The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

ہم کس کے لیے لکھ رہے ہیں؟

کسی کے لئے کسی بات کو جاننا دورِ حاضر میں کوئی مشکل کام نہیں رہا، ہاں البتہ اس کے لیے آپ کے پاس ذرائع ہونا ضروری ہے جس میں سب سے اول ’انٹرنیٹ‘ کی سہولت ہے، اس سہولت کا آپ کے پاس ہونا اس بات کی دلیل سمجھی جاسکتی ہے کہ اس کو استعمال کرنے والے آلات بھی میسر ہوں گے۔ آپ اگر اپنے آپ کو مختلف ’سماجی ویب سائیٹس‘ سے وابسطہ کیے ہوئے ہیں تو معلومات خود بخود آپ کے پاس پہنچ رہی ہے۔

ابھی آپ نے ایک خبر پرسے دھیان ہٹایا نہیں ہوتا کہ کوئی نئی خبر یا یہی خبر تازہ بن کر پھر سے آجاتی ہے۔ دنیا جانکاری کے حوالے سے بے ہنگم ہوچکی ہے۔ مگرلمحہ فکریہ یہ ہے کہ معلومات تک رسائی کی اتنی آسانیوں کے باوجود بھی وکی لیکس، پانامہ لیکس اور مختلف لیکس بھی موجود ہیں اور یہ لیکس اپنی اہمیت منوانے میں کامیاب بھی ہوئیں ہیں۔ جیسے ہمارے وزیرِ اعظم صاحب کی پانامہ کیس میں نام آنے کی وجہ سے وہ کچھ سامنے آچکا ہے جو کہ شاید کوئی خفیہ ادارے بھی معلوم نہیں کرسکتے تھے۔

معلومات کے اس نہ تھمنے اور نہ سمٹنے والے طوفان کی بدولت سب سے بڑا نقصان جس کا سامنا ہم سب یعنی ساری دنیا کے لوگوں کو اٹھانا پڑرہا ہے وہ یہ کہ ہم ’بے حس‘ ہوتے جارہے ہیں۔ حادثے، سانحے، خوشی، وغیرہ وغیرہ اپنا کوئی تاثر ہی نہیں چھوڑ رہا، جز وقتی احساس۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب آپ کو کسی بھی بات کا علم اور گمان پہلے سے بتا دیا جائے تو اس اصلیت کی حقیقت بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اس ساری صورتحال کی کچھ نہ کچھ ذمہ داری لکھنے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے کیوں اس معلومات کو عام کرنے میں ان کا کردار سب سے اہم ہے اور یہ  کہ انہوں نے لکھ لکھ کر اہمیت جیسے لفظ کی اہمیت ختم کردی ہے۔

حالات کو یہاں تک لانے کا بنیادی مقصد آنے والی نسلوں کو’احساس‘ نامی شے سے آزادی دلانا لگتا ہے تاکہ مشرق اور مغرب کا فرق کم ہوتے ہوتے ختم ہوجائے اور جو رہی سہی مشرقی قدریں باقی ہیں ان کا بھی مدفن بنا دیا جائے۔

ہم لکھنے والوں کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ لکھتے ہوئے اس چیز کا تجزیہ کرلیں کہ ہم جو لکھ رہے ہیں وہ ہم ہی لکھ رہے ہیں کوئی ہم سے یہ لکھواتو نہیں رہا یا پھر ہم کسی ایسے کی ترجمانی تو نہیں کررہے جو کسی بھی طرح سے ہمارے ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے یا پھر کسی ایسے کی حمایت میں تو قلم کی روشنائی ضائع نہیں کر رہے جو ہمارے دین میں کسی قسم کا حرف اٹھنے کے مترادف ہے۔

لکھنے والوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایسے مقاصد کی تکمیل کے لیے لکھیں جس سے کم از کم معاشرے میں بگاڑ کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔ اندر یا باہر سے ہم سب کسی نا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی تائد کرتے ہیں اور ہمارے لکھنے میں ان کی ترجمانی کا عکس بھی عیاں ہوجاتاہے۔ ہمارے لئے ہمارا دین ہمارا ملک بہت اہم ہیں ہمیں اپنی تحریروں پر خود احتسابی کی حد لگانی پڑے گی، اس حد سے ہمارے وطن کو ہمارے پڑھنے والوں بہت فائدہ پہنچےگا اور ماحول میں موجود آلودگی آہستہ آہستہ صاف ہوجائے گی ہمارے سیاست دان جب بغیر ہمارے حمایت کے سیاست کریں گے تو واقعی مخلص ہوتے دکھائی دیں گے۔ لکھنے والوں پر دورِ حاضر میں بہت بھاری ذمداری عائد ہوتی ہے کہ ہم یہ جان رکھیں کہ ہم کس کے لیے لکھ رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں