The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

کیا اتحادی ہی موجودہ حکومت کی ناکامی کا سبب بنیں‌ گے؟

پاکستان میں نئی حکومت کو آٹھ روز گزر چکے ہیں۔ وقت کی گردش نے اپوزیشن کو ایوان اقتدار میں لا بٹھایا اور حکمرانوں کو سڑکوں پر نکال دیا ہے۔

شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد حسب روایت اپنے امور کی انجام دہی میں پھرتیاں دکھانی شروع کردی ہیں لیکن آٹھ روز گزر جانے کے باوجود اس اتحادی حکومت میں‌ وفاقی کابینہ تشکیل نہ دیے جانا ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

ہم نے اپنے گزشتہ بلاگ میں کہا تھا کہ ساجھے کی ہانڈی ہمیشہ بیچ چوراہے پر پھوٹتی ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تو یہی ہوتا دیکھا ہے لیکن ہانڈی میں ایک ہفتے کے دوران ہی ابال آنے لگے گا، اس کا اندازہ نہیں‌ تھا۔

ملک میں چند روز ہی سیاسی سکون رہا اور اب حکومتی کیمپ سے بے چینی ظاہر ہونے لگی ہے۔ شہباز شریف کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کابینہ کی تشکیل کے معاملے پر پی ڈی ایم اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں میں اختلافات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی سرخیل جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ کہا جارہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پارٹی کے بعض دیگر رہنما کابینہ میں شمولیت کے سرے سے مخالف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پی پی صرف آئینی عہدوں تک محدود رہے اور اس کی وجہ وہ مشکلات ہیں‌ جو مستقبل میں حکومت کو پیش آسکتی ہیں‌۔ پی پی پی اس حکومت کی ناکامی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانے کو ہرگز ہرگز تیار نہیں ہے اور پارٹی کے سینیئر رہنما بھی اس معاملے پر آصف زرداری کے ہمنوا ہیں۔ اس حوالے سے پی پی پی اور ن لیگ میں اختلافات بھی سامنے آگئے ہیں۔ پہلے پی پی نے وفاقی کابینہ میں شمولیت کو پنجاب میں آئندہ عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے مشروط کیا اور جب اس حوالے سے دونوں میں معاملات طے پائے تو پھر اہم وزارتوں پر اختلافات ظاہر ہوگئے۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ پی پی پی نے صدر، چیئرمین سینیٹ کے ساتھ چاروں صوبوں کی گورنر شپ مانگ لی ہے جب کہ کے پی کے اور بلوچستان میں دیگر اتحادی جماعتیں اپنے اپنے گورنرز کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ آصف علی زرداری ایک بار پھر صدر مملکت کا منصب سنبھالنے کیلیے تیار ہیں۔

ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جو صدر بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں، کی جماعت جے یو آئی ف بھی وفاقی کابینہ میں شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتی جب کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے صدر پاکستان بننے کا خواب ممکنہ طور پر پورا نہ ہونے کے سبب فوری نئے عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا اپنے مطالبے کی حمایت میں کہنا ہے کہ اقتدار کو غیر ضروری طور پر طول دینا ہمارا منشا نہیں، ہمیں فوری طور پر الیکشن چاہییں، قوم کو امانت واپس کرنا ہماری ذمے داری ہے۔

ن لیگ نے ایک بار پھر سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا کے مصداق چیئرمین سینیٹ کیلیے اسحاق ڈار کے نام کا اعلان کردیا ہے جو کہ ابھی تک ملک واپس بھی نہیں آسکے ہیں، ن لیگ کے اس اقدام نے پی پی کو مزید مشتعل کردیا ہے اور بلاول بھٹو جو کہ پی پی کے راضی ہونے پر ممکنہ طور پر وزیر خارجہ بننے جارہے تھے نے لندن کیلیے اڑان بھر لی ہے۔ دوسری طرف پی پی نے اس صورتحال میں آئندہ عام انتخابات کیلیے پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں سے درخواستیں بھی طلب کرلی ہیں۔

شہباز حکومت کی ایک اور اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم بھی وزارتیں لینے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ پہلے ایم کیو ایم کی جانب سے موقف آیا تھا کہ ہمارے لیے معاہدے کے نکات زیادہ اہم ہیں اور اس پر عملدرآمد دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ وزارتوں سے زیادہ اہم ہے۔ اب حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ایک نیا موقف سامنے آیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کنوینر نے کہا کہ یہ خاندانی سیاست ہے جمہوریت نہیں۔ تو اس موقف پر سوال تو بنتا ہے کہ کیا ن لیگ اور پی پی پی دونوں میں موروثی سیاست نہیں؟ 1990 سے ن لیگ اور 1970 سے پی پی پی کی سیاست خاندانی موروثیت کے گرد ہی تو گھوم رہی ہے۔ تو کیا معاہدہ کرتے وقت ایم کیو ایم دونوں جماعتوں کی یہ تاریخ بھول گئی تھی۔

موجودہ سیاسی صورتحال سے لگتا تو یہ ہے کہ مفاہمت کے بادشاہ جن کیلیے ایک جملہ بہت مشہور ہے کہ ‘ایک زرداری سب پہ بھاری’ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستانی سیاست میں فیصلے کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ سیاسی میدان میں سب پر بھاری ہیں۔

عدم اعتماد پیش کرتے وقت ہی ماہرین معاشیات سمیت سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں جو بھی حکومت آئے گی اس کیلیے ملک چلانا آسان کام نہیں ہوگا اور جلد یا بدیر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنا ہی پڑے گا۔ لیکن جہاندیدہ آصف علی زرداری نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا لالچ دے کر اس پر رام کیا اور اب خود کو ممکنہ طور پر چند ماہ یا چند ہفتوں کی حکومت میں کابینہ سے الگ تھلگ رکھ کر صرف آئینی عہدوں صدر، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر، صوبوں کے گورنرز تک ہی محدود رہنا چاہتی ہے۔ قیاس آرائیاں یہ کی جارہی ہیں کہ آصف زرداری ن لیگ کو موجودہ حکومت میں ناکام ثابت کرکے پنجاب میں اپنا راستہ صاف کرنے کے خواہشمند ہیں اور ممکنہ طور پر وہ آئندہ انتخابات میں ق لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے پنجاب میں الیکشن میں جانا چاہتے ہیں جب کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ن لیگ نے بھی اب آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں۔ صرف پی پی ہی نہیں جے یو آئی اور ایم کیو ایم بھی اس معاملے میں ایک ہی پیج پر نظر آتی ہیں۔

اس صورتحال میں ن لیگ ایک نئی مشکل میں پھنستی نظر آرہی ہے کیونکہ اگر وہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت کی ناکامی پر واویلا کرنے کے بعد اب اقتدار میں ہونے کے باوجود عوام کو مشکلات سے نہیں نکال پاتی تو آئندہ الیکشن کیلیے اس کے پاس کیا نعرہ یا جواز ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ چہرے پر ناکامی کی کالک ملنے کے بجائے جلد الیکشن کی طرف جایا جائے تاکہ ملک میں بھی سیاسی استحکام آسکے۔ ان حالات میں اگر ن لیگ اقتدار میں رہتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن نہیں بلکہ اس کی اتحادی جماعتیں ہی آئندہ الیکشن میں کامیابی کیلیے حکومت کیلیے مشکلات کھڑا کردیں اور ن لیگ پر یہ شعر صادق آئے:

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

Print Friendly, PDF & Email