The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

علی شاہ کہویا پھرعلیشاہ پکارو، آخر ہے تو انسان

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں گاڑی چلانے والےکے لیے موٹر سائیکل سوارغلط، موٹر سائیکل سوارکے لیے رکشہ چلانے والا غلط، رکشہ چلانے والے کے لیے سائیکل سوار غلط اور سائیکل سوار کے لیے کم بخت پیدل سفر کرنے والا غلط، جبکہ پیدل انسان کے لے باقی سب سواریوں کے سوارغلط ہوتے ہیں۔ کیاغلط اور صحیح کے تعین کرنے کا کوئی پیمانہ موجود ہے؟

کیامعاشرے کی جانب سے عطا کردہ لیبلز ہماری سوچ وفکر پریوں ہی اثرانداز ہوتے رہیں گے؟

اگر یہ سواریاں معاشعرے سے نکال دیں جائیں تو کیا سب برابر ہو جائیے گے؟

آخر یہ طبقات میں بٹی سوچ کب اور کیسے ختم ہوگی؟

کیاخدا نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے یا پھرانسان کے بنائے ہوئےطبقات اشرف ہے؟

رنگ و نسل اور طبقات میں تقسیم اس دنیا میں ایک ایسی اشرف مخلوق بھی سانس لیتی ہےجس کو اوپر تحریر میں بیان کیے گئے تمام طبقات اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیےتاریک رات میں استعمال کرتے،ان کی خداداد صلاحیتوں پر ان کو داد دیتےاوران کے پیشہ وارنہ فن سے محضوض ہوتے ہیں۔ کیونکہ دن کے اجالے میں وہی انسان خود کوبرتر، باعزت اور ان کو بےعزت اورکمترتصور کرتے ہیں۔

دنیا کے تمام انسان اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانےکی خاطر ہی کسی نہ کسی شعبہ سے منسلک ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر انجنئیر، کھلاڑی ، سیاست دان ، وکیل، موسیکار، گلوکار، صحافی ،مصنف اور ادیب سمجھنے جانے والے معتبر طبقات سب اپنی خداداد صلاحیتوں کو برؤےکار لاتے ہیں اورمعاشرے کے سب طبقات باخوشی ان کو سراہتے، داد سے نوازتے اوران کی تعظیم کرتے ہیں جبکہ دیگرطبقات کی طرح ایک خواجہ سرا بھی تو دوسروں کی خوشی میں خوش ہوکراوراپنی خداداد صلاحیتوں کا فن پیش کرکے دو وقت کی روٹی کماتا ہے۔

چند روز قبل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہرپشاورمیں ایک بنی آدم کو حیوان نما انسان نے محبت کے نشے میں آٹھ گولیوں کی نفرت کے تحفے سے نوازا، مگر وہ انسان دو دن تک زندہ رہآ۔وہ آٹھ گولیاں سے تو نہ مرا مگر دیگر انسانوں کے برتاؤ اور رویوں خصوصاً ڈاکٹرجنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کے لقب مسیحا سے جانا جاتا ہے کی غفلت کے باعث آخرکارخالق حقیقی سے جا ملنا ہی پڑاکیوں کہ ان مسیحاؤں کے لیے یہ فیصلہ انتہائی کٹھن تھا کہ اس انسان کو مردانہ یا زنانہ کس وارڈ میں منتقل کیا جائے۔

کیا رب باری تعالیٰ جوعدل کرتاہے اور پوری کائنات کا نظام چلارہا ہے اس نے کھبی مخلوقات میں کوئی فرق کیاہے؟۔ پانی کاکام پیاس بجھنا، سورج کا کام بغیرکسی فرق کے روش کرنا، ہوا جو تمام مخلوقات کابنیادی رزق ہےاورآسمان سے برسنے والے بادل اس کی قدرت ہے جس نے کبھی کسی مقام پرکوئی فرق نہیں کیا، جو ہم کرتے پھررہےہیں۔

خدا جس نے یہ کائنات تخیلق کی جبکہ انسان کو اپنا نائب مقررکیا اورجب بات آئی بنی انسان کی تو ارشاد فرمایا کہ خداانسان کو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔اورایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔

ہم طبقات میں تقسیم انسان ایک دوسرے کو جب تک آنکھوں پر لگی لیبلز کی عینک اتار کر نہیں دیکھیں گے یوں ہی فرق کرتے رہیں گے۔

اشفاق احمد نے کہا کہ فاتحہ انسان کے مرنے پر نہیں بلکہ احساس کے مرنے پر پڑھنا چاہیے کیوں کہ انسان کا احساس مرجائے تو پھرزندہ لاش رہ جاتی ہے۔

کون ہے اس کی موت کا ذمہ داروہ جس نے آٹھ گولیوں کا تحفہ دیا یا پھر وہ مسیحا جو فیصلہ نہ کرسکے۔ علی شاہ کہویا پھرعلیشاہ پکارو آخر ہے توانسان چاہے خواجہ سراہی کیوں نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email