The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

فٹ بال ورلڈ کپ ‘ نام ہے جنون کا

فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جانے والا تھا ایک آدمی اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا اور دیکھا کہ اس کے ساتھ والی سیٹ خالی ہے ، اس نے خالی سیٹ کے ساتھ بیٹھے ایک اور تماشائی سے پوچھا، اس سیٹ پر کوئی بیٹھا ہے ؟۔تماشائی ، نہیں، یہ سیٹ خالی ہے ، آدمی کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ورلڈ کپ کی ٹکٹ لے کر بھی اتنا بڑا میچ دیکھنے نہیں آیا ۔تماشائی: اصل میں یہ سیٹ میری ہے میں نے اپنی بیوی کے لیے لی تھی مگر بدقسمتی سے اس کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا ، اس لیے سیٹ خالی ہے ، آدمی، سوری ، مگر آپ یہ سیٹ اپنے کسی دوست ، پڑوسی یا رشتہ دار کو دے دیتے تاکہ وہ یہ زبردست میچ دیکھ سکتے ، تماشائی نے اپنا سر نفی میں ہلایا پھر جواب دیا وہ سب میری بیوی کے جنازے پر گئے ہیں ، خیر یہ تو لطیفہ تھا لیکن فٹ بال فیور ایسے ہی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ فٹ بال 2018 شروع ہوچکا ہے اور دیوانوں کو اس کے بخار نے آن دبوچا ہے جو کہ ایونٹ ختم ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اترتا جائے گا ۔ یاد رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کھیل فٹ بال ہے جو کہ زیادہ تر ممالک میں باقاعدہ فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔ برازیل دنیا کا واحد ملک ہے جو ا ب تک پانچ مرتبہ عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے ، فٹ بال برازیل کا قومی کھیل ہے اور اس کے قومی پرچم کا حصہ بھی ہے۔

فیفا ورلڈ کپ کا آغاز ۱۴ جون کو روس کے شہر ماسکو میں ہوا جبکہ اختتام 15 جولائی کو ہوگا۔ 14 جون کو ہونے والے افتتاحی میچ میں گروپ اے میں شامل میزبان ٹیم روس اور سعودی عرب کے درمیان ماسکو کے لوژنکی اسٹڈیم ہو جس میں رو س فاتح رہا ۔

اس اسٹڈیم میں 80 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ج۔ فٹبال ورلڈ کپ 2018 کے ڈراز کا اعلان گزشتہ سال کردیا گیا تھا، ورلڈ کپ میں کل 64 میچ ہوں گے ، جس میں کل 32 ممالک کی ٹیمیں شامل ہیں ، جن کو 8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ،جبکہ گروپ میں شامل ہر ٹیم مجموعی طور پر تین میچ کھیلے گی ، گروپ اے میں میزبان ٹیم روس کے علاوہ ، یوروگوئے، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں، گروپ بی میں پرتگال، اسپین، ایران اور مراکش کی ٹیمیں شامل ہیں۔ اسی طرح گروپ سی میں فرانس، پیرو، ڈینمارک اور آسٹریلیا کو شامل کیا گیا ہے جب کہ گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیہ شامل ہیں۔ گروپ ایف میں جرمنی، میکسیکو، سویڈن اورجنوبی کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیم، انگلینڈ ،تیونس اور پاناما کی ٹیمیں شامل ہیں اور گروپ ایچ میں پولینڈ، کولمبیا، سینیگال اور جاپان کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاناما اورآئس لینڈ کی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ ایونٹ میں شامل ہوئی ہیں۔ آئس لینڈ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ترین ملک ہے۔ برازیل واحد ملک ہے جس نے اب تک کے تمام فٹ بال ورلڈ کپ مقابلوں میں شرکت کی ہے اورسب سے زیادہ ورلڈ کپ ٹائٹل بھی برازیل کے پاس ہی ہیں۔

فٹ بال ورلڈ کپ 2018 اس مرتبہ روس میں منقعد کیا جا رہا ہے ، جو روس میں ہونے والے اب تک کھیلوں کے میگا ایونٹ میں دوسرا بڑا ایونٹ ہے ، روس میں اس سے پہلے 1980 میں ماسکو اولمپکس کا انعقاد کروا چکا ہے ، روس میں ورلڈ کپ کے میچز دارلحکومت ماسکو سمیت دیگر شہرجن میں لینن گراڈ، قازان، کراسنوڈار، سینٹ پیٹرزبرگ، سمارا، سارانسک شامل ہیں،ورلڈ کپ کے میچ کل 11شہروں کے 12 اسٹدیم میں میچز ہوں گے جن کو خصوصی طور پر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا گیا ہے ، روس کے شہر ماسکو کا اسٹیڈیم لوژنکی جو اولمپک کمپلیکس ہے اور روس کا سب سے بڑا اور قدیم اسٹیڈیم ہے۔

روس کے دارالحکومت میں واقع لوژنکی اسٹڈیم 1955 سے 1956 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اسٹڈیم میں 81 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔روس اس وقت عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہے اب یہ ایونٹ اس کے لیے بہت بڑا موقع ہے کہ وہ اس کے ذریعے دنیا کو اپنے قریب لا سکتا ہے ،روس اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے، فیفا کے مطابق ورلڈ کپ کے میچز کی 24 لاکھ ٹکٹس فروخت ہو چکی ہیں اور سب سے زیادہ ٹکٹس خود میزبان روس کے باشندوں نے خریدی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر روس کے بڑے حریف ملک امریکہ کے باشندوں نے خریدی ہیں جن کی تعداد 82 ہزار سے زیادہ بنتی ہے اسی طرح تیسرے نمبر پر برازیلن شہریوں نے خریدی ہیں جن کی تعداد 72 ہزار سے زیادہ بنتی ہے جبکہ خود فیفا نے ایک لاکھ ٹکٹس اپنے مندوبین کے لیے خریدی تھیں لیکن انہیں بھی بعد میں فروخت کر دیا گیا ہے ‘ فٹبال ورلڈ کپ کی ٹکٹسں قرعہ اندازی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں اور ان کی قیمت 105 ڈالر سے لے کر 1450 ڈالر تک ہے۔ روسی حکومت شائقین فٹبال کے لیے ورلڈ کپ 2018 میں نئی عارضی پالیسی کے اعلان کیا ہے جس کے مطابق فٹ بال شائقین کو عالمی میلے کے دوران بغیر ویزا میزبان ملک روس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے ، جس کا اطلاق پاکستانی شائقین پر بھی ہورہا ہے۔

ورلڈ کپ ٹرافی

ورلڈ کپ فٹ بال جہاں کھلاڑی ، مختلف ٹیمیں شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں وہیں ورلڈ کپ کی ٹرافی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہے کھلاڑیوں کے ساتھ ایونٹ میں شامل مختلف ممالک کی عوام اور ان فینز کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ٹیم فاتح بن کر ورلڈ کپ ٹرافی لے آئے ، فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی 18 قیراط سونے سے بنائی گئی ہے جس کا وزن 6 کلو گرام سے زائد ہے۔ عالمی کپ شروع ہونے سے قبل ورلڈ کپ کی ٹرافی کو دنیا بھر میں چکر لگوایا گیا ، ورلڈ کپ فٹ بال 2018 کی ٹرافی کا عالمی دورہ رواں سال 22 جنوری سے شروع ہوا تھا، یہ ٹرافی چھ براعظموں کے 51 ممالک کے 91 شہروں سے ہوتی ہوئی 30 اپریل کو جاپان پہنچی جہاں سے اس کا دنیا کا چکر مکمل ہوا ، جبکہ 3 جون کو ٹرافی روس لائی گئی جہاں صحافی، نوجوان کھلاڑیوں، مہمانوں اور ماسکو کے رہائشیوں کو دکھایا گیا۔ اس مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی پہلی مرتبہ پاکستان لائی گئی۔ فروری میں اس ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں کی گئی ، جس کے بعد ٹرافی 4 فروری کو قازقستان کے لیے روانہ کر دی گئی تھی۔

ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والافٹ وال


فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی رینکنگ کی فہرست میں کل 206 ممالک ہیں جس میں پاکستان کا نمبر 200 پر ہے ۔ پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت تو نہ کر سکی لیکن پاکستان کا تیار کردہ فٹ بال عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے۔ 2018 کے عالمی کپ میں بھی پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوگا ، بلکہ اس فٹ بال سے کھلاڑی جہاں زمین پر گراؤنڈ میں کھیلیں گے ،وہیں یہ فٹبال خلاء میں بھی لے جایا گیا ، روسی خلائی کمپنی روس کاسموس نے کچھ دن قبل فوٹیج جاری کی جس میں خلاءمیں موجود اولیگ آرٹمیویوف اور اینٹن شکاپلورف نے میگا ایونٹ کی ٹی شرٹس پہن کر فٹبال کو ککس لگائیں۔ فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا تیار کردہ فٹبال 1982 سے 2002 تک استعمال ہوتا رہا ، 2006 میں پہلی بار فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کی بجائے تھائی لینڈ میں نئی ٹیکنالوجی ’ تھرمو مولڈڈ‘ سے تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا اور 2010 میں بھی اسی ٹیکنالوجی سے چین میں تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم 2014 اور موجودہ 2018 ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا فٹ بال پھر سے استعمال ہونے لگا ہے۔

ورلڈ کپ میں شامل ممالک کی رینکنگ


موجودہ ورلڈ کپ کا معرکہ بہت زیادہ دلچسپ ہوگا جہاں ہر ٹیم کی کوشش ہو گی کہ وہ اگلے مرحلے تک پہنچ جائے ، اب کون سی ٹیم ورلڈ کپ کی ٹرافی لے اڑے گی۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا پر فیفا نے عالمی رینکنگ جاری کی ہے جس سے اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ زیادہ مرحلے کون سی ٹیم طے کر سکتی ہے؟۔ فیفا کی رینکنگ کے مطابق پہلے درجے پر دفاعی چمپیئن جرمنی، 2 درجے پر برازیل ،3 پر بلیجئم ،4 درجے میں پرتگال ، 5 پر ارجنٹائن ، 6 پر سوئٹرزلینڈ ،7 پر فرانس ، 8 پر پولینڈ ، 11پر انگلینڈ جبکہ میزبان روس کا نمبر رینکنگ میں 70 ہے۔ عالمی سطح پر جرمنی اور برازیل کو زیادہ فیورٹ سمجھا جا رہا ہے، برازیل پانچ مرتبہ چمپئن بھی رہ چکا ہے لیکن برازیل کے عظیم فٹبالر پیلے جو کہ تین مرتبہ عالمی کپ بھی کھیل چکے ہیں کا کہنا ہے کہ برازیل کی ٹیم اس مرتبہ کمزور پوزیشن میں ہے اب تمام صورت حال کا پہلے سے صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے مزید حالات کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ کپ کے میچز پر نظر رکھنی ہو گی۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں