نو منتخب حکومت کے پہلے سات دن

عمران خان نے 19اگست کو وزیراعظم دفتر سنبھالا اور یوں ان کے اقتدار کو 7دن گزر گئے ہیں اور آج آٹھواں دن ہے، ان سات دنوں میں تحریک انصاف نے پنجاب، خیبرپختونخواہ اور وفاقی کابینہ کے تقرر کے ساتھ ساتھ کئی اہم فیصلے کیے ہیں جو ان کی پالیسی اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔ قوم سے اپنے پہلے خطاب میں عمران خان نے قوم کی امیدیں بڑھادی ہیں، اب ہر گھڑی اور ہر قدم وہ نئی حکومت کو امید کے ساتھ دیکھتے ہیں اور امید یہ ہے کہ نئی حکومت قوم کیساتھ کیے وعدے پورے کرے، عمران خان نے سفر بچت پروگرام سے شروع کیاا ور وزیراعظم سے ملحقہ تین کمروں پر مشتمل ملٹری ہاؤس میں رہائش اختیار کی، پروٹوکول ختم کیا اور 2گاڑیاں زیراستعمال رکھتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کی غیر ضروری گاڑیوں کی نیلامی کی منظوری دے دی، جبکہ کابینہ کے زیراستعمال ایک سرکاری گاڑی ہوگی۔ گورنر ہاؤسز کو بھی زیراستعمال نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسی طرح نو منتخب وزیراعظم نے پہلے ہی اجلاس میں شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈال کر احتساب کے عمل کو جاری رکھنے کا عملی اقدام کردیا ہے، جسے اپوزیشن جماعتوں نے انتقامی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔

گزشتہ سات دنوں میں کابینہ کے2اجلاس ہوئے جبکہ نئے وزیراعظم نے ہر ہفتے کے دوران دو اجلاس بلانے کا اعلان کررکھا ہے، تاکہ100روزہ پلان کے حوالے سے ہفتے میں 2اور مہینے میں8بار جائزہ لیا جاسکے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے عمران خان نے اپنی ٹیم سے زیادہ تر بہترین افراد کو چنا ہے۔تاہم وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر سندھ کی تعیناتی پر سوالیہ نشان ہے ، جو یقینا ان کی کارکردگی ہی دھو سکتی ہے، کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے عثمان بزدار کا انتخاب کرکے دراصل ایسا کارڈ کھیلا ہے جس کے بعد عثمان بزدار کامیاب ہوجاتے ہیں تو بھلے بھلے اور ہار جاتے ہیں تو کہا جائے گا کہ دور دراز سے نمائندگی دی تھی تاکہ محرومیاں کم کرسکیں، مگر پنجاب میں بہانے نہیں چلیں گے، کام بولے گا اور کام ہی بولنا چاہیے۔ پنجاب کی حکومت کے سامنے بڑے امتحان ہیں، اورنج ٹرین منصوبہ مکمل کرنا ہے، جنوبی پنجاب صوبے کیلئے قانون سازی کرنی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنا ہیں، پولیس کی نظام میں اصلاحات لانی ہیں، طاقتور بیوروکریسی سے ٹکرانا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی ٹیم جس میں وزیراعلیٰ، ان کی معاونت میں سپیکر پنجاب اسمبلی، سرپرستی میں گورنر پنجاب اور ہاتھ بٹانے میں23رکنی مضبوط کابینہ کیسے کامیابیوں سے ہمکنار ہوتی ہے ۔

ابتدائی سات دنوں کی بات کی جائے تو خارجہ محاذ پر پاک بھارت مذاکرات اور تعلقات موضوع بحث رہے خود عمران خان نے اس پر چار ٹویٹس کیے، سدھو کی آمد کے بعد میڈیا میں یہ موضوع رہا، مگر ان سات دنوں میں دو جگہ پر تردید کی نوبت آئی ، ایک تردید امریکہ کے بیان پر ہم نے کی ، دوسری تردیدہمارے بیان پر بھارت نے کی، یعنی کہ شروع میں ہی گرما گرمی کا آغاز ہوگیا ہے، عمران خان کی امریکی وزیرخارجہ سے ٹیلیفونک بات چیت پر امریکہ نے حقائق کے برخلاف پریس ریلیز جاری کی جو شاید پاکستان کی فوج اور حکومت کے درمیان تلخیوں کا سبب بن سکتی تھی مگر وزارت خارجہ کی جانب سے فوری جواب کے بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا، وزارت خارجہ ہی کی بات کی جائے تو ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کےلیے اب کوئی بڑا وفد نہیں جائے گا، بلکہ 3سے7افراد کا مختصر وفد شرکت کرے گا۔

اگرہم پہلے سات دن وزارتوں کی کارکردگی پر بات کریں تو ہمیں وزارت اطلاعات کی جانب سے پاکستان ٹیلیویژن کو سیاست سے آزاد کرنے کا فیصلہ ملتا ہے جسے صحافی طبقے کی جانب سے خوب سراہا گیا، وزارت ریلوے کا آغاز کچھ اچھا نہیں ہے، شیخ رشید احمد کا پہلا ہفتہ ہی تنازعات کے ساتھ شروع ہوا، وزارت خارجہ میں نئی تحریک آئی، وزارت خزانہ نے پانچ ہزار کے نوٹ ختم کرنے سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جبکہ دیگر وزیر وں نے بھی اپنا دفتر سنبھالتے ہوئے عملے سے بریفنگ لی اور کام کا آغاز کیا۔

مجموعی طور پر حکومت کے پہلے7دن عمران خان اور نئی حکومت کی سمت کا تعین کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس میں واضح ہے کہ نومنتخب حکومت کفایت شعاری اپنائے گی، احتساب کا سلسلہ جاری رہے گا اور صوابدیدی فنڈز کے راستے بند ہونے کے ساتھ ساتھ عیاشی، پروٹوکول اور فضول خرچی بند کردی جائے گی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے93دن کے اندر تحریک انصاف 100 روزہ پلان پر عمل درآمد کو کیسے یقینی بنائے گی، قوم کی نظریں منتظر ہیں اور عوام یقینا مثبت فیصلوں میں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

رضی طاہر: رضی طاہر صحافی اور کالم نگار ہیں‘ زمانہ طالب علمی سے سیاست پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں