The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

نہ لکھنے کا درد اورلفظوں کی حرمت

لکھنے والے کیلئے نہ لکھ پانا ایک انتہائی کربناک مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا لکھ کیوں نہیں پا رہا ؟ آخر کون سے ایسے عوامل ہے جو اسے لکھنے سے روک رہے ہیں۔ اس سوال کہ آپ کے پاس بھی مختلف وجوہات اور جوابات بھی ہوں گے اور جو نہیں لکھتا اسکے پاس بھی اس سوال کہ دوتین جوابات موجود ہوں گے۔ مگر میرے پاس اس سوال سے منسلک ایک اور سوال ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہماری تحریریں ان گنتی کہ اشخاص کے گرد گھومتی رہیں یا ان موضوعات پر قلم کی سیاہی ضائع کرتے رہیں جن کا نہ سر ملتا ہے اور نا پیر بلکہ اکثر لکھنے والے اپنی جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہم پاکستانی جب گفتگو کرتے ہیں تو سیاست ہوتی ہے جب ہم کچھ لکھنے بیٹھتے ہیں تو سیاست ہوتی ہے، کھانے کی میز پر بھی سیاست ہوتی ہے، کھیل کے میدانوں میں سیاست ہوتی ہے اور دفتروں میں تو طرح طرح کی سیاست ہوتی ہے، یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ جو ادارہ تباہ ہو رہا ہو وہ سیاست کی نظر ہوگیا ہوگا۔ یعنی پاکستانی سیاست کسی امر بیل کی مانند ہوتی ہے جس سے لپٹ جائے اسے تباہ و برباد کر کے ہی چھوڑتی ہے۔

پاکستان میں ہونے والی تمام کی تمام کرپشن کے پیچھے ان لکھنے والوں کا ہاتھ ہے، یہ اس وقت لکھنا شروع کرتے ہیں جب سب طرف شور مچ چکا ہوتا ہے۔ ہم پاکستانی ہر معاملے میں بھیڑچال کے عادی ہیں۔جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اخبارات کی مدد سے کن کن لوگوں کی کیا کیا اصلیت سامنے آتی ہے۔ بعض اشخاص کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بھائی مجھے تو خود صبح اخبار میں پڑھ کر پتہ چلا ہے کہ میں نے کل یہ بیان دیا تھا۔ محسوس یہ ہوتا ہے جیسے الفاظ باسی تواسی ہوچکے ہیں اور بدبو زدہ ہوگئے ہیں۔اگر الفاظ بدلے ہوئے بھی ہوں گے تو معنی کہ اعتبار سے بات وہی ہوگی۔ نا تو یہ لکھنے والے، گمراہ کررہے ہیں اور نا ہی راہِ راست پر لانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تو اس کو وہاں پہنچا رہے ہیں جو جہاں جانا چاہ رہا ہے اور یہ تو بس بتا رہےہیں اس نے ایسا کردیا اس نے یہ کہہ دیا۔ ان ساری باتوں میں کسی کیلئے اہم کیا ہے؟ ایک عام آدمی کو اس بات سے کتنی غرض ہے کہ پانامہ لیکس میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کا نام آیا ہے یا یہ کہ پانامہ لیکس کس بلا کا نام ہے یا اس صبح کے بھوکے کو بلاول کی نکالی جانے والی ریلی سے کیا لینا دینا ہے۔ یقیناً ہم سب ہاں میں ہی سر ہلارہے ہیں۔کیا لکھنے والے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کیا چاہئے یا پھر پڑھنے والے کو یہی سب چاہئے۔

پاکستان میں ایک انتہائی گھمبیر صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے یہاں لوگ شوگر اور بلند فشارِ خون جیسی مہلک بیماریوں میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس کی جہاں دیگر وجوہات بھی ہوں گی مگر ہمارے ملک کا سیاسی ماحول اور اس ماحول کو گرمانے والے لکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر ڈولڈ ٹرمپ صرف امریکہ کی بات کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اور وہ ان کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بھی کسی خاطر میں نہیں لارہے۔ انہوں نے یہ الیکشن جس منشور پر جیتا ہے اب وہ اس پر عمل درآمد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ان کا یہ منشور امریکہ کا کیا حال کرے گا کہنا قبل از وقت ہوگا مگر وہ دنیا کو آپس میں رابطے بحال کرنے کا اچھا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک اپنے اتحادیوں کی مدد سے امریکہ نے دنیا میں گند گھول رکھا تھا اور طاقت کے عدم توازن کا سبب بنا ہوا تھا۔ اب امریکہ اور امریکیوں کو اپنے ملک پر دھیان دینے کا موقع ملے گا اور بیچارے وہ فوجی جو دنیا جہان میں بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے رہے ہیں اپنے اپنے گھر لوٹیں گے، اور اب آگ اور خون کا یہ گھنؤنا کھیل اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔

امریکہ کی سوچ بدلنے کا وقت آگیا ہے ۔ ہر کام اپنے طے شدہ وقت پر ہوتا جاتا ہے ۔ ہم لوگ بس یونہی اپنے آپ کو تھکائے جاتے ہیں۔ ہم لکھنے والوں کو چاہئے کہ اپنے لوگوں کی اصلاح کریں ان کیلئے وہ معلومات فراہم کریں جس کی بدولت انکی زندگیوں میں سکون آئے اور معاشرہ امن و سلامتی کی راہ لے لوگ ایک دوسرے سے سیاسی گفتگوکرنے کے بجائے اسکا حال احوال پوچھیں۔ آنے والی نسلیں ایسے حکمران ڈھونڈیں جو ان کے مسائل سے بھرپور طرح سے واقف ہوں اور وہ ان کو سدھارنے کیلئے دن رات ایک کریں۔ انہیں نہ مخالفین کا خوف ہو اور نا صحافیوں کا اور نہ ہی انہیں کسی پروٹوکول کی ضرورت ہوگی۔

میں دعوے سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کسی حد تک مجھے یقین ہے کہ لکھنے والے اپنی تحریریں مختلف انداز سے لوگوں کی سوچوں پر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اپنی تحریروں سے لوگوں میں وہ شعور پیدا کریں، آگہی پیدا کریں کہ آنے والے وقتوں میں ہمیں ایسے چور، لٹیروں کو ووٹ نہ دینا پڑے ایسے لوگوں کو اپنے منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے جو آج ہمارے ملک کہ معززین بنے پھرتے ہیں۔ لکھنے والے اپنا کام اگر خوش اسلوبی اور مختلف اندازِ فکر سے کریں تو تبدیلی کا سہرا آپ کے ہی سر بندھے گا۔ہیرو کو ہیرو اور ولن کو ولن ایک لکھنے والا ہی تو بناتا ہے تو ہم اپنے معاشرے کیلئے اپنے لوگوں کیلئے۔ ہمیں کسی خونی انقلاب کی ضرورت نہیں ہے ہمیں تو صرف قلم کی حرمت بحال کروانی ہوگی۔ انقلاب کی سیڑھیاں ہم لکھنے والوں کو بنانی ہوں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں