہ ننگر ہار کا دورہ
جب طالبان نے کابل پر قبضہ مضبوط کرلیا اور پاک افغان سرحد طور خم سے ملحقہ صوبہ ننگرہار میں اپنا گورنر تعینات کیا تو پشاور سے میڈیا ٹیم کو مدعو کیا گیا کیوں کہ افغانستان کے زیادہ تر صحافی طالبان کی حکومت کے بعد ملک چھوڑ گئے تھے یا روپوش ہوگئے تھے۔ اس لیے پشاور سے میڈیا کو دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس وقت راقم ایک انگریزی اخبار کے ساتھ منسلک تھا اور افغانستان کا دورہ کرنے والی ایک ٹیم کے ساتھ وہاں گیا تھا۔

جب ہم طور خم پہنچے اور بتایا کہ طالبان کے ساتھ ننگر ہار صوبے کے دارالحکومت جلال آباد جارہے ہیں تو ہمیں جانے کی اجازت دے دی گئی جب سرحد پار کر کے افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو ہمارا استقبال کرنے والے طالبان نے پہلا سوال کیا کہ تم لوگوں کی تو داڑھی نہیں ہے، اور ایک ساتھی جس نے جینز اور شرٹ پہن رکھی تھی، اس کو کہا کہ تمہارا لباس اسلامی نہیں ہے۔ اس صورتِ حال نے ہمیں اس لیے مشکل میں ڈال دیا تھا کہ ہم پشاور سے آئے تھے اور اب انھوں نے ہمارے حلیے اور ظاہری وضع قطع پر اعتراض شروع کردیا تھا، لیکن اس یقین دہانی پر کہ آئندہ داڑھی کے ساتھ آئیں گے، اگے جانے کی اجازت مل گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ نماز کے وقت گاڑی روک کر نماز ادا کرنی ہے۔

ہم جب جلال آباد پہنچے تو بازاروں میں صرف مرد نظر آرہے تھے۔ کسی گلی، محلے میں خاتون نظر آئی تو وہ برقع پوش تھی۔ طالبان قیادت سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں سے تمام تصاویر اور تاریخی پینٹنگ ہٹا دی گئی تھیں جب کہ واش بیسن بھی بند کیے ہوئے تھے۔ گورنر ہاؤس میں قائم مسجد میں گورنر بیٹھے تھے جہاں ان سے ملاقات ہوئی جنھوں نے مسقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جس کا محور ان کی نظر میں اسلامی شریعت کے مطابق نظامِ حکومت چلانا تھا۔ اس ملاقات کے بعد ہم واپس پہنچے تو شام کے وقت بارڈر بند ہو چکا تھا، لیکن ہمیں پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی تھی۔

نائن الیون کا واقعہ اور پشاور کے حالات
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کی جانب سے صحافیوں کے لیے نتھیا گلی کے پُرفضا مقام پر ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا اور 9 ستمبر 2001 کو جب ہم وہاں اکٹھے تھے تو احمد شاہ مسعود جو طالبان کے خلاف محاذ کے کمانڈر اور افغانستان کے اہم سیاسی و عسکری راہ نما تھے، کو قتل کرنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اس وقت سب کی رائے تھی کہ افغانستان پر اس واقعے کے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے اور دو روز بعد یعنی 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا وہ بدترین سانحہ پیش آیا جس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔

ہم اپنی کانفرنس ادھوری چھوڑ کر جب پشاور پہنچے تو غیر ملکی صحافیوں کا ایک گروہ جن کا تعلق یورپ، امریکہ اور عرب ممالک سے تھا، ڈالروں سے بھرے تھیلے لیے چھوٹے بڑے ہوٹلوں قیام پزیر ہوچکے تھے اور سو سے پانچ سو ڈالر پر روزانہ کے حساب ان افراد کی خدمات حاصل کررہے تھے جو افغانستان کے حالات، پشاور میں طالبان کے حامیوں اور ان کے زیرِ انتظام مدرسوں اور ان خاندانوں کے بارے میں معلومات دے سکیں جو افغانستان میں طالبان کے سخت قوانین کی زد میں آنے کے بعد پشاور میں مقیم تھے۔

اس دوران راقم کی خدمات بھی ایک جرمن ٹی وی نے فیلڈ پروڈیوسر کے طور پر حاصل کی تھیں۔ چوں کہ ان حملوں کا الزام القاعدہ، اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں پر لگایا گیا تھا جو افغانستان میں مقیم تھے اور طالبان حکومت پر ان کی حوالگی کے لیے دباؤ تھا جب کہ وہ افغانستان میں مقدمہ چلانے پر اصرار کررہے تھے جس کے باعث یہ نظر آرہا تھا کہ امریکہ اور نیٹو افواج القاعدہ کے خلاف آپریشن کے نام حملہ کر دے گی تو پشاور میں طالبان کے حامی مدارس میں ان ممکنہ حملوں کے خلاف نہ صرف احتجاج شروع ہوگیا بلکہ کھلے عام چندہ کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور یہ سب غیر ملکی صحافیوں کی کوریج کا مرکز بن گیا۔

طالبان حکومت کا خاتمہ اور پشاور میں احتجاج
جب طالبان اور امریکہ کے مابین اسامہ بن لادن کی حوالگی کے متعلق کوئی معاہدہ نہ ہوسکا تو نائن الیون کے واقعہ کے ایک ماہ بعد 14 اکتوبر 2001 کو امریکی آپریشن اور طالبان مخالف افغان عسکری گروپوں کے تعاون سے مزار شریف سے طالبان حکومت کے خاتمہ کا آپریشن شروع کیا گیا جو اسی سال دسمبر میں طالبان کے آخری مضبوط گڑھ قندہار پر کنٹرول تک جاری رہا۔ جب طالبان حکومت کے خلاف زمینی و فضائی حملے شروع ہوئے تو پشاور میں جگہ جگہ شدید احتجاج دیکھنے کو ملے بلکہ باجوڑ میں مولانا صوفی محمد کی تنظیم نے لاٹھی اور ڈانڈ ا بردار لشکر تشکیل دیا تاکہ افغانستان جاکر امریکی فوج سے لڑا جائے جن میں اکثر کو پاک افغان سرحد پر روک لیا گیا۔ اس دوران جب یہ غیر ملکی صحافی طالبان کے حامی ان افراد کا احتجاج دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ ان کو حالات کا ادراک نہیں، طالبان اب قصہ پارینہ بن گئے ہیں اور ان کس احتجاج کوئی معنی نہیں رکھتا۔

طالبان کی واپسی اور گریٹ گیم کا تسلسل
جب امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان پر حملے اور طالبان مخالف قوتوں کے تعاون سے چار ماہ میں طالبان حکومت ختم کی تو اس وقت تاثر یہی دیا گیا کہ طالبان نامی تنظیم اور ان کا نظریہ دفن ہوگیا اور پاکستان کی سیکولر اور بائیں بازو کی جماعتوں کا بھی یہی دعوی تھا کہ طالبان دوبارہ منظرِ عام پر نہیں آئیں گے لیکن افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی جدید ٹیکنالوجی، مہلک ہتھیار، ڈیزی کٹر بم اور بے پناہ وسائل جہاں ان کی کام یابی یقینی نہیں بناسکے وہیں طالبان کی قوّت کو بھی توڑ نہ سکے اور جس قوّت کے خلاف وہ لڑنے اور اسے ختم کرنے آئے تھے اسی کے ساتھ فروری 2020 میں دوحہ قطر میں امن معاہدہ کرکے واپسی کی راہ لی۔

افغانستان میں نظریاتی، افرادی و تجارتی تسلط کی خاطر 1830 سے شروع کی جانے والی گریٹ گیم میں برطانیہ اور روس کے بعد اب امریکہ اور اس کے اتحادی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے جو بھرپور طاقت رکھتے ہوئے بھی افغانستان جیسے کم زور ملک اور اس کے پہاڑوں کو فتح نہ کرسکے اور کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ کی واپسی دراصل اس گریٹ گیم کا تسسل ہے جس کے تحت اس خطّے کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں زمینی تجارتی روابط اور معاشی ترقّی کو روکنا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر فساد برپا ہوتا ہے تو اس کو کیا نام دیا جاتا ہے، لیکن اگر طاقت ور قوتیں ماضی سے سبق حاصل کرکے اس خطّے میں امن، ترقّی اور خوش حالی کو فروغ دیں تو یہ ان کے حق میں بھی ہر لحاظ سے بہتر ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
Please follow and like us:

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

fethiye escort denizli escort denizli escort bayan diyarbakır escort diyarbakır escort bayan edirne escort edirne escort bayan erzincan escort erzincan escort bayan erzurum escort erzurum escort bayan gaziantep escort gaziantep escort bayan gümüşhane escort gümüşhane escort bayan hakkari escort hakkari escort bayan hatay escort hatay escort bayan ığdır escort ığdır escort bayan ısparta escort ısparta escort bayan istanbul escort istanbul escort bayan izmir escort izmir escort bayan karabük escort karabük escort bayan kars escort kars escort bayan kastamonu escort kastamonu escort bayan kilis escort kilis escort bayan kırıkkale escort kırıkkale escort bayan www.escortperl.com
atasehir escort sisli escort kepez escort escort bayan muratpasa escort