افراد کے ساتھ نظریات بھی دفن ہورہے ہیں

دنیا کی آبادی سات ارب سے تجاوز کر رہی ہے، ہر طرف لوگ ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں اور سب کے سب بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں اور زیادہ تر یہ بھاگ دوڑ دنیا کی آسائشیں جمع کرنے کے شوق میں شروع ہوتی ہے اور زندگی کے مفلوج ہونے تک جاری رہتی ہیں، مگر یہ دوڑ رکتی نہیں ہے بلکہ اگلی نسل کو منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ اب نسلوں کی تعلیم و تربیت و پرورش اسی ڈھب پر کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانی ہے ۔

اب دنیا کیسے کمانی ہے اس پر کوئی مخصوص دائرہ کار متعین نہیں کیا گیا ہے اور نا ہی کوئی ضابطۂ اخلاق مرتب کیا گیا ہے‘ بس ایک مقصد اپنایا گیا ہے کہ پیسہ کمانا ہے دنیا کی آسائشوں کو جمع کرنا ہے ۔ معاشرے کے بگاڑ کا سبب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا اپنے اپنے بنائے گئے اصول ہوسکتے ہیں۔

دنیا ہر پیدا ہونے والے انسان کو یاد نہیں رکھتی یا شائد رکھ ہی نہیں سکتی یا پھر رکھنا نہیں چاہتی ۔ اگر فرد ِواحد کی بات کی جائے تو وہ بھی تمام عمر بھول جانے اور یاد رکھنے میں ہی گزر جاتی ہے۔ بہت کم لوگ اپنے شجرہ نصب سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، ورنہ بہت سے بہت دادا یا پھر پر داداتک پہنچ پاتے ہیں۔

اس میں کوئی افسردگی کی بات نہیں ہے یہ تو وقت کا تقاضا ہے ۔ زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے ۔ہماری مصروفیت کیلئے نامعلوم اشیاء ایجاد ہوچکی ہیں اور سب سے بڑھ کر موبائل فون نے تو جیسے حد ہی کر رکھی ہے۔ آج اس دنیا میں جتنا موبائل فون اہم ہے شائد ہی کوئی شے اس کی جگہ لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ آج آپ کے پاس کچھ ہو یا نا ہو مگر ایک اچھا سا موبائل ہو تو آپ کو کسی کی کوئی ضرورت نہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انجانے میں ایسا کام شروع کرتے ہیں جو رائج اصولوں کے منافی یا پھر مختلف ہوتا ہے جو معاشرے کیلئے ناقابل ہضم ٹھہرتا ہے۔ اس عمل کو بغاوت بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ہمارے گھروں میں کسی نئی چیز کو جگہ بنانے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اور پھر اس کے استعمال سے جب لوگ مستفید ہونا شروع ہوتے ہیں اس چیز کے دیر سے آنے کا گلہ بھی کرتے سنائی دیتے ہیں۔ قدرت کی وسعت کا اندازہ لگانا ہی ناممکن ہے کیونکہ ان گنت انسان دنیا کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک پیدا ہوئے اور یقیناًہر فرد ایک دوسرے سے مشابہہ تو رہا ہوگا مگر فطرت میں بلکل برعکس ۔اتنا ضرور ہوتا ہے کہ رائے پر اتفاق ہوجاتا ہے بات سمجھ آجاتی ہے ۔ دوسری طرف رائے مسلط کی جاتی ہے ۔

نظریات کابنیادی مقصد کیا ہوتا ہے؟ کسی مخصوص نقطہ نظر کو اجتماعی سطح پر نافذ کروا کر اس پر عمل درآمد کروانا۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے دو قومی نظرئیے کی مثال لے لیجئے ۔ در حقیقت سرسید احمد خان نے انیس ویں صدی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں لیکن اس بات کو اخذ کرنے میں یا ہونے میں ایک طویل مشاہداتی سفر طے کرنا پڑا پھر کہیں جا کے یہ بات ثابت ہوئی۔

پاکستان کے وجود کی بنیادی اکائی دوقومی نظریہ ہی تھی۔ جب دوقومی نظریہ پیش کیا گیا تو پتہ چلا کہ ہم تو ساتھ رہ ہی نہیں سکتے اور ایک الگ ریاست کے قیام کی جدوجہد شروع کی گئی یعنی نظریات جدوجہد کی سمتوں کا تعین بھی کرتے ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ پاکستان بنانے والے اور نظریہ پاکستان کے امین بہت دیر تک پاکستان میں رہ نا سکے مگر ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔

یہ طے ہے کہ انسان دفن ہوجاتے ہیں مگر نظریات کسی نا کسی صورت زندہ رہتے ہیں۔وقت اور حالات نے اس روش کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور اب افراد کے ساتھ نظریات بھی دفن ہوجاتے ہیں یا پھر وہ نظریات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

جس طرح ہر بات ہر کسی کیلئے فائدے مند نہیں ہوسکتی اسی طرح ہر کسی کیلئے نقصان دہ بھی نہیں ہوسکتی ۔ نظریات بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہیں کہ اگر کوئی نظریہ کسی مخصوص گروہ کی ترجمانی کرنے کیلئے وجود میں آتا ہے تو کسی گروہ کو اس سے نقصان بھی ہوتا ہے۔ نظریہ خود بخود تو وجود میں نہیں آتا اس پر لوگ تحقیق کرتے ہیں اور اخذ کرنے کے بعد پیش کرتے ہیں۔ وقت کی کروٹ نے سارے نظریات اور مزاجوں پر مٹی ڈال دی ہے اور صرف نظریہ ضرورت کو اہم ترین قرار دیا ہے ۔ آج دنیا جس اہم ترین نظرئیے کے گرد گھوم رہی ہے وہ نظریہ ضرورت ہی ہے۔

کچھ لوگوں کو یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ زندہ ہوں یا پھر وہ دار فانی سے کوچ کر چکے ہوں یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو نظریات کو جنم دیتے ہیں اور انکے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں ان لوگوں کے پاس اپنے نظریات کی ترویج سے بڑھ کر کوئی کام اہم نہیں ہوتا۔ آج دنیا ایسے لوگو ں سے خالی ہے اور کسی شتر بے مہار کی طرح چل رہی ہے یا شاید آج طاقت اور دولت کو نظریے کی اہمیت حاصل ہوگئی ہے اور یہ ایسے نظریات بن چکے ہیں جو شاید اب کسی اور نظریے کو جگہ نہیں دیں گے اور اگر دی بھی تو بہت عارضی اور واجبی سی اور پھر اسے بھی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر خرید لیا جائے گا اور اپنے ساتھ ملا لیا جائے گا۔

اب نظر تو یہ ہی آرہا ہے کہ دنیا میں بہتری ممکن نہیں ، اب حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے ۔ یہ نا امیدی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت جسے وقت ثابت کرے گا ۔اکیسویں صدی کے آغاز سے دیکھ لیجئے یا آپ پچھلی دو دہائیوں کا جائزہ لے لیجئے سب کچھ سمجھ آجائے گا۔ جو ملک یہ چاہ رہا ہے کہ وہ سب کو کمزور کر کے خود طاقت ور ہوجائے گا تو بہت جلد وہ بھی کمزور ہوکر بکھرنا شروع ہوجائے گا۔

اگر دنیا کا کوئی ملک بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پرانے نظریات پر چلاسکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ دنیا میں رائج تمام نظریات کو ماننے والے فوت ہوچکے ہیں یا پھر ہونے والے ہیں مگر نظریات کتابوں تک محدود ہیں اور رہیں گے ۔یہاں ہر دن گزارنے کیلئے مختلف نظریات پیش کیئے جاتے ہیں اور بربادی کا سامان فراہم کیا جاتا ہے ۔ نسلوں کی بربادی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یکسوئی نہیں ہے اور یکسوئی کیلئے ایک نظریہ ہونا ضروری ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

خالد زاہد: خالد زاہد پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل ہیں، شعر کہنے کا شغف رکھتے ہیں‘ آرٹیکل اور بلاگ تحریر کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔