The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

گائے کو نہیں’’عورت‘‘ کو تحفظ چاہئے

ہم کسی کے مذہبی عقیدے کی ہتک یا توہین کرنے یا اس پر منفی تبادلہ خیال کرنے کا کوئی ’حق‘ استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جبکہ آج دنیا آزادیٔ اظہار کو کتنے بھرپور طریقے سے استعمال کررہی ہے، اس پرروشنی ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اور یہ ’آزادی اظہار‘ استعمال بھی ہمارے ہی خلاف ہو رہی ہے بلکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور تمام انسانیت کیلئے رحمت العالمین کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

ہم ایک ایسے نبی ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے سارے مذاہب کا احترام کرنے کا درس دیا اور آپ ﷺ کی ساری تعلیمات کا احاطہ حسنِ سلوک پر مبنی ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ دنیا کے کسی فرد سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں جب سائنس اور تیکنیک اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے تو بھی آپ ﷺ کی تعلیمات بغیر کسی ردو بدل کہ نافذ العمل ہے اور انشاء اللہ رہے گی۔

انڈیا نامی ملک جو شاید دنیا میں میڈیائی ترقی کی دوڑ میں بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس ملک کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور یہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست کہلواتا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق اسی (80٪) فیصد ہندو مذہب کو ماننے والے اس ملک کے رہائشی ہیں اورہرمذہبی تہوار اتنے زور و شور سے منایا جاتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

اس سیکولر ملک کا ہر چلتا پھرتا فرد مذہبی دیکھائی دیتا ہے اور گمان یہ کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سیکولر ہیں۔ ان کے سیکولر ہونے کی ایک دلیل یہ تو ضرور ہوسکتی ہے کہ ان کے ملک میں عورت سے کہیں زیادہ گائے اہم ہے۔ عورت کو بطور تسکین نفس کیلئے سمجھا جاتا ہے جبکہ گائے کو عبادت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

عورت  کسی بھی معاشرے کی اکائی سمجھی جاتی ہے اگر معاشرہ اس ہستی کی عزت اور احترام سے عاری ہے تو پھر معاشرہ تنزلی کی جانب رواں دواں ہے۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو دعوت ہے کہ وہ ثابت کریں یا قائل کرے کہ جتنا مرتبہ اور مقام اسلام نے عورت کو دیا ہے کسی اور مذہب نے اس کے “آنے” کے برابر بھی نہیں دیا۔ جہاں دیدہ لوگوں نے جن کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں تھا (مگر ایسا سمجھ لینا ممکن نہیں ہوتا کیوں کہ کسی نا کسی جانب جھکاؤ ضرورہوتا ہے اور اگر شروع میں نا ہو یا جوانی میں نا ہو مگر وقت کہ آخیر میں سمجھ آہی جاتے ہیں) اس بات کی بھر پور تائید کی کہ جتنا مقام عورت کو اسلام نے دیا کبھی کسی مروجہ مذہب نے نہیں دیا اور نا بعد میں دے سکے گا۔

انڈیا وہ ملک ہے جہاں عورت کے ساتھ زیادتی  کرنے والے کو تو بچا لیا جاتا ہے مگر کیسا ملک ہے کہ گائے رکھنے والے کو جان کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ کیا خوب اقلیتوں کو تحفظ دینے والا ملک ہے۔ جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں تو بے بس نظر آتی ہیں مگر مذہبی جماعتوں کہ شدت پسند سرِ عام اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلتے دیکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہے سیکولر انڈیا کا اصلی چہرہ جہاں اپنے سوا کسی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک تازہ ترین مثال کرکٹ کے ایک کھلاڑی گوتم گھبیر نے قائم کی جن کا کہنا تھا کہ ایک ہندو سپاہی کہ بدلے سو مسلمان جہادی ماردینا چاہئیں۔

اتنے تندو تلخ ماحول میں جو مسلمان انڈیا میں رہتے ہیں ان پر آفرین ہے، حقیقی معنوں میں یہ لوگ ہیں جو اسلام کی سربلندی کیلئے بر سرِپیکار ہیں اور اپنے مذہب پر اتنے مصائب کے ساتھ کاربند ہیں۔

مضمون کے عنوان کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ یہ عنوان ہم نے انڈیا کی ایک بہت بڑی ہستی بیگم جیا بچن کے دئے گئے ایک بیان سے اخذ کیا ہے۔ یقین کریں یہ خبر پڑھ کر ایسا لگا جیسے انتہائی حبس ذدہ موسم میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اس بیان کے بعد بیگم جیا بچن بھی کسی نا کسی دھمکی آمیز بیان کی ذد میں آجائیں گی اور انہیں ایک بار پھر اپنا بیان دھرانا پڑے گا کہ “گائے کو نہیں عورت کو تحفظ فراہم کرو”۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں