The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

سی پیک اور گوادر‘ خواب سے تعبیرتک

گوادر بلوچستان کا وہ ساحلی شہر جسے پہلی بار پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے دشت میں دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ اس  ڈرامے کی داستان بہت لمبی ہے جسے تحریر کا حصہ بنانا ممکن نہیں تاہم ایک سین کے وہ جملے میرےذہن پر ثبت ہوگئے جب ایک ماہی گیر کا بیٹا اپنے علاقے کے میر معتبر کے صاحبزادے میر بیبرگ کو سمجھا رہا تھا  کہ اس شہر میں جیٹی بنے گی تو  ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے جس کی پر زور مخالفت میر بیبرگ کررہا تھا۔  اس ڈرامے کے آخر میں میر بیبرگ اپنے بچپن کے دوست اورعلاقے کے ماہی گیر کے بیٹے کی بات سے اتفاق کرلیتا ہے اور آنے والی ترقی کو تسلیم کرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔

انیس سو ستانوے کے بعد میں نے اس منظر کو ڈرامے نہیں بلکہ حقیقت میں دیکھا ۔انیس سو ستانوے کے میاں نواز شریف کے دور حکومت میں گوادر میں ملک کی تیسری بندرگاہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا۔  انیس سو ننانوے  میں آنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس پورٹ کے منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے کی مکمل کوشش کی ۔ گوادر پورٹ کے  پہلے فیز کا مکمل ہونا ہو‘ بلوچستان کے ساحل پر گڈانی سے لیکر گوادر تک کوسٹل ہائی وے ہو یا پھر میرانی ڈیم یہ مکران کیلئے ایک فوجی حاکم کا تحفہ تھے۔

makran-post-1

دو ہزار چھ میں گوادر پورٹ کا باقاعدہ افتتاح ہوا تاہم ایک سازش کے تحت اس پورٹ کا ناکام بنانے کی کوشش ہوئی اور ایک عالمی طاقت کی فرنٹ کمپنی کو اس پورٹ کو چلانے کا ٹھیکہ دیدیا گیا ، جہاں ایک طرف گوادرمیں ترقی کا آغاز ہورہا تھا وہیں سازشیں بھی جاری تھیں اور گوادر اور بلوچستان کی عوام کے تحفظات بھی تھے۔ ان تحفظات کو درست نہ کہنا بھی غلط ہوگا‘ روز اول سے گوادر کی ترقی اور صوبے کی ترقی کی نہ تو عوام نے مخالف کی اور نہ ہی بلوچ قوم پرست جماعتوں نے تاہم وہ اپنے تحفظات پر کچھ یقین دہانیاں چاہتے تھے جو ان کا حق تھا ‘ہے اور رہے گا۔  اس حقیقت کوتسلیم کئے بغیر نہ تو گوادر ترقی کرسکتا ہے نہ اسکی ترقی ثمرات ملک کے دیگر حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

میں پہلی بارگوادر پورٹ کے افتتاح کی تقریب میں شریک ہونے گوادر پہنچاتو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ لفظ گوادر کے بلوچی لفظی معنی کیا ہے اس بوڑھے بلوچ نے ہنس کا کہاکہ  اس کوہ باطل پر کھڑے اس پورٹ کو دیکھتے ہوئے سب سے اچھا احساس کیا لگتا ہے تو میراجواب تھا ،’یہاں کی ہوا‘ تو اس بوڑھے بلوچ کا جواب تھا اس بحر ِبلوچ سے آنے والی ہوا کو بلوچی میں گوات کہتے ہیں اور جہاں تم کھڑے ہو یہ پہاڑ اس ہوا کا دروازہ ہے۔  اس طرح اس شہر کے عام بلوچی لفظی معنی ہوا کا دروازہ کا بنتے ہیں جس پر مجھے ایسا لگا کہ ہوا کا دروازہ کہلانے والا یہ شہر ترقی کا دروازہ بننے جا رہا ہے تاہم میرا خواب یا میری سوچ عملی طور پر حقیقت نہیں بن رہی تھی۔

دو ہزار آٹھ میں پیپلزپارٹی کا دور حکومت تھا کہ گوادر شہر سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی کہ کیا گوادر پھر چائنا کو دے رہے ہیں ؟؟؟؟؟؟ میں نے کہا میرے علم میں ایسی کوئی خبر نہیں ہے ۔دلشاد دھانی مرحوم نے برجستہ کہا خبر میں نے آپ کو دے دی ہے،  تصدیق آپ خود کروالیں۔  بحیثیت صحافی اند نوں کراچی میں  ایک نجی  ٹی وی کے لیے پورٹس اینڈ شپنگ کی رپورٹنگ میری ذمے داری تھی۔ خبر کی تصدیق کیلئے تمام ذرائع استعمال کرلئےلیکن خبر کی تصدیق نہ ہو سکی ۔

makran-post-2

انہی دنوں میں چائنا کے منسٹر ٹرانسپورٹ کراچی میں پورٹ اینڈ شپنگ کے دفتر دورے پر آرہے تھے ہم کوریج کرنے پہنچے تھے کہ اچانک میری نظر غلام فاروق بلوچ پر پڑی جو وہیں موجود تھے ان سے ملاقات کرتے ہی سوال داغ دیا۔ واجہ !آپ یہاں خیر تو ہے، تو انہون نے مسکرا کرکہا سرکار کا ملازم ہوں سرکار کے بلانے پر آیا ہوں،  اس دوران وہ میٹنگ میں چلے گئے میٹنگ برخاست ہوتے ہی میں پھر غلام فاروق صاحب جو کہ چئیرمین تھے گوادر پورٹ اتھارٹی کے اور کراچی کے صحافی تو جانتے نہیں تھے ہر کوئی اس وقت کے وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری کی طرف لپکا تاہم میں نے غلام فاروق صاحب کو سائیڈ پر لیجا کر پوچھا کہ چائنا والوں سے آپ کی ملاقات مقصد کیا ہے ،  کہیں پورٹ چائنا کو دینے کی تیاری تو نہیں ہے حسب روایت وہ مسکرائے اور کہا مجھے مشکل میں  مت ڈالو لیکن سوالیہ اندازمیں ایک جملہ غلام فاروق صاحب کہہ گئے کہ سنگاپور اتھارٹی والوں نے پورٹ چلانی نہیں ہے‘ چائنا والے چلائیں گے ۔

 اس منصوبے سی پیک اور گوادر پورٹ سے جڑے ایک سینئر بیوروکریٹ جن سے دیرینہ مراسم بھی ہیں ملاقات ہوئی ہم نے تابڑ توڑ سوال کرڈالے وہ مسکرائے اور کہا کہ ماضی کو بھول جاؤ سی پیک اور گوادر پورٹ کا آپریشنل ہونے میں ہی ملک کی بقاء  ہے اور فیصلہ ساز ادارے اس پر کوئی کمپرومائیز نہیں کریں گے۔ رہے تمہارے بچکانہ سوالا ت اور سیاستدانوں کے تحفظات سب دور ہوں گے ۔سی پیک اور گوادر کے راستے  ترقی کا بہاؤ ملک میں داخل ہوگا۔

ان کی اس بات پر مجھے گوادر کے اس بزرگ کی وہ بات یاد آئی کہ گوادر کے بلوچی زبان میں لفطی معنی ہوا کا دروازہ کے ہیں اور اب یہ شہر بننے جارہا ہے پاکستان کی ترقی کا در وازہ جی ہاں سی پیک کا مکمل ہونا اور گوادر پورٹ کا آپریشنل ہونا اب دیوانے کا خواب نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے نومبر دو ہزار سولہ میں پہلا کانوائے تیرہ روز میں چائنا سے ہوتا ہوا گوادر پہنچ گیا اور پھر اس پورٹ سے سامان لے کر کوسکو ویلنگٹن نامی جہاز یہاں سے دو سو کنٹینرز کو لیکر خلیجی اور افریقی ملکوں کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔

gwadar-post-1

 

اب جب میں موجود ہی گوادر میں تھا اور گوادر کے مقامی افراد سے نہ ملتا اور صرف سرکاری تقریب میں شرکت کرکے واپس کوئٹہ روانہ ہوجا تا تو یہ سراسر زیادتی ہوتی سرکاری تقریبات سے فارغ ہوتے ہی ہمارے اے آوائی نیوز کے نمائندے اللہ بخش کو رابطہ کرکے بتایا کہ میں کوہ باطل سے اتر کر گوادر دیکھنا چاہتا ہوں اس سفرمیں کوئٹہ کے صحافی دوست عرفان سعید اور جابر شاہ بھی ہمراہ تھے ۔گوادر فش ہاربرروڈ اور اس کی گردونواح کی آبادی آج بھی قدیم انداز میں بیٹھی ہے بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ترقی اس راستے سے گزرے گی؟ ترقی کے اس دروازے پر آباد گوادر کے یہ حقیقی وارث اس ترقی کے ثمرات کے حقدار نہیں ہیں؟ اگر یہ ترقی انہیں نہ ملی تو ملک کے دیگر حصوں تک کیسے پہنچے گی؟  ان تمام سوالوں کیلئے میں نے ماہی گیروں سے بات کی اور ان کے  تحفظات سنے جس کے بعد تھوڑی فکر ختم ہوئی کیونکہ حیران کن طور پر ہم کوئٹہ کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان گوادر کے باسیوں نے ماضی کی طرح آنے والی تبدیلی کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر انہیں یہاں سے ہٹا کر گوادر پورٹ کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کیا جانا ہے تواس کے لئے انہیں متبادل رہائش کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

اسی دورے کے دوران ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ایسی بات کہہ دی جس پر اتفاق کرنے کو دل بھی چاہتا ہے لیکن میں سیاست اور صحافت کے شاگرد ہونے کے ناطے ذاتی طور پر اس بات کی حمایت نہیں کرتا لیکن اگر حقیقت یہی ہے تو تسلیم کرنی چاہیے۔ اس شخص کے مطابق’’ جنرل راحیل کے مستقبل کا فیصلہ جو بھی ہو اگر وہ رک گئے تو یہ شہر آباد ہوجائے گا اورگوادر واقعی ایک کامیاب پورٹ سٹی بن جائیگا اوراگر وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیتے تو کم از کم گوادر کی عوام یہ دعا مانگیں ان کے بعد آنے والا نیا آرمی چیف بھی اس شہر گوادر اور سی پیک کیلئے ایسی ہی  دلچسپی کا مظاہرہ کرے تو اس نہ صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ ملک بھر کی قسمت بدلی جاسکتی ہے ۔

gwadar-post-2

جب  میں اس تحریر کے آخری سطورپر کام کررہا تھا تو گوادر کے صحافی دوست ساجد نے فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کیا جو کہ پانچ سے زائد زبانوں میں ہے جس چائینز زبان بھی شامل ہے اور اسٹیٹس کے لفظ کچھ یوں ہیں کہ’اب تو گوادر کو پانی دو‘۔

گوادر کے مقامی افراد دشت ڈرامے کے کردار میر بیبرگ کی طرح ترقی کو تسلیم کرچکے ہیں تاہم پینے کا صاف پانی ‘ اچھی تعلیم‘ صحت کی سہولتیں اور روزگار پر اگر پہلا حق گوادر کے مکینوں کا نہ ہوا تو گوادر یعنی کہ ہوا کا دروازہ صرف ہوا کا دروازہ ہی رہے گا اور اس کے ثمرات شاید عوام تک  نہ پہنچ سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں