The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

عام آدمی کے مسائل کا ذمہ دارکون

بین الاقوامی تعلقات کو بحیثت مضمون پڑھا جائے تو اس میں بنیادی نظریات میں سے ایک نظریہ ’رئیلزم‘ ہے جس کے مطابق انسان قدرتی طورپرمفاد پرست ہے اور چوں کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے پالیسیاں بھی انسان بناتا ہے اس لئے اس نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے اس بات کے برعکس کہ ان ترجیحات سے بین الاقوامی سطح یا خطے پرکیا اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگردیکھا جائے تو انفرادی حیثیت سے لے کرکمیونٹی، معاشرے یا قوم اور بین الاقوامی برادری تک میں ہر کوئی اس بات کا ڈھونگ رچاتا نظرآئے گا کہ ہم انسانیت اور مذہب کے خیر خواہ ہیں جبکہ کہ حقیقت اس کے برعکس تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتی ہے۔

اگر اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم پاکستان کی 67 سالہ تاریخ کو سامنے رکھیں تو اسی ڈرامے کو دہرانے والے سب سے بڑے تین کردار آپ کے سامنے آئیں گے جن میں منفی سیاست کو فروغ دینے والے خبر رساں ادارے ،سیاست داں اور مذہبی رہنماء شامل ہیں جو اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے انسانوں اور ان کے ہر طرح کے جذبات کے ساتھ کھیل کر اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے ہر حد تک جاتے ہیں ہیں جس کے نتیجے میں وہ سب حالات پیدا ہوتے ہیں جن سے ہم بحیثیت قوم آج کل گزر رہے ہیں۔

میں ذرائع ابلاغ عامہ کا طالب علم ہوں اور یقیناًمیرا تجربہ بہت سے معاملات میں کم ہوگا تاہم اب تک جو مشاہدہ میں نے کیا وہ یہ ہے کہ مہنگے کپڑے پہنے گاڑی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سڑک پرچلنے والے عام آدمی کے مسائل کو نہیں سمجھ سکتا کیوں کہ وہ اس زندگی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جو سڑک پرہے میں ان بڑے صحافیوں، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کو صرف ایک تجویز دینا چاہوں گا کہ اپنی زندگی میں سے کچھ وقت فٹ پاتھ کے لئے مختص کریں تاکہ آپ لوگوں کو اندازہ ہو کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے کیوں کے سڑک کنارے بیٹھے ایک پریشان حال انسان کی زندگی کو جب تک آپ اسی کے انداز میں محسوس نہیں کریں گے آپ اس کے مسائل کو حل نہیں کر سکتے اور جب تک آپ ایسا کرنہیں کرسکتے تب تک بڑی بڑی باتیں کرنے اور جھوٹی ہمدردیاں دکھانے سے گریز کریں۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان مسائل کا حل ہے کیا؟ کچھ عرصہ قبل تک مجھے یہ لگتا تھا کہ اس ملک میں انقلاب آہی نہیں سکتا کیوں کہ ہمارے معاشرے میں سوچ کا فقدان ہے اس لئے انقلاب لانے کا واحد حل شاید تعلیمی اصلاحات لا کر نظام تعلیم کو بہتر کرنے سے ممکن ہے کیوں کہ جب تعلیم کے ذریعے لوگ دائرے سے باہرنکل کر سوچنا شروع کریں گے تو اس سے معاشرے پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے لیکن اب مجھے یہ سوچ اس لئے ٹھیک نہیں لگتی کیوں کہ اس ملک میں عام آدمی کو اس کے حقوق اس وقت تک نہیں ملیں گے جب تک یہ سیاسی مذہبی ،سیاسی اور صحافتی ٹھیکیدارعام لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا بند نہیں کریں گے کیوں کہ سوچ کو مثبت انداز میں پنپنے نہ دینے کے ذمہ داریہی لوگ ہیں اور اس وقت تک عام آدمی کے مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے وہ پستا رہے گا۔

Print Friendly, PDF & Email