The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

حج عبادت بھی تربیت گاہ بھی

پروفیسر زید حارث


ہر با شعور مسلمان اپنی زندگی میں اللہ کے گھر کی زیارت اپنے لئے باعث شرف سمجھتا ہے اور حج کرنا اپنے دین کی تکمیل کا جز گردانتا ہے۔یقینا حج بیت اللہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پہ ہے ،ان میں سے ایک ہر صاحب استطاعت مسلمان پہ اللہ کے گھر کا حج کرنا (صحیح بخاری)۔

ہمارے معاشرے میں حج کا بڑھتا ہوا رجحان یقینا خوش آئند ہے لیکن اس حج سے پیدا ہونے والے اثرات بھی اسی تیزی سے معاشرے سے مفقود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

(1).حج اسلامی اخوت و بھائی چارے کی ایک تربیت گاہ ہے تمام مسلمان ایک لباس ، ایک جگہ ، ایک ہی وقت میں اللہ کی عبادت کے مقصد کے ساتھ جمع ہو کر اس بات کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے حکم پہ اپنی رنگ و نسل اور مسلکوں و جماعتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی وحدت کو قائم کر سکتے ہیں۔ لیکن یہی مسلمان جب حج سے واپس آتے ہیں تو کلمہ توحید کو ایک جانب میں رکھ کر مسلکی و جماعتی تقسیم اور رنگ و نسل کی تقسیم کو بنیاد بنا کر مسلم معاشرے میں طوفان کھڑا کرنےاور انتشار بپا کرنے میں وہ کردار ادا کرتے ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان کو کسی صورت بھی زیب نہیں دیتا۔

(2).حج ایک مسلمان کی زندگی سے تکبر کو ختم کرنے کی ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔ ایک حاجی شخص اپنے زرق و برق والے لباس کو اتار کر صرف دو سفید سادہ چادروں کو اپنے جسم پہ اوڑھ کر اللہ کی بڑائی کا مسلسل اعتراف کرتا ہے۔ہر بڑا و چھوٹا ،امیر و غریب، بادشاہ و وزیر، اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر ، اپنی مسکنت و تذلل اللہ کے آگے پیش کرکے اس بات کی تصویر ہوتا ہے کہ ہر قسم کی بڑائی و عظمت کا مالک صرف اللہ رب العالمین ہے۔ پھر یہی مسلمان حج سے فارغ ہوتے ہی اپنی ذات اپنی قوم اپنے ملک کو بنیاد بنا کر تکبر و بڑائی کا وہ بیج بوتے ہیں جو مسلمانوں میں طبقاتی تقسیم کو ترویج دے کر اسلامی اخوت و بھائی چارے کی بیخ کنی کر دیتا ہے۔

(3)آسانی و تیسر اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے اور اسلام کی کوئی عبادت مشقت و تکلیف پہ مبنی نہیں ہے۔ کسی عبادت کے ذریعے لوگوں کو امتحان میں ڈالنا مقصود نہیں، عبادات دراصل ایک مسلمان کی تربیت کے لیے فرض کی گئیں ہیں نا کہ ان سے کوئی جسمانی یا ذہنی امتحان لینا مقصود تھا ۔نماز و روزے و زکوٰۃ اور حج کے احکامات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے ۔ تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ چند حدود قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان کو جس طرح آسانی ہے وہ اللہ کی عبادت کر سکتا ہے ۔

حج میں بھی دس ذوالحجہ کو جو چار کام(بال کٹوانا یا منڈوانا، قربانی کرنا، کنکریاں مارنا، بیت اللہ کا طواف کرنا) حاجی کے ذمہ لگائے گئے اس میں تقدیم و تاخیر پہ کوئی سختی نہی کی گئی بلکہ جو بھی سوال کرنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ أفعل ولا حرج . کر لو کوئی حرج نہیں ۔

(4).حج کی عبادت عورت کے احترام و اکرام کا ایک شاندار مظہر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا ۔ اللہ کے رسول میرا نام فلاں اور فلاں غزوے میں لکھ دیا گیا ہے۔ اور میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد جیسے فریضے میں شمولیت کا ارادہ کر لینے کے باوجود اس بات کو ترجیح دی کہ ایک مسلم عورت کی حفاظت اس کے حقوق اور اس کی دلجوئی اور اسکے ارادہ عبادت کو جہاد پہ مقدم کرتے ہوئے حکم صادر فرما دیا کہ عورت کا حج کا ارادہ تیرے جہاد کے ارادے سے افضل ہے۔

اور مزدلفہ سے واپسی منی کی طرف دس ذوالحجہ کا سورج طلوع ہونے کے بعد حاجیوں کو نکلنے کا حکم ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں اور کمزور لوگوں کو رات کو ہی مزدلفہ سے رخصت فرما دیا تا کہ یہ صبح کی گرمی اور رش کی تکلیف سے محفوظ اگلے مقام تک پہنچ کر عبادت کر سکیں۔

(جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں