The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

سندھ کا کوٹہ سسٹم‘ غربت میں اضافے کا سبب

سندھ میں دیہی اور شہری بنیادوں پر کوٹہ کا نظام بھٹوصاحب کے دور میں شروع ہوا۔ ابتدا میں اسے دس سال کے لیے لاگو کیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ نظام اب تک رائج ہے۔وفاقی اسامیوں میں دیہی سندھ کا کوٹہ11.4فی صداور شہری سندھ کا حصہ محض 7.6فی صد ہے۔سندھ کے علاوہ باقی کسی صوبہ میں دیہی اور شہری آبادی کی کوٹہ کے نظام میں تخصیص نہیں ہے۔ اس نظام میں شہری سندھ کے لیے تین شہر شامل ہیں: کراچی، حیدرآباد اور سکھر۔ان ہی شہروں میں اردو بولنے والے سندھیوں کی اکثریت ہے۔

کوٹہ نظام اور صنعتوں کوقومیائے جانے سے خصوصاً اردو بولنے والے تعلیم یافتہ اور تجارت اور صنعت سے وابستہ افراد کومعاشی اور سماجی طور پرنقصان پہنچا۔ نتیجہ کے طور پرسندھ میں آج ہم بڑے پیمانے پرکرپشن،اقرباپروری ، نااہلی اور میرٹ کا قتلِ عام دیکھتے ہیں۔چونکہ سندھ میں کرپشن زیادہ ہے،اس لیے نہ صرف اردو بولنے والے سندھی لوگوں کو متناسب نمائندگی نہیں ملتی، بلکہ وہ رشوت، نااہلی اور اقرباپروری سے دوہرے عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔

UNDPکی حالیہ رپورٹ کے مطابق کثیرالجہتی غربت(Multidimensional Poverty)مجموعی طور پر سندھ اور پاکستان   کے دیہی علاقوں میں یکساں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کے باقی صوبوں کے  دیہی علاقے جس کثیرالجہتی غر بت کا شکارہیں، سندھ مجموعی طور پراسی سطح کی غربت کا شکار ہے۔ کوٹہ نظام کے باوجود دیہی سندھ کی پسماندگی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ جب نظام اور حکمتِ عملی سیاسی مفادات کے لیے بنائی جاتی ہیں توان کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ UNDPکی حالیہ رپورٹ میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شہری سندھ دیگر صوبوں کے شہری علاقوں کی نسبت زیادہ کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے شہری علاقوں کے علاوہ شہری سندھ میں کثیرالجہتی غربت پنجاب ، خیبرپختونخواہ ، گلگت بلتستان اور آ زاد کشمیر کے شہری علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔

وفاقی کوٹہ میں بلوچستان کا حصہ چھ  فی صد اور شہری سندھ کا محض7.6 فی صد ہے۔ اگر میرٹ پر اسامیوں کو پر کیا جائے تو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کا تناسب یقینی طور پر زیادہ ہوگا۔ مگر محض آبادی کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو شہری سندھ کاوفاقی کوٹہ موجودہ تناسب سے زیادہ ہونا چاہیے۔ کچھ اخباری اطلاعات کے مطابق شہری سندھ کا ڈومیسائل لینا نہایت آسان ہے۔ کراچی اور حیدرآ باد کے حکومتی اداروں میں جانے کا مشاہدہ کیجیے توشاذونادر ہی اردو بولنے والے سندھی نظر آئیں گے۔

نجی شعبہ کے بڑھنے سے کسی حد تک اردو بولنے والے سندھیوں کی معاشی بقا ممکن ہوپائی۔ مگر اس کے باوجود انہیں ہر جائز کام کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ مقامی حکومتوں کانظام کراچی جیسے بڑے شہروں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ جماعتِ اسلامی کے نعمت صاحب کادور مثالی سمجھاجاتا ہے۔ان کے دورِنظامت میں کئی ترقی یافتہ کام ہوئے۔اس کے بعد مصطفی کمال صاحب کے دورِنظامت میں بھی شہر میں کئی ترقیاتی کام تکمیل پائے۔انہیں فارن پالیسی کے جریدے نے دنیا کا بہترین میئر بھی شمار کیا۔ ان دونوں دورِنظامت میں شہرِکراچی پرامن بھی رہا۔موجودہ حالات میں کم ازکم سندھ کے اندر میرٹ کا امکان نظر نہیں آتا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے گیارہ ارکان میں شہری سندھ سے کوئی نمائندگی نہیں۔ حال ہی میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کو بھی تسلیم کرنا پڑاکہ کوٹہ نظام میرٹ کا قتل ہے اور اسے ختم ہوجانا چاہیے ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے علاوہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں کوئی ایک بھی سرکاری یونیورسٹی پچھلے 45برسوں میں قائم نہیں ہوئی باوجودیکہ شہری سندھ کی آبادی تین کروڑتک پہنچ گئی ہے۔ حیدرآباد شہر جس کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہے وہاں کوئی ایک بھی سرکاری یانجی یونیورسٹی نہیں۔

کراچی میں دولاکھ افراد ہرسال رہائش کے لیے آتے ہیں۔کراچی کا ترقیاتی بجٹ اس سال دس ارب رکھاگیاہے۔چند بہتر رہائش کے علاقوں میں اس قیمت میں سوپلاٹس بھی شاید مشکل سے خریدے جاسکیں۔کراچی شہر کی آبادی اب ڈھائی کروڑ کو پہنچنے والی ہے۔کراچی شہر کا ملکی آمدنی میں 25 فی صد اور سندھ کی مجموعی آمدنی میں 80 فی صدحصّہ ہے۔دو تہائی سے زیادہ ملکی محصولات کراچی شہر سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ کوٹہ کے نظام نے سندھ کے دیہی علاقوں کو مزید مشکلات کا شکار کردیا ہے۔ لوگ کوٹہ نظام سے مستفید ہونے کے باوجود کام شہر میں کرناپسند کرتے ہیں۔

ASERادارے کی رپورٹ کے مطابق کئی ہزار اسکول دیہی سندھ میں محض کاغذ پر ہیں ۔ان اساتذہ میں اکثر کا تعلق دیہی سندھ سے ہے۔ایسے اساتذہ ہزاروں کی تعداد میں سندھ حکومت سے تنخواہ لینے کے باوجود کام نہیں کرتے جبکہ نقل کا رجحان سب سے زیادہ سندھ میں ہے۔ایک انگریزی اخبار کے مطابق گذشتہ سال لاڑکانہ میں سب سے زیادہ نقل کے175واقعات سامنے آئے۔ 68طلباء دوسروں کی جگہ امتحان دیتے ہوئے پائے گئے۔

چالیس سال سے زائد عرصہ میں دو نسلیں گزچکی ہیں اور صوبہ ابھی بھی مجموعی طور پر پسماندہ اور زیادہ کرپشن کا شکار ہے اب وقت آگیا ہے کہ صوبائی حکومت جو ایک طویل عرصے سے سندھ پر حکوم ت کرر ہی ہے ان اعدادو شمار کو غور سے پرکھے اور صوبے کے مجموعی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف پر مبنی فیصلے کرے ورنہ سندھ باقی ملک سے ترقی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email