The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

مڈٹرم الیکشن کب ہوں گے ؟

قارئین جیسا کے آپ سب جانتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کے دارالحکومت اسلام آبادمیںطویل دھرنے جاری ہیں ، سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا جارہا ہے، دھرنوں کے باعث پید اہونے والی صورت ِ حال نے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ ن لیگ کی حکومت کیلئے 5 سال مکمل کرنا ایک خواہش اور خواب بنتا جارہا ہے ۔عمران خان نواز شریف کے استعفی ٰ پر اڑے ہوئے ہیں ،جبکہ لیگی قیادت نے واضح کر دیا ہے کے وزیراعظم استعفی ٰ نہیں دیں گے ۔ 65دن سے جاری دھرنوں میں جان ڈالنے کیلئے تحریک انصاف نے نئی حکمتِ عملی اختیار کی اور ملک کے مختلف شہروں میںاپنی طاقت کا مظاہر کیا اور دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک بھی اب مختلف شہروں میں طاقت کے مظاہرے کررہی ہے ،یہ بات واضح ہے کہ ان دھرنوں نے حکومت کی نیندیں حرام کردی ہیں اور مڈٹرم الیکشن کا اشارہ دے دیا ہے۔
دو روز قبل کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جلسہ کرڈالا اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کی ۔جلسے سے خطا ب کرتے ہو ئے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے وہی پرانے وعدے دہرائے جبکہ بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے جلسے میں لوگوں کی کم تعداد ہونے کا بھی اعتراف کیا ۔
ملکی سیاسی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والے مختلف سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مڈٹرم الیکشن 2015میں نظرآرہے ہیں ۔پچھلے دنوں ملتان میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں جاوید ہاشمی کی شکست نے تبدیلی واضح کردی ہے۔عوام بیدار ہوچکے ہیں، لوگ گھروں سے نکل رہے ہیں اور اپنے حق کیلئے آواز بلند کررہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اب جھوٹے وعدے اور دعوے نہیں چلیں گے۔
موجودہ حکومت کیلئے اس صورتِ حال سے نمٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ، عمران خا ن کے مختلف شہروں میں ہونے والے جلسے حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بنتے جارہے ہیں اور آنے والے وقت میں پنجاب میںعمران خان کی بھاری اکثریت کا اشارہ دے رہے ہیں۔حکومت کو چاہیئے کہ اپنی پالسیوں پر غور کرے اور اپنے ا و پر دھاندلی سے متعلق لگنے والے الزامات کا جواب دے ۔ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو اس کیلئے اپنا سیاسی سفر جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔سابقہ حکومت کی حالیہ الیکشن میںبد ترین شکست اس کی زندہ مثال ہے ، دیکھنا یہ ہوگا کہ ن لیگی قیادت اس بات کو کتنا اہمیت دیتی ہے ۔
کیا آئندہ انتخا بات میں ن لیگ کا بھی یہی حال ہونے والا ہے ؟ اپنی رائے سے آگاہ کریں

Print Friendly, PDF & Email