The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

کیا یہ صحیح وقت ہے؟

فیصلے کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت تو قدرت کسی کسی کو عطاء کرتی ہے اور پھر فیصلوں کی توثیق کیلئے بھی قدرت کی خصوصی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ اہم فیصلے کرنے کیلئے  انسان اپنے تجربے اور علم کو روشنی کو اہمیت دیتا ہے۔  دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو کھڑے کھڑے فیصلہ کرلیتے ہیں اور پلٹتے ہی اس فیصلے سے مکر جاتے ہیں یا پھر منہ کی کھاتے ہیں۔مگر جہاندیدہ اور تدبیر سے کام لینے والے افراد ابھی بھی باقی ہیں اور تاریخی فیصلے کر رہے ہیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل کی ایک اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں فیصلے کرنے والے بروقت اور صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔

آج پاکستان کو عسکری قیادت کی سب سے بڑی تبدیلی کا مسئلہ درپیش ہے۔ پاکستانی عوام کی دلی خواہش ہے کہ موجودہ سپہ سالار کو ہی توسیع دی جائے۔ موجودہ جنرل جناب راحیل شریف صاحب‘ پوری دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ نے اپنی گرانقدر خدمات کی بدولت یہ نام اور مقام حاصل کیا گو کہ آپ کے دو انتہائی اہم حوالے بھی ہیں۔ اول آپ میجر شبیر شریف شہید کے چھوٹے بھائی اور میجر عزیز بھٹی شہید کے بھانجے بھی ہیں۔ دو ’نشانِ حیدر‘ جس خاندان کے سینے پر سجے ہوں وہ سینہ سکڑ ہی نہیں سکتا۔ ان کی رگوں میں دوڑنے والے لہو کی گرمائش پورے پاکستان میں محسوس کی گئی۔ آپ نے ملک اور قوم سے محبت کی حرارت اور گرمائش پوری افواج میں بہت ہی قلیل وقت میں منتقل کر دی اور پاک فوج کے وقار، عزم اور حوصلے کو چار چاند لگا دیئے۔

یقیناً جنرل راحیل شریف صاحب کی شخصیت کے سحر میں ساری دنیا جکڑی ہوئی ہے اور ساری دنیا پر پاک فوج کی ہیبت جنرل راحیل صاحب کی وجہ سے دوہری طاری ہے۔ آج پاکستانی افواج اسلام کے ان لشکروں کی مانند محسوس کی جاسکتی ہے جن کی کمان نامی گرامی مسلمان جرنیلوں کے سپرد ہوا کرتی تھی۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت نے پاکستانی فوج کی صلاحیتوں میں گراں قدر اضافہ کر دیا ہے۔ کسی نے خوب کہا تھا کہ ’جنگیں ہتھیاروں سے نہیں اور عزم اور حوصلے سے لڑی جاتی ہے‘۔ ہتھیاروں میں تو ہم الحمدوللہ خود کفیل ہیں مگر آج ہمارا حوصلہ اور عزم آسمانوں سے باتیں کرتا ساری دنیا دیکھ رہی ہے اور بہت خوبی سے محسوس بھی کر رہی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن اور پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں۔ گاہے بگاہے دنیا کو اپنی صلاحتوں کا جلوہ بھی دکھاتے رہے۔ دنیا کو پاکستان کی جوہری طاقت کا تو علم ہے ہی مگر ایسی عسکری قیادت بھی ہمارا ہی امتیاز ہے، یہ جنرل راحیل شریف صاحب کی شکل میں دنیا نے دیکھی۔ ہمیں یقیناً اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہم نے جنرل راحیل شریف صاحب کا دور دیکھا، ہم نے پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز’نشانِ حیدر‘ پانے والے دوشہداء کے خاندان کا چشم و چراغ اپنی تمام تر رعنائیوں اور تمکنت کے ساتھ دیکھا۔

وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف کےاعزازمیں الوداعی تقریب ہوگی

 جنرل صاحب اس طرح ہم لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر چلے جائیں گے، آج ساری قوم اس سکتہ میں ہے۔ ایسے سیاستدانوں کے حوالے جنہیں نا پاکستان کی فکر ہے اور نا ہی ہم جیسے پاکستانیوں کی۔ دونوں طرف کے پڑوسی ہمیں تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ دونوں جانب سے ہی روز بروز کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معصوم جانیں حب الوطنی کی خاطر اپنا نظرانہ پیش کئے جا رہی ہیں، اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے والوں میں خواتین اور مردوں کے شانہ بشانہ اس قوم کے معصوم بچے بھی شامل ہیں۔یہ دشمن  جو جنرل راحیل کی ہیبت سے خوفزدہ ہیں، کیا ان کے جاتے ہی یا اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتے ہی ہمیں کسی بڑی کاروائی کی توقع کر لینی چاہئے۔ ہمارا دشمن انتہائی درجہ کا بزدل ہے اور وہ ہمیشہ ایسے وقت کی تلاش میں رہتا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر وہ پاکستان کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچاسکے۔ آج کل کے حالات کے پیشِ نظر تقریباً ہر پاکستانی کے دل کی یہ خواہش ہے کہ جنرل راحیل شریف صاحب کم از کم ابھی اپنے عہدے سے سبکدوش نا ہوں اور اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں نبہائیں جب تک حالات کی کشیدگی میں کمی نا ہوجائے۔ ملک میں کرپشن کے خلاف چلنے والی مہم کسی منتقی انجام کو نا پہنچ جائے یا کراچی میں جاری آپریشن کے نتائج واضح طور پر دنیا کے سامنے نا آجائیں یا پھر کم سے کم ضربِ عزب کو اپنے انجام کو پہنچنے دیں۔ ابھی تو آپ گئے نہیں ہیں تو دیکھیں کس ہندوستانی کس طرح سے ہمارے معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہا رہا ہے۔ دشمن کا توپ خانہ پھر شعلہ اگل رہا ہے پھر معصوم لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں کیا آپ ان لاشوں کو ایسے ہی بے یارومددگار چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ آپ جو بھی فیصلہ کر رہے ہیں، کیا اس کا یہ صحیح وقت ہے اور کوئی بھی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجئےگا کیونکہ آپ کا یہ فیصلہ تاریخی ہوگا۔
Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں