The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

ڈوبتے سورج میں بھی ترقی کا پیغام پوشیدہ ہوتا ہے

  ہم بہت دیر تک یا مسلسل اسے دیکھ نہیں سکتے تھے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تاب نہیں لاسکتے تھے یا پھر اس کی ہیبت سے خوفزدہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہاڑوں پر سفر کر رہے تھے، اونچائی اور اترائی  دونوں تواتر سے راستے میں آرہی تھیں۔ کبھی گاڑی سطح زمین سے بہت اوپر چلی جاتی اور کبھی نیچائی کا سفر شروع ہوجاتا بلکل زندگی کے سفر جیسا، مگر وہ اپنے ہونے کا بھر پور احساس دلاتا ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا تھا وہ بہت شور کر رہا تھا معلوم نہیں وہ اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا یا پھر اپنے گم ہوجانے کے خوف سے دہاڑ رہا تھا۔ پہاڑ ہی پہاڑ اور ان میں بہتا دریائے نیلم‘ جیسے قوی ہیکل انسانوں میں ان کے چھوٹے چھوٹے معصوم سے شور مچاتے بچے۔

ان مہینوں میں پہاڑی علاقوں میں سردی بھرپور انداز میں براجمان ہوتی ہے مگرجب ہم وہاں تھے (دسمبر)  ابھی تک سردی نے قلفی جمانا شروع نہیں کیا تھا۔ سورج اس سردی کے خوف سے جلدی جلدی غروب ہونے جا رہا تھا دوسری طرف نیلے گگن میں بادبان نما کشتیوں کی طرح بادل کے ٹکڑے رہی سہی دھوپ جو کہ تمازت سے عاری تھی اور فقط روشنی کیلئے درکار تھی اسے مدہم کئے دیتے تھے، اندھیرے کا خوف بڑھائے جاتے تھے اور ہمارے اہل خانہ پہلے راستوں کی ناہمواری ، پیچ و خم سے خوفزدہ سہمے بیٹھے تھے۔ دریائے نیل کے کنارے (جہاں سے نیچے اتر کر دریا کے قریب جایا جاتا ہے) پتھر ہی پتھر ہیں اور ان پتھروں پر چار پائیاں لگائی گئی ہیں، ہم ایسی جگہ پر رکے تھے جہاں دریائے نیلم کے اوپر سے ایک پل آزاد کشمیر لے جاتا ہے، وقت کی قلت آڑے آئی اور ہمیں اس پل کو پار کرنے سے باز رکھا، ہم نیلم کے دوسرے کنارے کشمیری آب و ہوا سے محروم رہے۔ نیلم کا پانی پہاڑوں پر پگھلنے والی برف ہوتی ہے اور دھوپ کی شدت نا ہونے کی وجہ سے اس کی ٹھنڈک میں کمی نہیں آتی۔ اگر آپ اس میں پاؤں یا ہاتھ ڈال رکھیں تو کچھ دیر کے بعد ہی آپ کو “سن” ہوتا محسوس ہوگا اور شائد نیلا بھی پڑ جائے۔ اس کی گہرائی اور تیزی دونوں بہت خطرناک ہیں، وہاں کے مقامی لوگوں نے دریا سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرنے سے باز رکھا۔
VALLEY POST 3
ہم بھی ان محبِ وطن پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو پاکستان کی سرحدیں عبور کرنے سے ابتک قاصر ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جیب نے “اتنااضافی بوجھ” اٹھانے کی زحمت نہیں کی اور اسی وجہ کی آڑ لے کر ہم یہ بھی لکھتے چلیں کہ پاکستان سے محبت اتنی ہے کہ پہلے پاکستان کی خوبصورتی سے محظوظ و لطف اندوز ہوجائیں اور اہلِ خانہ کے دل میں بھی پاکستان سے حقیقی محبت کا بیج بویا جائے پھر سرحدیں عبور کرنے کا سوچیں گے۔ ہم ذکر کر رہے تھے دریائے نیلم کا جو کسی نیلگوں مائل سفید لکیر کی مانند ہمارے دائیں جانب مسلسل چل رہا تھا۔

پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقامات

دنیا کی خوبصورت ترین آخری آرام گاہیں

 ہم میدانی علاقوں میں رہنے والے پہاڑوں کا رعب و دبدبا جھیلنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے ان پہاڑی لوگوں کا خوب مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ ہم اتنی تیزی اور روانی سے اپنے میدانی علاقوں اور ہموار سڑکوں پر نہیں چل سکتے جتنا کہ یہ لوگ (ہر عمر کے) پہاڑوں کی اونچائی نچائی سے بے نیاز بھاگے دوڑے پھرتے ہیں۔نمازی مسجدوں کی جانب اسی روانی سے پیش قدمی کرتے ہیں، یہاں اسکولوں کی بھی اتنی ہی بہتات ہیں جتنی کے پاکستان کےدوسرے شہروں میں، یہاں کالجز بھی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہیں۔ توانائی سے بھرپور زندگی کی خوبصورتی ان خوبصورت اور پر عزم لوگوں کی زندگی میں شامل ہے یہاں ماحولیاتی آلودگی کا پہنچنا مشکل ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ لوگ سفر کیلئے گدھے گھوڑے یا خچر استعمال کرتے ہیں ان کے پاس بھی ہر برانڈ کا نیا ماڈل ہے جو کہ یہ بطور کاروبار استعمال کرتے ہیں لیکن  یہ گاڑیاں جتنی کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتی ہیں اس سے کہیں گنا درخت آکسیجن خارج کرتے ہیں۔

VALLEY POST 2

میرا تعلق جھوٹ اور فریب سے لبریز دنیا سے ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ پہاڑی لوگ ان خصوصیات کے حامل ہیں یا نہیں مگر ان پر بھروسہ کرنا وقت کی ضرورت تھا۔ جس نے جیسا کہا ہم نے من و عن مان لیا۔ ان لوگوں کی باتوں میں ان کے لباس کی سی سادگی تھی اور کوئی بھی بہت الجھی ہوئی باتیں نہیں کر رہا تھا۔ کسی کو سیاست کا شوق ہوگا بھی تو اس کو ہم پر ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہاں میں یہ ضرور تحریر کرنا چاہوں گا کہ نتھیا گلی میں سیر کرتے ہوئے وہاں ایک “بابا” سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان صاحب کا ذکر آیا تو ان بابا جی خوشی دیدنی تھی وہ لہک لہک کر خان صاحب کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے (گوکہ ہم ان پلوں کی مدد سے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ نہیں جاسکتے تھے) ان بابا جی کا کہنا تھا خان صاحب یہاں آتے ہیں اور بغیر کسی حفاظتی حصار کہ گھومتے پھرتے ہیں جنگل میں نکل جاتے ہیں کبھی ہائکنگ کرتے ہیں اور ہم سب سے بہت اچھی طرح ملتے ہیں۔ سیاسی لوگوں سے ہمارا کوئی دور دور کا بھی واسطہ نہیں رہا اس لئے ہمیں نہیں معلوم کہ یہ لوگ عام آدمیوں سے ملتے بھی ہیں۔ ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ اگر ان “معززین” کو کسی معصوم غریب کے بچے سے ہاتھ بھی ملانا ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ اسطرح صاف کروایا جاتا ہے کہ باقی جسم سے وہ ہاتھ مختلف نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ خیر ہم کوئی سیاسی مضمون لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

VALLEY POST 1

زندگی ان پہاڑوں میں بھی رواں دواں ہے، حوصلے ان پہاڑوں میں رہنے والوں کے بھی جواں ہیں، یہ سینہ سپر ٹھنڈی اور تند ہواؤں کو بھی جھیلتے ہیں یہ ہمارے لئے آپکے لئے ایسے مشکل حالات میں بھی زندگی کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا جہان کی سیر کیجئے مگر پہلے اپنے گھر کے کونے کونے سے واقفیت تو کیجئے آپ موازنہ کرنے کیلئے پہلے اپنے وطنِ عزیز کے ہر علاقے کی سیر کیجئے۔ جہاں یہ آپ کیلئے سیر و تفریح کا سامان ہے وہیں آپ کیلئے اپنے وطن سے متعلق معلومات کا بھی ذریعہ ہے۔ قدرت نے ساری دنیا ہی خوبصورت بنائی ہے مگر دنیا میں سب سے خوبصورت جگہ میرے لئے تو میرا گھر ہے مجھے پہلے اپنے گھر کو اور گھر کے مکینوں کے بارے میں جاننا چاہئے۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ ہم ان مقامات کی بہتری کیلئے اپنا کیا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

جب تک سفر جاری رہتا ہے دل کو نامعلوم سااضطراب رہتا ہے، منزل پر پہنچنے کی جستجو رہتی ہے، راستے سے شناسائی بھلی لگتی ہے۔ زندگی بھی سفر در سفر ہے اور ٹھہر جانے کا مطلب ابدی سفر اختیار ہوجانا کیوں کہ یہ سفر کوئی اختیار نہیں کرتا۔ دنیا میں جہاں بھی جانا ہے جائیے مگر پاکستان سے محبت اور پاکستانی ہونے کا احساس زندہ اور پر عزم رکھئے۔ ایک دن دنیا کے تمام ممالک بھی ہمارے ملک کی مثال دیں گے کہ دیکھو کیسا ملک تھا اور اب دیکھو ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ سورج بہت تیزی سے پہاڑوں کی اوٹ لئے چھپتا جا رہا تھا گاڑی کی بتیاں بھی جل چکی تھیں واپسی کے سفر میں خاموشی ہی ہوتی ہے اور ہماری گاڑی کے بھی تمام افراد خاموش بیٹھے تھے یا پھر اونگھ رہے تھے۔  کسی کی تنزلی کا سفر شروع ہوچکا ہے اور شاید اس تنزلی کے سفر میں کہیں ہماری ترقی پوشیدہ لگ رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email