The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

ہم اورہمارا تعلیم نظام

پاکستان سمیت پوری دنیا میں۸ستمبرکو تعلیم کا دن منایا جاتا ہے۔ پروگرامزکاانعقادکیاجاتاہے ۔ بہت سے لکھاری،ادیب ،دانشور،اساتذہ اور علماء اس دن تعلیم کی اہمیت پر اپنی زبان اور قلم کے ذریعے تعلیم کی اہمیت اور افادیت کا احاطہ کرتے ہیں اورکرنا بھی چاہیے کیوں کہ تعلیم ہی وہ واحد خوبی ہے جو انسان کواشرف المخلوقات بنادیتی ہے۔ قرآن میں رب کریم کا فرمان ہے’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘۔

لیکن تعلیم ۔۔۔؟ کیسی تعلیم۔۔؟ کیاتعلیم۔۔؟کونسی تعلیم۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جن کا جواب شاید کوئی نہیں دیتا۔ کیوں کہ دور جدیدمیں انسان جتنا تعلیم حاصل کرنے لگتاہے اتنا ہی اس کے اندر کا انسان اور انسانیت ختم ہونے لگتی ہے۔ایک شاعر نے بہت بہترین انداز میں یہی بات بیان کی ہے۔

 رہی تعلیم مشرق میں نہ مغرب میں رہی غیرت
یہ جتنا پڑھتے جاتے ہیں جہالت بڑھتی جاتی ہے

وطن عزیزپاکستان تعلیم کے لحاظ سے بہت ہی عجیب و غریب شہرت رکھتا ہے۔ مدرسے میں پڑھنے والے معلمین اورمتعلمین کالجز اور یونیورسٹیزمیں زیر تعلیم طلباکواسلام سے خارج تصورکرتے ہیں اور یہاں کے سٹوڈنٹ ان کوان پڑھ۔ کہیں سکول جانے والے ننھے پھولوں پرگولیاں چلائی جاتی ہیں تو کہیں مدرسوں میں علم کی طلب کرنے والوں کو دنیا کی نظر میں دہشتگرد اور شرپسند ثابت کیا جاتاہے۔ مزیدآنکہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں تعلیم اور قانون کے فیصلے کرنے والے سیاستدان ان پڑھ اوربے تعلیم ہیں۔

الغرض نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم کے مصداق پاکستانی قوم دین و دنیا دونوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﷲ نہ کرے۔

میری نظر میں آج پوری دنیا میں اگر کوئی قوم تعلیم کے معاملے میں تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے اور ڈوبتی جارہی ہے تووہ ہے پاکستان۔

نہ ہم دینی تعلیم میں کمال رکھتے ہیں اور نہ ہی جدید تعلیم کے لحاظ سے کسی بھی طرح دنیا کے تعلیم یافتہ ممالک کے صف میں کھڑا ہونے کے قابل ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کوئی ایک بھی ایسی خوبی نہیں جو ہم کو دنیا میں ممتاز کرے۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں مجھ سے سوال کیاگیاکہ ہمارے نظام تعلیم میں کس چیز کی کمی ہے؟ تو میں نے جواب دیا ’ ہمارے نظام تعلیم میں د وچیزوں کی کمی ہے ۔ نظام کی اور تعلیم کی‘۔ جی ہاں۔۔۔۔ ہمارے پاس نظام ہے نہ ہی تعلیم۔ اگر ہے تو بس ایک اندھیرنگری جس میں پیسے خرچ کرکے کچھ عرصہ کالج، یونیورسٹی جاؤ او ر پھر اسی تعلیمی اخراجات کی رسیدیں یعنی ڈگری لے کر نوکری کرو اورتنخواہ بمع رشوت لیتے رہو۔ ہم کو تعلیم سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔ ہمیں مطلب ہے تو بس اپنے بینک اکاؤنٹ سے،اپنی جائیدادوں سے اور اپنی ناجائربڑھتی ہوئی کمائی سے۔

قصہ المختصرہمارے ملک میں تعلیم نور نہیں فتنہ ہے بقول اقبالؒ

ﷲ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

یہ تو ہے ہمارے نظامِ تعلیم کا احوال اور جہاں تک نظام کی بات ہے تو ملک پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح تعلیمی نظام بھی۔۔۔۔۔ بس ﷲ ہی مالک ہے۔

طبقاتی نظام تعلیم جہاں پرایک طرف عام عوام کا استحصال کررہا ہے تو دوسری طرف ہمارے علم وعرفان کے لئے ہرلحاظ سے زہر قاتل ہے۔ ہمارے ہاں تعلیمی نظام ایک منافع بخش کاروبار ہے جس میں تعلیم یافتہ لوگ اپنا کاروبار کررہے ہیں بورڈ امتحانات ہوں یا مقابلے کا امتحان جس کا جتنا بس چلتا ہے اتنا ہی وہ اس بہتی گنگا میں نہاتا ہے اورمجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی تعلیمی ادارہ یا نظام اس لعنت سے پاک نہیں ہے(اہل ایمان سے معذرت کے ساتھ)۔

ہمارے ہاں کالجر اور یونیورسٹیز ایک تعلیمی ادارے سے زیادہ ایک دکان کی نیت سے تعمیر کئے جاتے ہیں۔ اعداد وشمارکے مطابق اس وقت پاکستان میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعداد ہزاروں میں ہیں جن میں ۹۵ فی صد اداروں کے مالکان اور اساتذہ گورنمنٹ سکول کالج یا یونیورسٹی میں ملازم ہیں اور وہاں سے موٹی تنخوائیں بمع تخائف وصول کرتے ہیں ۔ مگر وہاں کے کام نظام اور تعلیم کا اندازہ اپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ گورنمنٹ سکول کالج اور یونیورسٹی کاکوئی بھی استاد یا پروفیسر اپنے بچوں کو اس ادارے میں داخل کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کبھی ایسا کریگا۔

بس کہاں تک سنوگے کہاں تک سناؤں

آخر میں یہی کہوں گا کہ جب تک ہم صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نہ ہوں ہم کو تعلیم کا عالمی دن منانے کا کوئی حق نہیں۔ کیوں کہ یہ دن منانا ایسا ہی ہے جیسے کسی مقبوضہ غلام ملک کے لوگ آزادی کا جشن مناتے ہو۔ شاید اقبال ؒ کے یہ اشعار ہمارے لئے ہی وارد ہوئے تھے ۔

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے فکر کے موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگرصاحب کتاب نہیں

Print Friendly, PDF & Email