The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

کراچی شہر‘ کیا قلتِ آب سے مرجائے گا؟

کرۂ ارض پر موجود پانی میں سے ’میٹھا پانی‘ زندگی بالخصوص انسانی زندگی کے لیے لازمی جزو ہے۔ زمین پر زندگی کی ضمانت اور فطرت کے نظام میں توازن کی بنیاد پانی ہی ہے۔ پانی ہر جان دار کی بنیادی ضرورت ہے‘ خا ص طور پر میٹھا پانی جو کہ دن بدن کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زرعی ملک ہونے کے ناطے ہمارے ہاں زراعت میں پانی کا بے تحاشا استعمال ضروری ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قدرتی وسائل کے حوالے سے پاکستان ایک بہت امیر ملک ہے۔ یہاں بحیرۂ عرب کا سمندر بھی ہے اور وادیِ مہران کی تاریخ لیے دریائے سندھ بھی، وسیع علاقے پر مشتمل ساحلی علاقہ بھی ہے اور عالمی اہمیت کی جھیلیں بھی ہیں۔ پانی کے ذرائع کے حوالے سے پاکستان ایک منفرد ملک ہے کیوں کہ یہاں پر ہر قسم کے واٹر ایکو سسٹم پائے جاتے ہیں۔ ہمارے شمالی علاقوں میں قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں جو کہ میٹھے پانی کے بہترین ذخائر ہیں۔ ان تمام آبی وسائل میں آب گاہوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محققین کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ سنہ 2050 تک دنیا کی متوقع 9.7 بلین آبادی میں سے 5 بلین افراد (52 فیصد)ک و آبی قلت والے علاقوں میں رہنا پڑے گا۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نےکا کہنا ہے کہ ’سنہ 2050 تک پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہو جائے گی‘۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو وقت ضائع کیے بغیر پانی کو ذخیرہ کرنے کی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیئے اور زیرِ زمین پانی کو محفوظ اور منظم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار بنانا چاہیئے۔ عالمی اداروں کے مطابق زمین پر 97 فیصد نمکین پانی ہے جب کہ میٹھا پانی 3 فیصد ہے جس میں سے صرف 1 فیصد دریاؤں ، جھیلوں،کنوؤں،چشموں اور آبشاروں کی صورت میں دستیاب ہے جبکہ باقی 2 فیصد برف اور بڑے گلیشیئرز پر مشتمل ہے جس کا حصول موسم کی تبدیلی کا محتاج ہے۔

دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے عالمی سطح پر پانی کے وسائل پر شدید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں کمیونٹیز مستقبل میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ عالمی موسمیاتی تغیر (کلائمٹ چینج) کے باعث پانی کی کمی والے علاقوں میں پانی کی طلب مزید بڑھ جانے کی توقع ہے۔ پینے کے پانی کے لیے میٹھے پانی کی جھیلیں ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی کل میٹھے پانی کی جھیلوں میں سندھ کی جھیلوں کا 65 فیصد حصہ ہے۔ ہمارے ملک کی دو بڑی اوراہم جھیلیں ہالیجی اور کینجھر سندھ میں واقع ہیں۔

پاکستان میں رواں برس پانی کی قلت کا خدشہ*

کراچی میں میٹھے پانی کی فراہمی کے عام طور پر دو ذرائع ہیں۔ دونوں کراچی کے شمال مغرب میں واقع ہیں۔ کینجھر جھیل 122 کلو میٹر اور حب ڈیم 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کینجھر جھیل پاکستان کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ یہ خوبصورت جھیل صوبہ سندھ میں ٹھٹھہ کے قریب واقع ہے جسے ’کلری جھیل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مصنوعی جھیل ہے جو دو قدرتی جھیلوں ’کینجھر‘ اور ’سنہری‘ جھیل کے ملاپ سے وجود میں آئی۔ کینجھر جھیل کو بین الاقوامی اہمیت کی آب گاہ یعنی ’رامسر سائٹ‘ کا درجہ بھی حاصل ہے اور جنگلی حیات کے لیے یہ ایک اہم جگہ ہے۔ اس جھیل کو ادبی اہمیت بھی حاصل ہے۔’نوری جام تماچی‘ کی مشہورِ زمانہ لوک کہانی اسی جھیل کے گرد گھومتی ہے۔ لاتعداد ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کا مسکن یہ جھیل ایک مشہور سیاحتی مقام بھی ہے۔ یہاں فیملیز کے لیے بہترین کاٹیجز موجود ہیں جہاں رات میں قیام کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہر کراچی، کینجھر جھیل سے تقریباً 78 فیصد پینے کا پانی حاصل کرتا ہے جو کہ دو نہروں کے ذریعے آتا ہے جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں۔ کراچی اور ٹھٹھہ کے بیشتر حصوں میں پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ یہی جھیل ہے۔ کینجھر جھیل 135 کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور اس میں دریائے سندھ سے پانی بھرتا ہوتا ہے۔ اس کا حجم سردیوں میں کم ہوجاتا ہے اور گرمیوں میں پھیلتا ہے کیوں کہ گرمیوں میں بارشیں ہوتی ہیں، گلیشیئرز پگھلتے ہیں تو دریا میں پانی آتا ہے اس لئے جھیل کا سائز بڑھ جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کینجھر جھیل سے روزانہ 1200 کیوسیک پانی کراچی بھیجا جاتا ہے اور جب سے دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی رک گئی ہے تب سے کینجھر کے پانی کی سطح کم ہو کر 47 فٹ رہ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید کم ہو کر 42 فٹ ہوگئی تو کراچی کو پانی کی سپلائی رک جائے گی۔

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ جھیل کا ایکو سسٹم خطرے کی زد میں ہے کیوں کہ کلری بگھار فیڈر کینال کے ذریعے صنعتی فضلے کا اخراج بہت بڑھ گیا ہے جو اپنے ساتھ کوٹری شہر کے صنعتی علاقوں کی غلاظتیں بھی ساتھ لاتا ہے۔ کوٹری میں بے شمار صنعتیں ہیں جو اپنے خارج شدہ مواد میں نکالتی ہیں اور یہ کیمیکل سیوریج کے ساتھ مل کر کینجھر جھیل میں خارج ہوجاتے ہیں پھر یہ پانی پینے کے لیے کراچی بھیجا جاتا ہے۔

گرمی کی شدت کے باعث کراچی کے رہائشیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی ماہر رفیع الحق کے مطابق کراچی کا اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں بلکہ پانی کی ناقص اور غیر متوازن تقسیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پانی کے پائپ پرانے اور ناقص ہوگئے ہیں اور 30 سے 40 فیصد پانی رِس کر زیرِ زمین چلا جاتا ہے۔ پرانے اور ٹوٹے ہوئے پائپ جو کہ سیمنٹ کے بنے ہوئے ہیں اس سے صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔ زمین میں تبدیلیاں آرہی ہوتی ہیں کبھی وہ بڑھتی ہے کبھی گھٹتی ہے، کبھی اونچی نیچی ہوجاتی ہے۔ اکثر جگہوں پر پانی کی پائپ لائنوں کے کنکشن کے ساتھ کہیں کہیں گٹر کا کنکشن بھی ہوتا ہے۔ اگر پائپ لائنوں میں دراڑ آجائے تو گٹر کا پانی پینے کے پانی کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس تیاری مکمل نہیں ہے۔ کئی کئی دن تک علاقوں کو بند کر کے پائپ کی مرمت کی جاتی ہے۔

سیوریج واٹر فلٹریشن پلانٹ

انہوں نے مزید بتایا کہ بہت سے کراچی کے شہری اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ جس پانی کا بل وہ دیتے ہیں اس میں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تمام انتظامی امور بشمول ان کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ان اخراجات میں بجلی کا بل اور پانی کی پمپنگ دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گِجّو ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی کو فلٹریشن پلانٹ سے گزارا جاتا ہے اور پھر کراچی کی طرف رواں دواں کیا جاتا ہے اور یہیں سے پانی کی تقسیم کا معاملہ خراب ہوتا ہے۔ اصل بات جو توجہ کے متقاضی ہے کہ وہ پانی جسے کراچی پہنچنا چاہیئے وہ کچھ زرعی زمینوں تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ جب تک نظام نہیں بدلے گا تب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بجلی، پانی، گیس ان بنیادی چیزوں کو جب تک میرٹ پر نہیں لائیں گے کراچی شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور یہ شہر پائیدار ترقی کا حامل نہیں ہوگا اور میرٹ یہ ہے کہ آپ کوٹہ دیں تو منصفانہ بنیاد پر دیں۔ جس طرح سے دنیا میں ہو رہا ہے اس طرح کریں یہ نہیں کہ جو طاقتور ہے اس کا راج ہو۔ اس کے علاوہ تکنیکی طور پر تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی یا تو تقرری نہیں ہوتی، اگر ہوتی بھی ہے تو انہیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔زیادہ تر تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔

کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر میں میٹھے پانی کی قلّت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں اب ہر دوسرے گھر میں پانی کے لیے بورنگ کی گئی ہے۔ بے شمار لوگ پینے کے لیے بھی کھارا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اوراسی شہر کراچی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو پینے کا پانی آس پاس سے بھرتے ہیں۔ گاؤں کی عورتوں کی طرح شہری عورتیں بھی پانی بھر بھر کر لاتی ہیں کیوں کہ زیادہ تر خواتین کا تعلق متوسط طبقے سے ہوتا ہے اور وہ دوسرے شہریوں کی طرح پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں یا اگر وہ استطاعت رکھتی بھی ہیں تو ان کے اہلخانہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پانی بھی خرید کر پیا جائے۔

خیر، عورتوں کا پانی بھرنا ایک الگ موضوع ہے‘ اصل مسئلہ شہر کراچی میں میٹھے پانی کا بحران ہے جو شدید گرم موسم میں شہریوں کے لئے وبالِ جان ہے۔ شہر میں پینے کا پانی دکانوں پر تو دستیاب ہے مگر گھروں میں موجود میٹھے پانی کی لائنیں پانی کے انتظار میں خشک پڑی رہتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کی بڑی تعداد نے کراچی کا رخ کیا ہے جو پانی کی فراہمی کے حوالے سے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اگلے 10 سالوں میں پاکستان کی آبادی مزید بڑھنے کی توقع ہے اور اسی عرصے میں یعنی آنے والے 10 سالوں میں کراچی کی آبادی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔ ایسے شہر میں جہاں پینے کی پانی کی پہلے ہی شدید قلّت ہو وہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے نتائج گہرے اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email