The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

پاکستان کے تعلیمی نظام میں خامی کیا ہے؟ (دوسری قسط)۔

شعور آتا ہے علم سے، کیوں کہ عوام باشعُور اُسی وقت ہوں گے جب وہ تعلیم یافتہ ہوں ۔ علم یعنی تعلیم کی جو صُورتِ حال ہمارے یہاں ہے وہ کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں ہے۔ یہ ابتری یا دُوسرے لفظوں میں اگر کہیے تو یُوں کہیئے کہ تعلیم کے حوالے سے خوفناک صُورتِ حال صِرف ہمارے یہاں یعنی پاکستان میں ہی نہیں تقریباً تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ ہی صورتِ حال ہے

گزشتہ سے پیوستہ

کرن صدیقی


تعلیم ایک ایسی شے ہے جس کی اہمیت کو ہر مہذب معاشرے میں ہمیشہ ہر دور میں تسلیم کیا گیا ہے اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کا ترقی کرنا ناممکن امر ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کو بام ِعروج پر پہنچانے کا زینہ تعلیم ہی ہے مگر یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں ابھی تک تعلیم کی اہمیت کو سمجھا نہیں گیا ہے ،آزادی کے اکہتر سال بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ شعبہ پوری شدت سے رو بہ زوال ہے۔

آج تک حکومت کی طرف سے ہمارے یہاں تعلیم کے شعبے میں نت نئے تجربے کیے جاتے ہیں اور مسلسل کیے ہی جارہے ہیں جن کے نتائج بہتر نہیں نکلتے لیکن اس کے باوجود بھی اربابِ اختیار و اقتدار اک عجیب سرفروشانہ قسم کےجذبۂ استقلال کے ساتھ اپنی ہی روش پہ استقامت کے ساتھ گامزن ہیں ، بلکہ اس سلسلے میں زیادہ مناسب لفظ جو استعمال کرنا چاہیے وہ ڈھٹائی ہے، تو بات یہ ہے کہ اگر استقامت یا ڈھٹائی کا عملی مظاہرہ دیکھنا مقصود ہو تو وہ ہمارے یہاں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔

اس رویے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر شعبے میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے بہتری آنے نہیں دی ہے اگر ان برایوں کو ختم کرکے صرف اور صرف قابلیت کے حساب سے کام کیا جائے اور اس قسم کی ہر نوع کی بدعنوانی سے اس شعبے کو پاک کردیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا تعلیمی معیار بہترین ہو اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی سطح تک پہنچ جائے ۔ بات تو نیت کی ہے کرنا چاہیں تو آج ہی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس سلسلے میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بنیادی خرابیاں ہیں کیاہیں۔؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں جو چند بہت بڑی بڑی خامیاں ہیں ان میں ایک یہ ہے پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم نہیں

یہاں متوازی طور پر بیک وقت کئی تعلیمی نظام کام کر رہے ہیں مثال کے طور پر ہر شہر کا اپنا بورڈ سسٹم اور نصاب ہے پھر یہاں کیمبرج، او اور اے لیولز، امریکن اسکولنگ سسٹم اور آغا خان بورڈ وغیرہ جیسے تعلیمی نظام طلبا کو تعلیم دے رہے ہیں مگر ان سب کا نصاب اور امتحانی طریقہ کار باہم مختلف ہے۔ ہر تعلیمی نظام کے نصاب میں شامل مضامین اور طریقہ تدریس میں اتنا اختلاف ہے کہ دیکھ کے حیرانی ہوتی ہے۔ جب ایک سے زائد چیزیں سامنے ہوں تو لازمی بات ہے ان میں سے ایک دوسری سے بہتر ہوگی، تو کیا یہ مناسب بات نہ ہوگی کہ ان تمام نظام ہائےتعلیم میں سے کسی ایک بہترین نظام کو منتخب کرکے اسی کو پورے ملک میں رائج کیا جائے، تاکہ ہر علاقے کے طلبا کو آگے بڑھنے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اپنے من پسند شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کروانے کے برابر مواقع میسر آسکیں۔

ان تمام متوازی تعلیمی نظاموں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں جان بوجھ کے اس لیے تشکیل دیا گیا ہے کہ کلرک کا بیٹا ہمیشہ کلرک اور افسر کا بیٹا افسر ہی بنے۔ بھلا بتائیے تو کوئی تک بھی بنتی ہے اس بات کی کہ تعلیمی نظام کچھ لوگوں کے لیے اور ہو اور باقی لوگوں کے لیے اور۔

 

حکمرانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے متوازی تعلیمی نظام کو ختم کرکے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں ،مزید یہ کہ نصاب بھی ایسا ہو کہ جو طلبا کو نہ صرف کارآمد شہری بنائے بلکہ ان کی اخلاقی تربیت بھی اس انداز میں کرے کہ وہ اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی بنیں یہ بات جان لینا بےحد ضروری ہے کہ ایک بہتر اور معتدل نصاب تعلیم طلبا کی بہتر نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے اور آج کی دنیا میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا راستہ روکنے کا ایک یہ ہی یقینی راستہ ہے۔

ہمیں بچوں پر پڑھائی کا بے پناہ بوجھ نہیں لادنا چاہیے مضامین کی بھرمار بےچارے طلبا کو پڑھائی تو کیا زندگی سے ہی بےزار کردیتی ہے لہٰذا اس بات کو سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ ہر عمر کے طلبا کے سیکھنے، سمجھنے اور جذب کرنے یعنی یاد کرنے کی استعداد مختلف ہوتی ہے تو مناسب یہ ہے کہ نصاب اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہی ترتیب دیا جائے ہمیں طلبا کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور نکھارنا ہے نہ کہ ضایع کرنا۔ تدریس میں موزوں نصاب کی جتنی اہمیت ہے اس کا درست اندازہ ایک معلم سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتا ۔

لیکن یہاں بنیادی بات یہ بھی ہے کہ معلم کو نہ صرف تدریسی اصولوں سے بلکہ طلبا کی نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہونا چاہیے ورنہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں قطعی ناکام ہے۔ ایک استاد کا کام شاگردوں کو صرف درسی کتب ہی پڑھاکے رٹوا دینا نہیں ہے بلکہ ان کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کرنا بھی ہے اور ان کی شخصیت کو سنوارنا بھی، اس کے علاوہ طلبا کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لانا بھی استاد کے اہم فرائض میں سے ایک ہے لیکن آج کا استاد اپنے ان اہم فرائض میں سے کسی ایک کو بھی ادا نہیں کر رہا، شاید خال خال ہی ایسے استاد ہوں جو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور انھیں پورا بھی کرتے ہوں شعبہ تعلیم کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے اور ہر استاد کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں