The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس اور پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری

 انٹلیکچوئل پراپرٹی یعنی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ا نسان کی  غیرمرئی جائداد اور اس کی حفاظت پاکستان جیسے ملک میں ایک مسئلہ ہے۔ خیر ہم  تو  پاکستان میں رہتے ہیں‘ ہمارے اور مسائل ہیں اور  ہمیں ان بڑے مسائل سے ہر روز نبردآزما ہونا ہوتا ہے لیکن فی الحال ہم بات کررہے ہیں فکری ملکیتی حقوق یعنی انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی ۔

گزشتہ  چند برسوں  سے ملکی برآمدات  تو کمی کا شکار ہے مگر خدمات کی برآمدات کے اعداد وشمار اچھے رہے۔ گزشتہ مالی سال میں ساڑھے  پانچ ارب روپے کی خدمات برآمد کی گئی اور ان برآمدات میں ایک بڑا حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر کا بھی ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں آئی ٹی انڈسٹری نے خوب ترقی کی   اور  سا تھ ساتھ اسمارٹ  نیشن  ہونے کا طرہ امتیاز  بھی  ہم نے اپنے  سر  لے لیا‘ مگر سچ کچھ اور ہی ہے۔ پاکستان میں  آئی ٹی کی خدمات  بڑے پیمانے پر فراہم کی جاتی ہیں  اور  یہ کام کرنے والے افراد قدر ے کم معاوضے میں مل جاتے ہیں اور  ایک فرد بیک وقت  کئی سافٹ  وئیرز  کا ماہر  ہوتا  ہے۔ قصہ مختصر  انفارمینش  ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے پاکستان کو خوب فائدہ ہوا ۔۔دنیا بھر سے کمپنیاں  ان ملٹی ٹیلنڈڈ پروفیشنلز سے کام  کروانے آتی  ہیں۔مگر  فیلڈ میں کام کرنے والے افراد عدم تحفظ  کا شکار ہیں۔


 فیلڈ میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے کام کے باجود

اب تک ان کو یہ پتہ نہیں کہ اپنے کام کو محفوظ کیسے کیا جائے


مثال  کے طور اگر کسی کمپنی کیلئے ایک سافٹ وئیربنایا جاتاہے تو یہ کیسے ممکن ہےکہ وہ کمپنی دوبارہ  اپنی کسی ذیلی کمپنی  یا ڈپارٹ منٹ کیلئے وہ سافٹ ویئر استعمال نہیں کرے۔ پروفیشنلز اب بھی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ کہیں ایک بار کام کرکے دیا تو دوبارہ بھی کام ملے گا  یایہ کمپنیاں از خود ان معاملات کو نمٹا  لیں گی۔ ایک زمانہ تھا کہ   پائریٹیڈ سی ڈیز  کا راج تھا جس کے باعث  پاکستان میں نئے سافٹ وئیرز  کی ڈیولپمنٹ  پڑوسی ملک کے مقابلے میں کافی کم  رہی ۔سافٹ وئیرز کی دنیا میں پاکستان کا نام  کم ہی نظر آتاتھا۔کوئی بھی اہم سافٹ وئیر یا آپریٹنگ سسٹم کسی پاکستانی  نام سے منسوب نہیں تھا۔

مگر  وقت بدلا اور  اب حالات کچھ اور ہیں پاکستان میں  کافی کام ہو رہا۔   ہم اب اسمارٹ  نیشن  ہیں۔مگر مزے کی بات  یہ ہے ہمارے آٹی پروفینشنلز کے پاس اپنے کام  کو  مخفوظ کرنے کاکوئی  خاطر خواہ   انتظام  نہیں ہے ۔آئی ٹی انڈسٹری میں آئی پی رائٹس اور اس کے قوانین کا اطلاق اصل معنی میں نہیں ہورہا ہے۔ آئی ٹی کے حوالے  سے  نہ انٹالیکچوئل  پرا ٹی رائٹس  کے بارے میں کوئی آگاہی ہے اور  نہ ہی کو  مخصوص وکیل  ہے جو  ان  معاملات کو  حل کر سکے۔

جی ہاں! آج آئی ٹی کا دور شروع ہوئے 16 برس بیت جانے کے بعد بھی  پاکستان میں اسمارٹ  ٹیکنالوجی  سےمتعلق وکلاء کی شدید کمی یا فقدان ہے۔ اس معاملات کو  نمٹانے  کیلئے کارپوریٹ وکلاء  کے پاس  جانا پڑتا ہے۔ اب ایسے میں اگر  کسی آئی ٹی پروفشنل کا کام چوری یہ کاپی کیا جاتا ہے  تو انصاف کا حصول باس کیلئے جوئے  شیر لانے کے مترادف ہے اور اس پر صورتحال کو بہتر بنانا آج کی دنیا سے مسابقت کے لیے   ہمارے ملک کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email