پرانا پاکستان، نیا وزیراعظم اور ساجھے کی ہانڈی

قوم کو مبارک ہو بالآخر ہم تقریباً پونے چار سال تک نئے پاکستان میں مٹر گشت کرنے کے بعد واپس پرانے پاکستان میں آگئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ملک کے 23 ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا اور یوں پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوگیا کہ شیروانی ٹنگی ہی رہے گی، کام نہیں آئے گی۔

شہباز شریف کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاسی انتشار اور افراتفری بھی ختم ہوگئی ہے اور مارچ کے مہینے کے آغاز سے عدم اعتماد کے حوالے سے جو سیاسی ہلچل پیدا ہوئی تھی، وہ عدم اعتماد کی کام یابی اور شہباز شریف کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد کم از کم پارلیمنٹ کی حد تک تو سکون ہوگیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے استعفوں کے بعد ایوان میں اپوزیشن ہی نہیں رہی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اچانک اپنی ‘بیماری’ کا ٹوئٹر کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، اس لیے وہ نومنتخب وزیرِ اعظم سے حلف نہیں لے سکے اور ان کی جگہ سینیٹ کے چیئرمین نے شہباز شریف سے حلف لیا۔ صدر مملکت کا اچانک بیمار ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب پی ٹی آئی کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کے بعد دو صوبوں کے گورنروں نے یہ کہہ کر اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا کہ وہ کسی کرپٹ وزیراعظم کے ماتحت کام نہیں کرسکتے۔

ادھر شہباز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ہی خطاب میں مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے کرنے، اور یکم اپریل سے ایک لاکھ تک تنخواہ پانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد جب کہ پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سرکاری اداروں میں ہفتہ وار دو تعطیلات بھی ختم کر دی ہیں۔

اپنے اس خطاب میں انہوں نے عوامی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے حسب روایت سابق حکومت کی نااہلیوں کا پردہ بھی چاک کیا اور کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہونے جارہا ہے، 60 لاکھ لوگ بیروزگار اور 2 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیلے جاچکے ہیں، تین سال میں ریکارڈ 20 ہزار ارب روپے کے قرض لیے گئے لیکن کام کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر مہنگائی کم کریں گے، معیشت کو دوبارہ چلانے کی کوشش کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم اعلان یہ بھی کیا کہ مبینہ دھمکی آمیز خط پارلیمنٹ میں لایا جائے گا اور اگر خط میں بیرونی سازش کا رتی برابر شبہ ہوا تو وزارت عظمیٰ چھوڑ کر گھر چلا جاؤں گا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران عالمی برادری امریکا، بھارت، برطانیہ، ایران سمیت تمام ممالک سے اچھے روابط رکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جو اعلانات کیے ہیں، ان پر کس حد تک اور کب تک عمل درآمد میں کام یاب ہوتے ہیں۔ تاہم انہیں ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے ساتھ جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہوگا وہ اس ساجھے کی ہنڈیا کو جوڑے رکھنا ہوگا کیونکہ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا کہ ایسی کوئی حکومت تشکیل پائی ہو، حال ہی میں سابق ہونے والی پی ٹی آئی سمیت ن لیگ اور پی پی پی دونوں کو ساجھے کی ہانڈی والی حکومتوں کا تجربہ ہے اور اس کے نتائج سے بھی آگاہ ہوں گے، کیونکہ اس سے قبل جتنی بھی ایوان اقتدار کے چولھے پر جتنی بھی ایسی ہانڈیاں چڑھائی گئیں وہ بیچ چوراہے پر ہی پھوٹی ہیں اور عوام نے یہ منظر بارہا دیکھا ہے کہ باہم شیر و شکر رہنے والوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں تک بھی پہنچے ہیں۔

زیادہ دور نہ جائیں چند ہفتے پہلے ہی آج کی حکومت میں شامل کچھ جماعتیں سابق حکومت کی اتحادی تھیں، مفاہمت کے بادشاہ کہلائے جانے والے آصف علی زرداری نے اس سے قبل بھی پی پی پی اور ن لیگ کو اکٹھا کیا تھا اور 2008 میں بننے والی پی پی کی وفاقی حکومت میں ن لیگ بھی شامل تھی لیکن یہ لڑکپن کا عشق ثابت ہوا اور چند ماہ بعد ہی دونوں جماعتوں میں سیاسی طلاق ہوگئی جس کے بعد وہ ایک دوسرے کو چور لٹیرا کہنے کے ساتھ ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے بیانات دیتے رہے۔ میمو گیٹ اسکینڈل میں تو شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ کالا کوٹ پہن کر اپنی دانست میں پی پی پی حکومت ختم کرانے کے لیے سپریم کورٹ تک جاپہنچے تھے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ سیاسی اتحاد کتنے عرصے تک قائم رہتا ہے۔

اسی حکومت میں شامل ایم کیو ایم کا 34 سالہ پارلیمانی ماضی تو سب سے سامنے ہے جو 1988 سے لے کر اب تک کے عرصے میں‌ صرف 1993 سے 1996 تک حکومت سے باہر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم ہر حکومت کا حصہ رہی ہے اور مشرف کے دور کی حکومت کو چھوڑ کر ہر حکومت کو خدا حافظ کہتی آئی ہے۔ رہی اے این پی، بی اے پی و دیگر جماعتیں تو پاکستانی سیاسی روایت کے مطابق جس کے جب تک مفادات ہوں گے وہ تب تک ہی ساتھ ہوگا۔

شہباز شریف کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اب وفاقی کابینہ کی تشکیل اہم مرحلہ ہے، جس کے لیے وزیراعظم کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں، اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن پی پی پی کو اسپیکر شپ اور وزارت خارجہ کی پیشکش کرچکی ہے، تاہم پی پی وفاقی وزارتیں لینے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اس کی دلچسپی آئینی عہدوں میں ہے اور وہ صدر مملکت کے ساتھ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے عہدے لینے کی خواہاں ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کابینہ کی تشکیل کے لیے جو فارمولا طے کیا گیا ہے اس میں مسلم لیگ ن کے 12، پیپلز پارٹی کے 7 وزرا ہوں گے جب کہ جے یو آئی کے 4، ایم کیو ایم کے 2 ، بی این پی مینگل، اے این پی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کو ایک ایک وزارت دی جائے گی۔

شہباز شریف نے پی پی پی، جے یو آئی (ف) کے ساتھ متحدہ قومی موومنٹ، اے این پی، بی اے پی و دیگر جماعتوں کی مدد سے وزارت عظمیٰ کا تاج تو سر پر سجا لیا ہے مگر یہ ساجھے کی ہانڈی ہے اور اس میں ابھی سے ابال آنا شروع ہو گیا ہے۔

اس کی ابتدا تو وزیراعظم شہباز شریف کی اسمبلی میں تقریر کے بعد ہی ہوگئی جب ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے نومنتخب وزیراعظم کے خطاب میں متحدہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا ذکر نہ کرنے کا شکوہ کیا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے اپوزیشن کا ساتھ دینے کے باعث ہی شہباز شریف کو وزیراعظم کا منصب ملا ہے۔ انہیں اپنے خطاب میں ایم کیو ایم سے ہونے والے معاہدے کا ذکر کرنا چاہیے تھا جس کے بعد اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نے اتحادیوں میں سب سے پہلے ایم کیو ایم سے ملاقات کی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

میر تقی میر کی غزل کا ایک شعر ہے:

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

تو ابھی ابتدائے عشق ہے، منزل دور اور راستہ کٹھن ہے۔

روٹھنے، منانے کا رواج تو ہماری سیاسی ڈکشنری میں بہت ملے گا۔ مرحوم رحمٰن ملک اس حوالے سے کافی تجربہ کار تھے اور جب بھی اتحادی ادھر ادھر ہوتے تو یہ حرکت میں آجاتے اور انہیں کسی طرح رام کر لیا کرتے تھے۔ کیا شہباز شریف کے پاس کوئی مرحوم رحمٰن ملک جیسا باکمال ہوگا جو روٹھوں کو منانے کا تجربہ رکھتا ہو۔

یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ شہباز شریف نے جو دعوے اور وعدے کر کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے ان وعدوں کو وہ کیسے پورا کریں گے اور ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کو کیسے خوش رکھیں گے لیکن عوام فکر مند ضرور ہیں کیونکہ وہ 70 سال سے اپنے حکمرانوں سے صرف دعوے، وعدے اور سابق حکمرانوں کی برائیاں ہی سنتے آرہے ہیں اور اگر اب بھی ایسا ہی ہوا تو انہیں بڑی مایوسی ہوگی۔ شہباز شریف جنہیں سیاست کے ساتھ انتظامی عہدے پر کام کرنے کا طویل تجربہ ہے اور پنجاب بالخصوص لاہور اس کی ایک روشن مثال بھی ہے تو عوام کی ان سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس تجربے کو بروئے کار لا کر ان کے دکھوں کا مداوا کریں۔

ریحان خان: ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست اور معاشرتی مسائل پراظہار خیال کرتے ہیں.