The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
escort istanbul
Canlı Kumar

پاکستان میں میوزک انڈسٹری کا عروج و زوال،سجاد علی اورمیوزک بینڈز

1992ء جہاں کرکٹ کےکھیل میں پاکستان کے لیے یادگار ثابت ہوا، وہیں اس نے جہانِ موسیقی پر بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔ایک جانب اس سال پاکستان کرکٹ کی دنیا میں بادشاہ بنا، اور دوسری طرف اسی برس الجزائر کے ایک گمنام گلوکار کوبھی راتوں رات عالمی شہرت ملی،جو آج بھی اُس کا تعاقب کررہی ہے!

سن 92ء میں جب شمال افریقی ریاست الجزائر کے ایک گلوکار خالد کا گیت ”دی دی “ ریلیز ہوا، تو کسے خبر تھی کہ اِس کی شہرت خطۂ عرب سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل جائے گی۔ پہلی بار ”فرنچ میوزک چارٹ“ میں کوئی عربی گیت اپنی جگہ بنائے گا اور اگلے بیس ہفتے ٹاپ 50 کی فہرست میں جما رہے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ”دی دی“ نے افریقہ، خطۂ عرب، یورپ اور ایشیا کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

جلد ہی مختلف زبانوں میں اِس کے ورژن ریلیز ہونے لگے۔ اور ہر ورژن میوزک چارٹس میں ٹاپ پوزیشن حاصل کیے بغیر نہیں ٹلتا تھا۔ ایشیا سے امریکا تک جب ”دی دی“ کی بازگشت سنائی دے رہی تھی، تب ایک پاکستانی گلوگار نے اِسے اردو روپ دینے کا فیصلہ کیا۔

اگر یہ کوئی روایتی سنگر ہوتا، تو اب تک اس گیت کو بھلایا دیا گیا ہوتا، لیکن اِس مقبولِ عام گیت کے اردو ورژن کا سہرا سجاد علی جیسے لیجنڈ کے سَر ہے، اور یہ گیت آج بھی ہماری سماعتوں میں تازہ ہے۔ 90 کی دہائی میں پاکستانی پاپ انڈسٹری کو جو لازوال گیت ملے، سجاد علی کا ”بے بی آ“ ان میں سے ایک تھا۔

یہ پاکستان کی پاپ انڈسٹری کے عروج کے دن تھے۔ میوزک ویڈیوز کا شہرہ تھا۔ پی ٹی وی سب سے بڑا پلیٹ فارم تھا۔ اگر کسی آرٹسٹ کا گانا ناظرین و سامعین کو بھا جاتا، تو وہ راتوں رات اسٹار بن جاتا۔ ریڈیو پر سامعین کی جانب سے اس گیت کی فرمائش کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوتا تو البم کی فروخت میں بھی تیزی آجاتی۔

آڈیو کیسٹس کا دور تھا۔ ہر محلّے میں ایک دکان یا ‘آڈیو سینٹر’ ضرور ہوتا تھا جب کہ ہر بڑے شہر میں اس کے مراکز موجود تھے جہاں لاکھوں‌ روپے کا کاروبار ہوتا تھا۔ جو گیت شائقین کے دلوں میں اتر جاتا اور لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتا، وہ گلی محلّے کی دکانوں، بسوں، ویگنوں اور گھروں‌ میں بھی ٹیپ ریکارڈر پر سنائی دینے لگتا۔ سجاد علی کا ”بے بی آ“ ایسا ہی ایک گانا تھا۔

مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اسی اکلوتے گیت نے سجاد علی کو پہچان عطا کی۔ پہچان تو یہ باکمال فن کار پہلے ہی بنا چکا تھا۔ اس گیت کے طفیل سجاد علی نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ اور یہ شہرت مستقبل میں سجاد علی کے کام آنے والی تھی، کیوں کہ اُس کے ذہن میں بڑے منصوبے تھے۔ آڈیو اور میوزک ویڈیوز سے نکل کر فلم بنانے کا منصوبہ، اپنے فن کو سرحد پارلے جانے کا منصوبہ۔

یہ وہ زمانہ تھا، جب پاکستان میں پاپ انڈسٹری وائٹل سائن کے مقبول گیتوں کے ساتھ تیزی سے فروغ پا رہی تھی۔ اسٹرنگز جیسا بینڈ منظر عام پر آچکا تھا، علی حیدر کے گیتوں کا چرچا تھا، میوزک بینڈ ”جنون“ اپنی انقلابی خُو کے ساتھ میدان میں اتر چکا تھا۔ البتہ سجاد کا انداز سب سے جدا تھا، جس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ اس نے کلاسیکی گائیکی کی تربیت حاصل کی تھی۔

24 اگست 1962 کو لاہور میں پیدا ہونے والے سجاد علی کے والد نے کرکٹ اور اداکاری کے میدان میں قسمت آزمائی اور فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔ نیشنل آرٹس کالج، کراچی سے تعلیمی مراحل طے کرنے والے سجاد علی نے اپنے چچا، تصدق حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ اُسی مرحلے پر انھیں کلاسیکی موسیقی کی شد بد ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے استاد منور علی خان سے بھی تربیت حاصل کی تھی، جو استاد بڑے غلام علی کے گھرانے سے تھے۔

1993ء میں ”بے بی آ“ جیسا سپر ہٹ البم دینے سے چار برس پہلے ہی سجاد علی گلوکاری کی دنیا میں شناخت بنا چکے تھے۔ یہ 1979 کی بات ہے، جب سترہ سالہ سجاد علی کا کلاسیکی گائیکی پر مشتمل البم ریلیز ہوا۔ اُسی زمانے میں سجاد نے ٹی وی کا رخ کیا۔ اُس وقت اسکرین صرف پی ٹی وی کی ہُوا کرتی تھی۔ سجاد علی، اطہر شاہ خان اور سہیل رعنا کے پروگراموں میں نظر آئے۔ پی ٹی وی کی سلور جوبلی تقریب ہوئی تو اسٹیج پر آنے والے سجاد علی کے فن کو ملک گیر توجہ اور پذیرائی نصیب ہوئی۔ اس موقع پر انھوں نے میڈم نور جہاں کے سامنے ان کا مشہور گیت ”باوری چکوری“ گایا، جس پر ملکۂ ترنم نے بھی ان کا کاندھا تھپکا۔

البتہ سن 92ء نے سب کچھ بدل دیا۔ جب خالد کے ”دی دی“ نے دنیائے موسیقی میں‌ تہلکہ مچایا اور سماعتوں کو اپنا اسیر کیا، تو سجاد علی کو ”بے بی آ“ سوجھا، جس نے پاکستان میں‌ پاپ موسیقی کا رنگ ڈھنگ ہی بدل ڈالا۔ وہ ایک نئی طرز کی موسیقی کے ساتھ ایک نئے ڈھب کی میوزک ویڈیو کا تجربہ تھا۔ اور اس تجربے کے بعد ہی وہ فلم میکنگ کے مشکل میدان میں آئے۔

فلم کو تمام فنون کا سرتاج کہا جاتا ہے۔ ڈراما اور تھیٹر کرنے والا فن کار بھی فلم بنانے کا سپنا دیکھتا ہے۔ کیا سجاد علی کی آنکھوں میں بھی یہ خواب تھا؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ فلم میکنگ سے بہت پہلے ہی ہم سجاد علی کو ایک ڈائریکٹر اور ایکٹر کے روپ میں دیکھ چکے تھے۔ اپنی میوزک ویڈیوز میں وہ کسی ہیرو کی طرح ڈانس اور کبھی کبھی ایکشن میں دکھائی دیے تھے۔ ”چیف صاحب“، ”یہ جادو چڑھ گیا ہے“، ’‘ابھی موڈ نہیں ہے…“ سمیت اپنے کئی میوزک ویڈیوز میں وہ ‘ایکشن’ میں نظر آئے، مگر ان کا عروج تھا ”ایک اور لو اسٹوری۔“

یہ وہ زمانہ تھا، جس نے پاکستانی فلم بینوں کو کچھ عرصے کے لیے فلم انڈسٹری کی تجدید کی غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایک جانب جہاں سید نور نے”دوپٹا جل رہا ہے“ جیسی فلم بنائی، تو وہیں سنگیتا کی ”نکاح“ جیسی فلم سامنے آئی۔ اُدھر جاوید شیخ دستیاب وسائل میں نپے تلے کیمرا ورک، بیرونِ ملک لوکیشنز اور اچھی موسیقی کے ذریعے شائقین کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اِدھر شان ”گنز اینڈ روزز“ کے ذریعے ایک الگ قسم کا سنیما سامنے لانے والے تھے۔ ایسے میں سجاد علی نے بھی ”ایک اور لو اسٹوری“ کے ذریعے مقبول گیتوں سے سجی ایک تفریحی فلم بنانے کی ٹھانی۔ اس کمرشل فلم نے ناظرین کو متوجہ ضرور کیا، مگر اسی زمانے میں سید نور نے فلم ”چوڑیاں“ بنا کر اُس پنجابی سنیما میں گویا نئی روح پھونک دی، جو گنڈاسا کلچر کو زندہ کرنے کے لیے کوئی جواز ڈھونڈ رہا تھا۔ ”چوڑیاں“ معیاری فلم تھی، مگر سید نور کے اس اقدام نے اردو انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور اس کے بعد وہ عرصے تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکی۔ سجاد علی سمیت کتنے ہی ہدایت کاروں کے خواب ٹوٹ گئے۔

نئی صدی پاکستان میوزک انڈسٹری کے لیے اچھی خبریں نہیں لائی۔ آڈیو کیسٹس کا دور ختم ہوا، سی ڈی کلچر آیا اور پائریسی عام ہو گئی۔ میوزک البم بنانا گھاٹے کا سودا لگنے لگا۔ بینڈز ٹوٹ گئے۔ پڑوسی ملک کی مارکیٹ تک ہماری رسائی ضرور ہوئی، مگر وہ دورانیہ بھی مختصر تھا۔ گلوکار، پرائیوٹ شوز تک محدود ہوگئے۔ کچھ اداکاری کی طرف چلے گئے، کچھ نے کاروبار شروع کر دیا۔ البتہ اُن مشکل کے دنوں میں بھی سجاد علی نے کسی نہ کسی صورت اپنے سامعین سے رابطہ بحال رکھا۔ بھلا ہو ڈیجیٹل میڈیا کا، جس کے طفیل ہمیں یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارم ملے اور ہمارے فن کاروں کو پھر زبان مل گئی۔

2019ء میں لیجنڈری گلوکار سجاد علی کو حکومتِ پاکستان نے ستارۂ امتیاز سے نوازا تھا۔ بھارت اور دنیا کے متعدد ممالک میں‌ اپنے فن کا مظاہرہ کرکے داد و تحسین پانے والے سجاد علی اُن نئے گلوکاروں‌ کے لیے ایک مثال ہیں جو آج ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے پاپ میوزک کی دنیا میں‌ کوئی نیا، منفرد اور قابلِ ذکر تجربہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے لگن اور جستجو کے ساتھ محنت اور ریاضت بھی چاہیے جو کسی بھی فن کار کو پردۂ گمنامی سے نکال کر شہرت کے ہفت خواں طے کروا سکتی ہے۔

پاکستان میں‌ پاپ میوزک کی اس زرخیز دہائی میں اگر انفرادی حیثیت میں سجاد علی کا نام اہمیت رکھتا ہے تو دوسری جانب ان آرٹسٹوں‌ کا تذکرہ بھی کیا جائے گا جو میوزک بینڈز سے وابستہ رہے اور اپنے فن و ہنر اور مہارت سے پاپ انڈسٹری کو بامِ عروج تک پہنچایا۔

Print Friendly, PDF & Email