The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

ہم سب ہی برائے فروخت ہیں

بحیثیت قوم بارہا ہمیں یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ہم سب برائے فروخت ہیں یعنی سب کی قیمتیں لگتی ہیں اور جیسے بازار میں مختلف انواع ؤ اقسام کی اشیاء فروخت کے لیے پیش ہوتی ہیں ، بالکل اسی طرح سے ہم لوگ بھی برائے فروخت ہیں۔ اب ہمارے خریدار ہمیں خرید کر آگ لگادیں یا پھر کسی بھی طرح سے ہماری بے عزتی کا سامان کریں ہم اس کی ملکیت جو ٹھیرے۔

بدعنوانی بھی دوطرفہ عمل ہے اگر ایک بدعنوانی کررہا ہے تو کسی کے ساتھ بدعنوانی ہورہی ہے یعنی اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اس مکمل زنجیر کو بے نقاب کریں جس کی کڑیاں مل کرکسی کو بدعنوان کہلانے تک کے عمل تک پہنچانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بد عنوان افراد نہیں ہوتے بدعنوان معاشرہ ہوتا ہے۔ سڑک پر اگر ساری گاڑیاں اپنی اپنی رو میں رواں دواں رہیں تو بد انتظامی جسے عرف ِعام میں ٹریفک جام کہا جاتا ہے‘ نا ہو۔ جہاں کسی ایک گاڑی کے چلانے والے نے اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کی ‘وہیں سے سارا معاملہ خراب ہوتا چلا گیا ( ایمبولینس کےعلاوہ)۔

بدعنوانوں کو سادہ لوح لوگ بدعنوان بننے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ کچھ تلخ حقیقتیں ہیں اور ان کی وجہ ہمارا نظام ِعدل ہے جہاں عام آدمی کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی تو عام آدمی اس خوف سے کہ کہیں کوئی بڑا آدمی نا ہو‘ گاڑی کو راستہ دے ہی دیتا ہے اسی طرح بدعنوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتاہے۔ہم اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہوئے اس بات کو خاطر میں ہی نہیں رکھتے کے اگر یہ ووٹ غلط نشان کے ساتھ چلا گیا تو کسی کو بدعنوانی کا پروانہ مل جائے گا اور اس بدعنوانی کی اکائی ہمارا ووٹ ہوگا۔

آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھ لیا جائے تو چور دیکھنے والے یا والوں کو ان کا منہ بند رکھنے کی قیمت دینے کو تیا ر ہوتا ہے اور شاید اکثریت ایسا کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کا تو کچھ بھی نہیں بگڑے گا الٹا مصیبت ہمارے ہی گلے پڑ جائے گی۔ اس لیے اپنی مرضی کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اس چور کا حوصلہ بلند کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔گاہے بگاہے ہمارے سیاستدان جو کوئی بھی مخالفت کی نشستوں پر براجمان ہوتے ہیں بتاتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ بلکہ پیدا ہونے والا بچہ بھی کتنی رقم کا مقروض ہے۔

بیچنے والے کے لیے یہ اہم نہیں ہوتا کہ خریدار کون ہے اس کے لئے یہ اہم ہوتا ہے کہ اس کے منہ مانگے دام جو کوئی بھی دے دے ، وہ اس بات سے بھی عاری ہوتا ہے کہ خریدار اپنی اس حیثیت کو ظاہر کر رہا ہے جس حیثیت کی وہ شے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا ہے ۔ بظاہر تو نہیں مگر لگتا ایسا ہی کہ ہم لوگ اپنی اولادوں کو اچھی سے اچھی تعلیم اس لیے ہی دلوا رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ میں فروخت کر سکیں۔

دھماکہ پاکستان کی مسجد میں ہو، امام بارگاہ میں ہو، مندر میں ہو یا پھر گرجا گھر میں ہو یہ سب پاکستانی ہیں۔ پاکستان کی اینٹوں سے بنے ہیں ان اینٹوں سے جن میں پاک سرزمین کی مٹی شامل ہے انہیں نام دے کر مختلف کیا گیا ہے جیسے یہ جگہیں ایک ہی خدا کی بڑائی ماننے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ کیونکہ سرِ عام جو یہ بات کہنے سے خوف کھاتے ہیں کہ اللہ ایک ہے تو وہ چپکے سے ان مخصوص چار دیواریوں میں سرگوشیوں میں تھوڑی بہت شرمندگی سے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اپنے رب کی حقانیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

یہ مضمون کسی مذہبی افہام و تفہیم کی مد میں نہیں لکھا جا رہا ہے ۔ اس میں تو پاکستانیت کے بنیادی تصوروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر امت کا کوئی نا کوئی فتنہ ہوتا ہے تو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی امت کا فتنہ مال اور اولاد کو قرار دیا اور بہت ہی وضاحت سے بتا دیا کہ اولاد کی محبت میں مال کے حلال اور حرام قید سے آزاہوتے جا رہے ہیں۔ معاشرے میں نفسا نفسی کی وجوہات کی اگر فہرست مرتب کی جائے تو سرِفہرست مال کا حصول کیسے ممکن ہو لکھا جائے گا۔ ہم اپنی ضرورتیں بڑھاتے ہی جا رہے ہیں دشمن کے سازشی ذہن نے سمجھ لیا ہے کہ ہمیں کیسے ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر، انجینئر، میکینک ، ہسپتال والے ، ہوٹلوں والے غرض یہ کہ درس و تدریس سے وابسطہ لوگ بھی اپنی اپنی بولیاں لگوارہے ہیں، جہاں سے اچھی قیمت ملتی ہے وہاں کے ہوجاتے ہیں۔ ایسا تو ہمیشہ سے ہی ہوتا آیا ہے جس کی وجہ سے ایک مثال وجود میں آئی کہ گھوڑا گھاس سے یاری کرے گا تو کھائے گا کیا۔ لیکن پہلے وقتوں میں لوگ انمول ہوتے تھے۔ اخلاقیات اور اقدار کے علمبردار ہوتے تھے شاید ان جیسے لوگوں کے لیےہی شاعر نے جذبات کو لفظوں کی شکل میں شعر بناکر پیش کیا ہے کہ

ہم خوشبو کے سوداگر ہیں ‘ سودا سچا کرتے ہیں
جو گاہک پھولوں جیساہو بن داموں بک جاتے ہیں

ہم سب آسائشوں کے دلدل میں پھنستے ہی چلے جا رہے ہیں اوران آسائشوں کے حصول کے لیے اپنے آپ تک کو گروی رکھنے سے گریز نہیں کر رہے۔ اب تک چھپ چھپاکے بدعنوان اپنی بدعنوانیوں سے معزز بنے چھپتے پھر رہے تھے مگر اب بدعنوانی کسی خاص ملک یا قوم کا نہیں بلکہ یہ امت کا مسئلہ بن کر سامنے آیاہے ۔ اس امت کی بدعنوانی کو ہماری سب سے بڑی کمزوری سمجھ کر (شاید ہے بھی) امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایک انتہائی کاری اور سفاکانہ ضرب لگائی ہے جس سے ہر مسلمان جس کے دل میں ابھی رائی کے برابر بھی ایمان ہے تڑپ کر رہ گیا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے لیے عالمی اداروں نے قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ہم موت کے آنے تک خود کو موت سے ماورا سمجھنے لگے ہیں۔ ہم سب نے اپنے آپ کو دنیا کی آسائشوں کے آگے برائے فروخت لکھ کر پیش کردیاہے اور ہم مسلسل فروخت ہورہے ہیں ۔ جی ہاں اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہم سب ہی برائے فروخت ہیں۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email