فاحکم بین الناس بالحق

عدالت میں انصاف ملتا ضرور ہے مگر کس کو؟ کیونکہ ہمارا فرسودہ پولیس کانظام اور عدالتیں آج بھی کسی غریب کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظرآرہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ ماتحت عدالتوں کے لنے نئی قانون سازی کرے ےاکہ غریب کو بروقت اور فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔ قارئیں میں آپ کی خدمت میں ایک کہانی گوش گزارش کرنا چاہتا ہوں۔

بوڑھے کسان کی 14 سالہ بیٹی کو امیر زمیندار اٹھا کر لے گیا اس کی عزت کو پامال کیا، اس کے بعد اسے اپنے چیلوں چمچوں کے حوالے کردیا، انھوں نے بھی اپنی وحشت و درندگی کا ہر تیر 14 سالہ بنتِ آدم پر برسایا، یوں زمیندار سمیت 13 درندوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی مظلوم لاچاراور بے بس حوا کی بیٹی ہمارے نظامِ انصاف کے چہرے پر طمانچہ رسید کرنے کے بعد دنیا سے کوچ کرگئی، بوڑھا کسان چینختا چلاتا زمیندار کے ڈیرے پر پہنچا اور روتے ہوئے کہا، تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی، کیوں کے بہت سے بیوقوفوں کی طرح یہ بیوقوف کسان بھی یہی سمجھتا تھا کہ پولیس کا اتنا بڑا ادارہ، عدالتوں کا اتنا وسیع نظام، کالے کوٹ میں ملبوس کالے کرتوتوں والے وکیل، عدالتیں،اوران کے ماتھے پر لکھی یہ آیت” فاحکم بین الناس بالحق‘‘ شاید اس کسان کو انصاف مہیا کردیں، اسی غلط فہمی میں وہ زمیندار کو یہ کہتا ہے کہ تمھیں اس کی سزا ضرور ملے گی، زمیندار نے دانت نکالتے ہوئے قہقہ لگایا اور بولا” آواز دو انصاف کو۔۔ انصاف کہاں ہے‘‘ کسان انصاف لینے کے لئے تھانے پہنچ گیا۔

موٹی موٹی مونچھوں والے صاحبِ تھانہ سے مخاطب ہو کر اپنی داستانِ غم کہہ ڈالی، تفتیشی افسر نے غصے والے انداز میں کہا جب تمہاری بیٹی کے ساتھ ریپ ہورہا تھا تو تم نے اسے بچایا کیوں نہیں، کسان نے جواب دیا حضور میں وہاں موجود نہیں تھا، اس تھانے دار نے کہا اگر تم وہاں موجود نہیں تھے تو کیسے کہہ سکتے ہوکہ تمھاری بیٹی کے ساتھ ریپ ہوا ہے؟ کسان نے کہا کہ وہ اس وجہ سے فوت ہوئی ہے، پولیس والے نے جواب دیا کیا تم ڈاکٹر ہو، تم نے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا ہے پولیس والے کے دو چار الٹے سوالات کے بعد کسان بغیرایف آئی آر درج کرائے واپس آ گیا، کسان نے بہت کوشش کی کہ اسے انصاف ملے، مگر اسے اس شکست و ریخت کا شکارمعاشرے میں سوائے مشوروں کے کچھ نہ مل سکا، کسی نے مشورہ دیا کہ، ’’بابا جی جو ہونا تھا سو ہو چکا اب کیچڑ میں پتھر مار کر کیا اپنا ہی چہرہ گندا کرنا‘‘۔ کسی ایمان والے نے یوں کہا کہ ’’سائیں سب اللہ پہ چھوڑ دو اللہ انصاف کرے گا‘‘،اور کسی نے توگھٹ تعویذ کا بھی مشورہ دے چھوڑا اور اسی طرح ایک اللہ والے نے دو رکعت نفل اور ایک درگاہ پہ چادر کا مشورہ بھی کسان کی نذر کردیا، ایک میری طرح کمزور ایمان والے بیوقوف نے ایسا مشورہ بھی دیا کہ ساتھ والے گاؤں کا وکیل ریاض بہت غریب نواز بندہ ہے اس کے پاس چلے جائیں وہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔

بوڑھا کسان انصاف کی تلاش میں وکیل ریاض کے در پر پہنچ گیا وکیل صاحب قانون کے متقاضیات کو پورا کرتے اس بندائے فقیر کو عدالت تک لے گے، کسان کو امید کی کرن نظر آنے لگی۔ آخر کار وہ دن بھی آگیا جب عدالت میں ایک طرف کسان اور دوسری طرف رمیندار کھڑا تھا، عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ایسا کوئی ثبوت اور میڈیکل رپورٹ موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ یہ جرم زمیندار نے کیا ہے، لہذا زمیندار کو باعزت بری الجرم کر دیا گیا، کسان پرتو جیسے قیامت ہی ٹوٹ گئی،اور اس نے عدالت میں روتے ہوئے زمیندار کو کہا ” تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں” (بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی) اور ساتھ یہ بھی کہا تم نے سچ کہا تھا ”آواز دو انصاف کو۔۔۔ انصاف کہاں ہے‘‘۔ کسان کے پاس کھڑے ایک صاحبِ مشورہ نے اسے مشورہ بھری تسلی دیتے ہوئے کہا” ہمت کریں خدا انصاف کرے گا، خدا سب دیکھ رہا ہے، کسان نے چیخ کر کہا،، سب کہتے ہو خدا دیکھ ریا ہے، کیا اس بے رحم سماج کی طرح خدا بھی تماشائی بن گیا ہے؟ مگر انصاف کا فقدان تہذیب کے آداب بھلا دیتا ہے، جب معاشرے سے انصاف ختم ہوجاتا ہے تو اس کا متضاد ظلم جنم لیتا ہے جب ظلم جنم لیتا ہے تو معاشرے میں سوائے برائی کے کچھ باقی نہیں رہتا، جب انصاف کی فراہمی کا فقدان آسمان کی بلندیوں سے باتیں کر رہا ہوتو ایسے میں منہ سے کفر ہی نکلتا ہے۔

حالیہ دنوں میں بھی لاہور میں ایک 10 سالہ لڑکی کو ماڈلنگ کاجھانسہ دےکر ہوٹل لے جا کرشراب پلا کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان میں سے5  کو گرفتار کر لیا گیا ہے مگر چھٹے کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے سر پر صاحبانِ اقتدار کا سایہِ شفقت ہے، بالفرض وہ درندہ صفت آدمی پکڑا بھی جائے تو کیا اس آدم وحوا کی بیٹی کو انصاف مل سکے گا؟ یا وہ بھی عدالتوں کے بیسیوں طواف کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہو جائے گی ” توبھی پاکستان ہے، میں بھی پاکستان ہوں‘‘ لوگ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے ۔ میں کہتا ہوں کیا دیکھ رہا ہے؟ اور آواز دو انصاف کو۔ انصاف کہاں ہے۔

ایسے معاملات میں کبھی کہا جاتا ہے کہ پولیس کی رپورٹ کمزور ہے اور تو کبھی کہا جاتا ہے کیس میں شوائد کم اور کمزور ہیں۔ لیکن میں سوال کرتا ہوں پارلیمنٹ سے کہ قانون سازی کریں تاکہ غریب کو انصاف بروقت فراہم ہو۔ آج بھی غریب مکڑی کے جال میں پھنس جاتا ہے اور امیر اس جال کو کاٹتا ہوا باہر نکل جاتا ہے۔

جہانگیر اسلم: جہانگیراسلم صحافی اوروکیل ہیں، گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے آپ اے آروائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ عدالتی معاملات پرگہری نظر رکھتے ہیں اوراسلام آباد بیورو میں کورٹ اینڈ انوسٹی گیشن رپورٹرکی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ آپ نے ایجوکیشن میں ایم اے اورایل ایل بی کررکھا ہے۔