مدرسے اورمدرسے والے

مملکتِ خدادادِ پاکستان میں موجود مذہبی حلقوں نے توقع کے عین مطابق پاکستانی قوم کو ایک بار پھر شک و شبہہ کے دلدل میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ خدا کاشکر ہے کہ چاہے جنرل راحیل کے کہنے پرہی سہی مگریہ بل منظورتوہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اورسراج الحق صاحب کا رونا بنتا ہے کوئی بھی اس وقت ضرورروئے گا جب اس کے ووٹ بنک پہ اثر پڑے گا اور ایسی سوچ کے حامل لوگوں کو ہم نے خود ہی سر آنکھوں پر بٹھایا تھا ان لوگوں کو ملک میں عزت ملتی ہے بدلے میں ان کے گھروں اور علاقوں سے ہمارے قاتل برآمد ہوتے ہیں۔ ہم ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اوران کا قبلہ امریکہ کے سفارت خانوں میں ملتا ہے۔ میں ذاتی طورپرسمجھتا ہوں کی ان لوگوں کاراستہ روکنے میں ہم نے بہت دیر لگا دی ہے۔ اگرچہ میں نے صرف ان دو حضرات کا نام لیا ہے مگریہ فہرست تو انتہائی طویل ہے۔

اگر اس دن منور حسن کی زبان کھینچ لی جاتی جس دن اس نے طالبان کو شہید کہا تھا یا مولانا سمیع الحق کو اس دن پھانسی دے دی جاتی جس دن وہ ان کو اپنے بچے کہ رہا تھا یاجب لدھیانوی اسامہ کو شہید اعظم کہ رہا تھا اسے کسی توپ سے باندھ کر اڑا دیا جاتا، یا کوئی ایسا ہوتا جو افتخار چوہدری کا وہ ہاتھ کاٹ دیتا جس سے اس نے دہشت گردوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، یااس دن شہباز شریف کو کٹہرے میں لایا جاتا جس دن اس نے طالبان کے نظریے کو اپنا نظریہ کہا تھایاان بھیڑیوں کو اپنا سٹریٹیجک اثاثے کہنے والے کسی سپہ سالار کی وردی اتارلی جاتی تو آج ہم اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانے کی بجائے ان کے قہقہے سن رہے ہوتے۔

پچھلے چند دن سے میں الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا پہ ان نام نہاد دانشوروں کی تقریریں اورجذبات سن رہا ہوں۔ دلیل کی بات یہ ہے سب نہیں کچھ مدرسے یقینی طورپراس مائنڈ سیٹ کی نرسری ہیں۔ یہاں یہ لوگ پناہ لیتے ہیں، ان کو تربیت کا سامان یہیں سے مہیا کیا جاتا ہے اورسب سے بڑھ کر یہاں سے ان لوگوں کو وہ نظریاتی اساس ملتی ہے جس کی بنیاد پر یہ خود کو مارنے اوربم سے خود کو اڑانے پرتیارہو جاتے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ ملا فضل اللہ مدرسے سے پڑھا ہے۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ جامعہ حفظہ اب بلاشک وتردید پاکستان مخالف ایجنڈا پرعمل پیرا ہے۔ ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ اپنی مسجدوں کو ان ناپاک نظریات سے پاک کرو۔ مسجد خدا کی عبادت کے لیے بنی تھی اور ان مذہبی سوداگروں نے اسے مخالف فرقے کی تکفیر کا منبع بنا دیا ہے۔ خدارا مساجد کو آزاد کراؤ۔

دراصل ہمیں معاشرے میں متضاد رویے کا سامنا ہے؛ دو مختلف باتوں میں سے ہمیشہ ایک بات صحیح ہوتی ہے اور ایک غلط ۔ ایک جانب مولوی صاحبان رسول کریم (ص) پرکوڑا پھینکنے والی بڑھیا کا ذکر بڑے زور شور سے کرتے ہیں اور بدلے میں آپ کے عظیم الشان سلوک کا ذکر بھی بڑے اہتمام سے کرتے ہیں، پھر اس عرب بدو کا ذکر چھیڑتے ہیں جس کی اس قدر گستاخی کے باوجود آپ نے صحابہ کرام کو اس سے اچھا برتاؤ رکھنے کا حکم جاری کیا تھالیکن اگلے ہی لمحے وہ ممتازقادری، اسامہ بن لادن،ابوبکربغدادی اوران جیسے دیگر مذہبی جنونیوں کو بھی مجاہد، اسلام کے روشن ستارے اورپتہ نہیں کیا کیا القابات سے نوازتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے یا تو تسلیم کریں کہ ایسے لوگ واقعی فساد فی الرض کا باعث ہیں یاپھر رحمت اللعالمین (ص) کے عفو و درگزر سے بھرپورواقعات سنانے سے گریز کریں۔

View Comments (2)