The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

امریکی صدر کی زبانی دہشت گردی

ہم نے پڑھا ہے اور تجزئیے سے بھی ثابت ہوا ہے کہ جہاں دو بڑی قوموں کے درمیان تنازعہ ہو وہاں اقوام متحدہ نہیں ہوتی ،  جہاں ایک طاقتور ملک ہو اور دوسرا کمزور تو وہاں کمزور ملک نہیں رہتا‘  اقوام متحدہ وہاں بھی دکھائی نہیں دیتی اور جہاں دونوں ہی کمزور قومیں ہوں‘  وہاں اقوام متحدہ کچھ کردار نبھانے پہنچ جاتا ہے۔

 اس ادارے کو بنانے کا بنیادی مقصد ملکوں کے درمیان تصادم کو روکنا تھا اور معاملات کو میز پر بیٹھ کر حل کروانا تھا۔ میرے محدود علم میں نہیں کہ اقوام متحدہ نے کبھی بھی اپنا بنیادی مقصد نبھایا ہو ۔  مسئلہ  کشمیر اور فلسطینیوں کی جدوجہد دنیا کے لیے  مثالیں ہیں۔ اقوام متحدہ کیوں افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی کیونکہ دوسری طرف ایک بہت بڑاملک ہے۔

جب اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیمیں اپنا وجود صرف کاغذوں اورٹھنڈے کمروں تک محدود کرلیتی ہیں تو دنیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دنیا دہشت گردی کے آسیب میں مبتلا ہے مگر یہ تنظیمیں اپنے کردار کو منوانے سے قاصر دکھائی دے رہی ہیں اور کہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔ انسانیت کی خدمت کے علم بردار انسانیت کی تفریق کر بیٹھے ہیں۔

امریکیوں کے لیے افغانستان کو ’قبرستان‘ بنا دیں گے*

 گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان نے دنیا کے ہر ملک میں ہونے والی دہشت گرد ی کے پیش آنے والے واقعات کی بھرپور انداز میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی اپنی ہر ممکن حمایت کاپیغام بھی پہنچایاجاتا رہا ہے ۔گزشتہ دنوں امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک خطاب میں کچھ ایسی گفتگو فرمائی جس سے یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی مقبولیت کاتیزی سے گرتے ہوئے گراف کو اوپر کی جانب لے جاناچاہتے ہوں۔

دوسری طرف یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ خود اپنی انتظامیہ اور فوج کی کارکردگی سے مطمئن  نہیں ہیں ، کیونکہ یہ بات وہ بلواسطہ تو کہہ نہیں سکتے اس لئے بلاواسطہ سمجھانے کی کوشش کی ہو۔ امریکی فوجی دنیا پر امریکی برتری ثابت کرنے کی جدوجہد میں افغانستان میں اپنی زندگیاں گنوا رہے ہیں جس کی وجہ سے فوجی ہی نہیں ان کے خاندان والے بھی ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔

دنیا میں جاری دہشت گردی سے جتنا نقصان پاکستان اب تک اٹھا چکا ہے شاید ہی کسی اور ملک نے اتنا نقصان اٹھایا ہو۔ امریکی صدر نے اپنی اور اپنے تھنک ٹینک کی ناکامیوں کا سہرا پاکستان کے سر پر سجانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے وہ افغانستان میں آکر دہشت گردی کرتے ہیں۔

پاکستان کو اربوں ڈالر دیے، نتائج چاہئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا مطالبہ*

  امریکی صدر سے کوئی یہ پوچھ ہی نہیں سکتا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے محفوظ ٹھکانے کہاں کہاں ہیں ۔ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے آج تک پاکستان کو استعمال کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی چاہتا ہے بلکہ اس تقریرسے تو یہ پیغام آیا ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ یعنی پاکستان اپنی سالمیت کی پریشانی چھوڑدے اپنی معیشت کو تباہ ہونے دے اور افغانستان میں جاکے امریکی مفاد کی جنگ لڑے۔

پرائی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان خارجی اور داخلی مشکلات میں بری طرح سے گھرتا چلا گیا مگر ان مشکلات سے لڑ رہا ہے۔سوات میں کیا جانے والا آپریشن، آپریشن ضرب عضب، آپریشن خیبر ۴ اور آپریشن ردالفساد اس بات کی گواہی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں سے کتنے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہا ہے ۔

پاکستان کی قربانیوں کا جس طرح سے امریکی صدر ڈولڈٹرمپ نے استحصال کیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چین وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایک بار پھر اپنی دوستی کی اعلی ٰمثال قائم کرتے ہوئے امریکی صدر کی تقریر میں پاکستان سے کیے گئے مطالبات پرشدید تنقید کی ہے جبکہ ابھی تک پاکستان خود کوئی پالیسی بیان نہیں دے سکا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کو چاہئے کہ امریکی صدر کی اس زبانی دہشت گردی کا جواب پاکستان کی جانب سے دی گئی ایک ایک قربانی کا تذکرہ تحریرکر کے نہ صرف ان کے دفتر ارسال کریں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کو  اوراقوام متحدہ کو بھیجیں، اس دستاویز میں خصوصی طور پر جو ہمارے معصوم بچوں نے کس طرح سے اپنی زندگیوں کا نظرانہ  اس دہشت گردی کی جنگ میں  پیش کیا، کیسے ہمارے مستقبل کے معماروں کے استادوں اور استانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ، ہمارے بزرگوں نے مسجدوں میں سجدوں میں اپنی زندگیاں گنوائیں ، کس کس محاذ پر اور کس کس طرح ہمارے جوانوں نے جام شہادت نوش فرمایا ، ہر ایک قربانی کا تذکرہ جلی حروف میں لکھیں اور اسے بین الاقوامی میڈیا کہ سامنے پیش کریں دنیا کے ہر فورم پر پیش کریں۔

امریکی صدر کو اندازہ تو ہو کہ یہ قوم موت سے تو ڈرتی ہی نہیں ہے ۔ اس قوم نے تو وہ قرض بھی چکائے ہیں جو واجب ہی نہیں تھے۔
اگر امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو ہماری دہشت گردی  کے خلاف جنگ نہیں دکھائی دے رہی اور ان کو بھارت کا کشمیریوں پر ڈھایا جانے والا ظلم و ستم نہیں دکھائی دے رہا تو پھر ہمیں اپنا واضح موقف تمام ثبوتوں کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھ دینا چاہئے کہ اب وہ فیصلہ کریں اور بتائیں کے پاکستان نے کب اور کہاں اس جنگ میں کوتاہی برتی ہے ۔ امریکہ کے صدر کی یہ زبانی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے جو معصوم پاکستانیوں کو دھمکا رہے ہیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email