The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

سیاسی اختلاف ضرور کریں، مگر دوستیاں، رشتے داریاں داؤ پر نہ لگائیں

چند سال قبل پڑوسی ملک کے ایک نجی ٹی وی چینل پر ڈراما “تُو تو مَیں میں” نشر ہوتا تھا جو ساس بہو کے روایتی جھگڑوں پر مبنی مزاحیہ کہانی تھی۔ ان دنوں ہمارا معاشرہ اسی ڈرامے کی جھلکیاں‌ پیش کررہا ہے جس کی اصل وجہ ہے سیاست اور ہمارے ‘پیارے’ سیاستدان۔

احمد اور مسعود بچپن کے دوست ہیں۔ احمد کی سیاسی وابستگی پی ٹی آئی اور مسعود کی وابستگی ن لیگ سے ہے۔ انہوں نے واٹس ایپ پر اپنے دوستوں کا ایک گروپ بنایا ہوا ہے جس میں یہ اپنے اسکول اور کالج کے دوستوں سے رابطے میں رہتے اور پرانے دن اور باتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں۔ دو ہفتے قبل عمران خان کی حکومت گئی تو سوشل میڈیا پر جیسے طوفان آگیا۔ ہر سیاسی جماعت کا سپورٹر اپنے اپنے سیاستدانوں کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بولنے لگا اور اس رجحان کا اثر اس گروپ پر بھی پڑا۔ اور جہاں دوست ایک دوسرے سے حال چال پوچھا کرتے تھے، اب وہاں سیاسی بحث زور و شور سے ہونے لگی اور آہستہ آہستہ یہ حد سے بڑھنے لگی۔ ہر شخص اپنے اپنے پسندیدہ سیاستدان کو ہی اس ملک کا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے لگا۔ یہ اگر یہیں تک رہتا تو پھر بھی صحیح تھا، لیکن بات آگے بڑھی اور لوگ سیاستدانوں کی حمایت کرتے کرتے دانستہ اور نادانستہ ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگے اور یہ مخالفت اتنی بڑھی کہ معمولی تبدیلی کے ساتھ اس ساری صورت حال میں‌ یہ شعر پڑھا جاسکتا ہے:
اختلاف جب حد سے بڑھا سارے آداب مٹ گئے
آپ سے پھر تم ہوئے پھر تو کا عنواں ہو گئے

گویا پرانی دوستی یاری بھی اس تُو تو مَیں میں کی زد میں آنے لگی اور تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد ختم ہونے کی نوبت آگئی۔ یہ تمثیل ہمارے زمینی حقائق کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں سوشل میڈیا اس لحاظ سے سب سے طاقتور میڈیا بن کر ابھرا ہے کہ یہاں ہر سچی، جھوٹی بات، تصدیق اور بلا تصدیق کوئی بھی خبر، تصویر، ویڈیو پھیلانے کی سب کو آزادی حاصل ہے۔ تو جب سے ہماری سیاست میں بھونچال آیا ہے اور عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ شہباز شریف ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں تب سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ دونوں جماعتوں کے سپورٹر اپنی اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق دلائل دے کر ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کوشش میں کئی معقول ونامعقول حرکات بھی کی جارہی ہیں جس میں سیاستدانوں کی کردار کشی، دانستہ یا نادانستہ جھوٹ کو پھیلانے میں مدد دینے جیسے کام تو ہو رہے ہیں لیکن ان دنوں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاست اور سیاستدانوں کی محبت میں برسوں سے دوستی کے رشتے میں بندھے دوست، خونی رشتوں والے ناتے جو پہلے سیاستدانوں کی محبت میں نوک جھونک تک ہی رہتے تھے اب سیاستدانوں کو چھوڑ کر باقاعدہ اور براہ راست ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں اور رکیک جملے بازیوں پر اتر آئے ہیں جو اب ایک انتہائی حساس معاملہ بنتا جارہا ہے کیونکہ یہ بلاوجہ کی بحث ان پیارے اور میٹھے رشتوں میں دراڑیں ڈال کر انہیں کمزور کرسکتا ہے۔

میرے ہم وطنو!
براہِ مہربانی میرے اس طرز تخاطب کو کسی اور پیرائے میں نہ جوڑیں بلکہ سنجیدگی سے غور کریں کہ کیا سیاست اور سیاستدانوں کے حوالے سے جتنا تناؤ ہم لے رہے ہیں اور اس فرسٹریشن میں خود ایک دوسرے کو ہی برا بھلا کہہ رہے ہیں کیا ہمارے “پیارے” سیاستدان بھی باہمی تناؤ کو اپنی ذات پر لاگو کرتے ہیں۔

انداز بیاں گرچہ میرا شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اترجائے میری بات

بہت سے لوگ آگاہ ہونگے کہ پاکستان میں اقتدار کی بساط بچھانے کیلیے سیاستدان باہمی رشتے داریاں مضبوط کرتے آئے ہیں۔ آپس میں یہ کتنا ہی ایک دوسرے کو برا کہیں لیکن اپنی رشتے داریاں خراب نہیں کرتے، اگر ن لیگ کا قالین اٹھا کردیکھیں تو اس میں پی ٹی آئی، ق لیگ، پی ٹی آئی کے لوگ دکھائی دیں گے، اگر پی ٹی آئی کا قالین اٹھائیں تو اس میں دیگر جماعتیں نظر آئیں گی۔ زیادہ دور نہ جائیں پی ٹی آئی کے اسد عمر اور ن لیگ کے زبیر خان آپس میں سگے بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی پارٹیوں کے انتہائی وفادار ہیں جو مخالف جماعت کیخلاف کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے لیکن کبھی اپنے رشتے پر حرف نہیں آنے دیتے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ایسی درجنوں مثالیں ہماری سیاسی تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔

کیا اب عوام بھی سیاستدان بن گئی ہے جو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگی ہے؟ تو بہت ہوگیا ایک دوسرے کی کھینچا تانی، سیاست ہوتی رہی ہے، ہوتی رہے گی، سیاسی شور ایسے ہی مچتے رہیں گے لیکن اس شور میں اپنی اقدار، دوستیاں، محبت، رشتوں کو نہ گنوائیں کیونکہ یہ رشتے صرف قیمتی نہیں بلکہ بہت قیمتی ہیں۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے جس کے اختتام پر اللہ تعالیٰ ہمیں بے حد نوازتا ہے اور عید جیسا تہوار منانے کا موقع دیتا ہے جس میں گلے لگ کر ایک دوسرے سے کدورتیں دور کی جاسکتی ہیں تو اگر اس بلاوجہ بحث مباحثے میں اگر آپ کا کوئی پیارا آپ سے ناراض ہوگیا ہے تو آپ ہی پہل کرتے ہوئے اس کی ناراضگی ختم کریں۔ یقین کریں آپ کی یہ پہل تعلقات کی بحالی اور مضبوطی کے لیے ایک جادو کی جپھی کا کام دے گی۔ اس بلاگ کا اختتام اس نظم پر ککرتا ہوں:

خوشحال سے تم بھی لگتے ہو
یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں
پر جاننے والے جانتے ہیں
خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں
تم اپنی خودی کے پہرے میں
اور دام غرور میں جکڑے ہوئے
ہم اپنے زعم کے نرغے میں
انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے
ایک مدت سے غلطاں پیچاں
تم ربط وگریز کے دھاروں میں
ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے
پچھتاوے کے انگاروں میں
خاموش سے تم ہم مہر بہ لب
جگ بیت گئے ٹُک بات کیے
سنو کھیل ادھورا چھوڑے ہیں
بنا چال چلے بنا مات کیے
جو بھاگتے بھاگتے تھک جائیں
وہ سائے رُک بھی سکتے ہیں
چلو توڑو قسم اقرار کریں
ہم دونوں جُھک بھی سکتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں