ایک مثالی معاشرے کے قیام اور بہترین معاشرت کوپروان چڑھانے کے لیےناگزیر عناصر میں اخلاقِ حسنہ سرفہرست ہیں۔ اس کے بغیر کسی قوم یا گروہ کے لیے انتشار اور افراتفری سے پاک فضا ممکن نہیں ۔
یہ بہت بنیادی بات ہے جس کو ہم آج ترقی یافتہ دور میں شاید فراموش کربیٹھے ہیں اور اس پر کم ہی بات کی جاتی ہے.آج ہر شعبے میں اخلاقی بگاڑ نظر آتا ہے۔ دیانت و راست گوئی، فرض شناسی، انصاف اور اس جیسی دیگر اعلیٰ صفات و اقدارگویا مفقود ہورہی ہیں۔ جرم کو جرم، گناہ کو گناہ اور بدعنوانی کو بدعنوانی سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ اسے مصلحت، ضرورت اور اکثر مجبوری کہہ کر اپنالیا جاتا ہے.
معاشرے کےمختلف طبقات قومی و اجتماعی فکر سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں اور اس کی جگہ ذات اور مفادلے چکا ہے لیکن اس کی پروا کس کو ہے۔ یہ بحیثیت قوم ہماری نظر میں کوئی مرض یا مسئلہ نہیںہے. کیوں کہ ہم اخلاقی گراوٹ اور پستی کو ذہنی طور پر قبول کرچکے ہیں. اسی لیے ہمارے ہاں معاشرتی اور اخلاقی موضوعات پر بات بہت کم ہوتی ہے.مادٌہ پرستی نے ہمیںروزی روٹی اور آسائشوں میں ایسا گم کیا ہے کہ اخلاقیات ہمارا موضوع ہی نہیں رہ گیا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جس معاشرے میںاکثریت ہمیں بنیادی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرتی نظر نہیں آتی وہاںامن اور سکون بھی نہیںدکھائی دیتا. بہت زیادہ غور کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے. اپنے اور اسی قسم کے دوسرے معاشروںکو سرسری دیکھ لیں. پھر ان ممالک اور اقوام کی طرف دیکھیںجن کا تذکرہ ہم اکثر کرتے ہیں. کبھی ان کی ایمان داری، شرافت اور قانون کی پاس داری کی مثال دے کر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میںایک شخص کسی دور دراز علاقہ میں ایک اسٹال یا دکان پر جاتا ہے لیکن وہاںمالک کی عدم موجودگی کے باوجود سامان اٹھا کر اس کی قیمت ڈبے میں ڈال کرآگے بڑھ جاتا ہے.یعنی وہ چوری نہیںکرتا. اور کوئی چیز اٹھا کر اس لیے نہیں بھاگ نکلتا کہ وہاں کون اسے پکڑنے والا ہے. یہ وہی قومیں ہیںجو تعمیر انسانیت اور ترقی کے مدارج طے کررہی ہیں اورانھوں نے وہی اسباق پڑھ رکھے ہیں جن کو ہم اخلاقِ حسنہ اور کردار سازی میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن ان پر عمل نہیںکرتے اور بدترین حالات کا سامنا کررہے ہیں. البتہ ہم بحیثیت شہری دیانت داری اور ذمہ داری کاکیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا منظر دیکھ کر اسے اپنے فیس بک یا واٹس ایپ پر مزید آگے بڑھانا ضرور پسند کرتے ہیں. اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں.
بدقسمتی سے ہمارے ہاں شروع ہی سے بچے کو تعلیمی مدارج میں اخلاقیات کا درس تو دیا جاتا ہے، مگر اس پر عمل کرنے کے لیے زور کسی سطحپر نہیں دیا جاتا. یعنی اساتذہ، والدین اور اقارب اس معاملے میں اکثر نالائقی کا ثبوت دیتے ہیں. جھوٹ اور مکروفریب کے ساتھ بددیانتی بچے کو ہم ہی سکھاتے ہیں. غلطی کو چھپانا اور دوسرے کو مطعون کرنا ہماری وجہ سے ہی بچہ سیکھتا ہے.اگرچہ یہ ایک پیچیدہ اورکئی اعتبار سے توجہ طلب موضوع ہے، لیکن ہم اس پر کسی معمولی درجہ میںبھی تو عمل کرتے نظر نہیںآتے.شخصیت اور کردار سازی وہ موضوع ہے جس پر ملک کے دانش ور ، علما، ادب سے وابستہ لوگ اور مشاہیر اگر بڑے پلیٹ فارم پر بات کریں تو نوجوان نسل کو اخلاقی قدروں کے مختلف مراحل سے شناسا کرکے معاشرے کے لیے مفید انسان بنا سکتے ہیں۔ یہ ہمارا مقصد بن جانا چاہیے کیوں کہ آج کے کئی مسائل بدامنی، لاقانونیت، کرپشن اور فرقہ واریت یہ سب مسائل دراصل کردار کے بحران کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم اب بھی اپنی قوم کی کردار سازی پر توجہ دیں تو ایک دن ضرور اپنے حالات بدل سکتے ہیں.
اسلام کی بات کی جائے تو ہماری کتاب قرآن بھی قوموں اور افراد کے اخلاق و کردار کو اہمیت دیتے ہوئے اسے دنیا اور آخرت میںفائدے کا ضامن بتاتا ہے.شخصیت اور کردار کی تعمیر کا نسخہ ہمیںصدیوں پہلے دے دیا گیا تھاجس پر عمل کرکے آج بھی ایک توانا اور بہترین سوسائٹی تشکیل دی جاسکتی ہے.یہ ٹھیک ہے کہ یہ سب ایک فرد یا چند لوگوں کی وجہ سے درست ہونے والا معاملہ نہیںہے مگر کیا ہم اس حوالے سے تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار بھی ہیں اور کیا اپنی اپنی سطحپر کوئی ذمہ داری پوری کرنا چاہتے ہیں؟
سدرہ ایاز صحافتی اداروں اور مارکیٹنگ کمپنیوں سے وابستہ رہی ہیں، سیروسیاحت کا شوق رکھتی ہیں، گھومنا پھرنا پسند ہے، اور اپنے انہی مشاغل اور مختلف سرگرمیوں کی انجام دہی کے ساتھ شاعری اور مختلف سماجی موضوعات پر مضامین اور بلاگ لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔