شاہ والی اللہ‘ تاریخ کے آئینے میں

ایک شخصیت جنہیں سرکاری مورخین اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں میں انتہائی بلند مقام پر فائز کردیاگیا وہ  ہیں شاہ والی اللہ۔ خیبرپختونخواہ کے تقریبا سارے ڈگری کلاسوں کے لئے مستند ترین کتاب ’ پاکستان اسٹڈیز برائے ڈگری کلاسز ‘ جس کے  مصنف پروفیسر نوشاہ خان ہے ’شاہ والی اللہ کی ذات بابرکت ‘کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

’حضرت شاہ والی اللہ نے جس دور میں آنکھ کھولی اسے یقیناًجنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک بڑے پراشو ب دو ر سے تعبیر کیاجاسکتاہے اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے ساتھ ہی مسلمانان کا شیرازۂ قلب بکھرنا شروع ہوا اور مسلمانوں کی پرشکوہ سلطنت کی بنیادیں ہلنے لگیں۔شاہ صاحب نے اپنی زندگی میں دس مغل حکمرانوں کو شطرنج کے مہروں کی طرح تخت نشین اور گوشہ نشین ہوتے ہوئے دیکھا اس صورتحال میں مسلمانوں کے نظریاتی دشمن ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے ساتھ ساتھ اسلام کو بھی نشانہ بنایا ان نازک حالات میں شاہ صاحب نے مسلمانوں کی ڈگمگاتی ناؤکو ڈبونے سے بچانے کا مصمم ارادہ کیا حضرت شاہ والی اللہ نے اپنی زندگی میں اسلام کی سربلندی او رجنوبی ایشیا ء کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے گراں قدر خدما ت سرانجام دئیے۔

مسلمان فاتحین اور بادشاہوں کو ہندوستان مدعوکرنا

مغل حکمران اورنگ زیب عالمگیر کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کے تین بڑے دشمن مرہٹے، سکھ او رجاٹ ان پر حملہ آور ہوئے تینوں کا مقصد نہ صرف مسلمانوں کو نیست ونابود کرنا تھا بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہندی دارالاسلام کو دارلحرب میں تبدیل کرادیں۔ تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی شاندار ماضی کودفنایاجائے ۔ حضرت شاہ والی اللہ نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وقتی تقاضوں کے عین مطابق مسلمانوں کے ناقابل شکست فاتحین اور طاقتور حکمرانوں کو ہندوستان میں اسلام دشمن عناصر کی سرکوبی کے لئے ہندوستان آنے کی دعوتین دیں مدعوکنندگان میں اس وقت کے امیر افغانستان احمد شاہ ابدالی ،نظام الملک اور نجیب الدولہ کے نام قابل ذکر ہیں ایک خط میں شاہ صاحب احمد شاہ ابدالی کو لکھتے ہیں کہ ۔۔


اس وقت آپ مسلمانوں کے ایک طاقتور اور صاحب حوصلہ حکمران ہے یہ آپ کے فرائض منصبی میں شامل ہے

کہ آپ ہندوستان کے لئے روانہ ہوجائیں تاکہ مسلمانوں کوغیر مسلموں کے پھندے سے نجات دلاسکیں


شاہ صاحب کی اپنی دعوتوں اور کوششوں کا نتیجہ تھا کہ بانی افغانستان احمد شاہ ابدالی کئی بار ہندوستان پر حملہ آور ہوئے 1763ء میں آپ نے پانی پت کے میدان میں مرہٹوں پر وہ کاری اور فیصلہ کن ضرب لگائی کہ ان کی پوری قوت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی پانی پت کا یہ معرکہ جس میں ہزاروں مرہٹے کام آئے پانی پت کی تیسری لڑائی کے نام سے یادکیاجاتاہے تاریخ بتاتی ہے کہ اس معرکے کے بعد مرہٹوں کو اسلام یا مسلمانوں کے خلاف سراٹھانے کی کبھی جرات نہ ہوسکی‘‘( صفحہ 42-43)اسی طرح علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بی اے میں مطالعہ پاکستان کی کتاب جس کا کوڈ نمبر 417ہے کے صفحہ 22,23میں شاہ والی اللہ کی سیاسی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھاگیاہے ’اپنی زندگی کے دوران شاہ والی اللہ مسلم معاشرے کے اندر نئے روح پھونکنے اور مغل سلطنت کو تباہ ہونے سے بچانے میں کامیاب نہ ہوئے تاہم ان کی کوششوں سے مرہٹوں پر قیامت ضرور ٹوٹی جس میں مسلمان احمد شاہ ابدالی اور نجیب الدولہ کے باہمی اتحاد کے ساتھ منسلک ہوکر لڑے لیکن اپنے راہنماؤں کی نااہلی کی وجہ سے فتح سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رہےاور انگریز اس برصغیر میں سب سے زیادہ فعال قوت کی صورت میں نمودار ہوئے اس وجہ سے سیاسی طورپر مسلمانوں کے احیاء کا جو معمولی ساامکان تھا وہ بھی ختم ہوگیا ۔

مغل شہنشاہ کے پاس نہ تو وسائل تھے نہ قوت ارادی کہ وہ مرہٹوں کے خلاف متحدہ قوتوں کی راہنمائی کرتا اس موقع پر امید کی واحد صورت یہ تھی کہ ملکی سرحدوں سے پرے کسی نجات دہندہ کی تلاش کیاجائے اور اس کے لئے احمد شاہ ابدالی کی ذات موزوں ترین دیکھائی دیتی تھی شاہ والی اللہ نے مداخلت کے لئے ان سے درخواست کی انہوں نے احمد شاہ ابدالی کو لکھا۔


اللہ کی مشیت آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ عافیت کی زندگی ترک کردیں تلوار کھینچ لیں اور اس وقت تک

اسے نیام میں نہ ڈالیں جب تک کہ دین صاد ق اور کفر کے درمیان حد فاضل قائم نہ ہوجائے

کفار سزا نہ پاجائیں اور دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں


مورخ ومحقق ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ’المیہ تاریخ ‘میں اس ساری صورتحال کویوں بیان کرتے ہیں’’دوسری شخصیت جسے جدید دور میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے وہ شاہ والی اللہ کی ہے سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاشاہ والی اللہ اپنے دور میں لوگوں کو ذہنی طورپر متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ؟ اس کا جواب محمود احمد برکاتی نے اپنی کتاب’شاہ والی اللہ اور ان کے خاندان (لاہور 1986) میں اس طرح سے دیا ہے کہ ان کے اپنے عہد میں ان کا اثر بڑا محددود تھا کیونکہ اس وقت تک ہندوستان میں چھاپہ خانہ نہ ہونے کی وجہ سے کتابوں کی تعداد محدود ہوتی تھی اور قلمی نسخے بہت کم تعداد میں لوگوں تک پہنچتے تھے اس لئے کتابیں پڑھنے والے لوگ بہت کم ہوتے تھے شاہ والی اللہ کے جانشینوں میں ان کی تحریروں اور ان کے خیالات کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔ یہاں تک کہ دیوبند کے نصاب میں بھی ان کی کوئی کتاب شامل نہیں تھی‘‘۔

کیا شاہ والی اللہ سماجی انقلاب پر یقین رکھتے تھے؟

بیسویں صدی کے بعض جدت پسند مصنفین جو کہ دنیا میں وقوع پزیر ہونے والی حالات وواقعات اور تبدیلیوں سے متاثر تھے نے ہندوستانی تاریخ میں بھی ایسے حالات وواقعات اور شخصیات تلاش کرنا شروع کیا جو ان کے نزدیک انقلابی تصورات کے مالک تھے جدید مورخین بالخصوص مولانا عبید اللہ سندھی جو انقلاب روس او رسوشلزم سے بے حد متاثر تھے نے شاہ والی اللہ کی زندگی اور تحریک کو انقلابی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی استاد مبارک علی اس سارے تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شاہ والی اللہ کی شخصیت کو دورجدید میں اہمیت دی گئی اور ان میں زیادہ حصہ مولانا عبداللہ سندھی کا ہے جو ہندوستان سے باہر جانے کے بعد بدلتے ہوئے حالات سے بے انتہا متاثر ہوئے خصوصیت سے 1917ء کے روسی انقلاب نے ان کے خیالات پر بڑا گہر ا اثر ڈالا او روہ اشتراکی نظام کے زبردست حامی ہوگئے مگر ان کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس نظام کوغیر اسلامی شکل میں اختیار کرنے پر تیار نہ تھے اس لئے انہوں نے مسلمان مفکرین میں سے ایسے مفکر کی تلاش شروع کی جسے ’مارکس‘ بنا کے اس کے افکار پر وہ اسلامی سوشلزم کی بنیاد رکھ سکیں ۔ اس  کے لئے شاہ والی اللہ کے ہاں انہیں کچھ ایسے معاشی نظریات ملے کہ جنہیں انہوں نے جدید زبان میں پیش کرکے جدید او رانقلابی بنا دیا ، شاہ ولی اللہ کے افکار ونظریات کی تفسیر کرتے ہوئے انہوں نے انہی پہلوؤں کو اجاگر کیا کہ جو ان کے نظریات سے ہم آہنگ تھے اس کا اظہار انہوں نے شاہ والی اللہ کی سیاسی تحریک اوردوسرے مضامین میں کیا ہے ‘‘۔

مولانا عبداللہ سے متاثر ہوکر دوسرے مصنفین نے بھی شاہ والی اللہ میں انقلابی کردار تلاش کرنی شروع کردی ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ’’عبید اللہ سندھی سے متاثر ہو کر مولانا محمد میاں نے ’’علما ئے ہند کا شاندار ماضی ‘‘ کہ جس میں انہوں نے بڑی عقیدت کے ساتھ علماء کی تاریخ لکھی اس کی جلد دوم میں شاہ والی اللہ کو ایک انقلابی اور ان کی تحریک کو وسیع اور جامع تحریک کے طورپر پیش کیا ہے۔ ان کی کتاب سے چند اقتباسات ملاحظہ ہو۔


شاہ صاحب فوجی انقلاب کے حامی تھے مگروہ فوجی انقلاب جو جہاد کے اصول پر ہو۔۔۔ ایسا انقلاب پیشہ ور سپاہیوں

کے ذریعے نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ان رضاکاروں کے ذریعے ہوسکتاہے جن کی تربیت خاص طورپر کی گئی ہو۔

شاہ والی اللہ نے سب سے پہلے یہی خدمت سرانجام دی

آپ نے اصلاحی نظریات مرتب کئے ساتھ ساتھ ٹریننگ سنٹر بھی قائم کئے


لہٰذا اخلاق او رمذہب دونوں کا تقاضہ تھا کہ انقلاب کے لئے سب سے پہلے اس کی تربیت کی جائے جس کے اقتدار اعلیٰ پر سار املک اعتماد کئے ہوئے تھا اور جس کی گردن پر تمام وفاداروں کی ترقی اور فلاح وبہبود کا بوجھ لداہواتھا ‘‘۔

حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سائنسی میدان میں اور علمی شعبے میں بے انتہا پسماندگی کی وجہ سے ہندوستانی معاشرے مغلوں کے آخری آیام میں جس تیزی کے ساتھ تنزلی کا شکارتھا اسے روکنے کے لئے زمینی حقائق سے واقف شخصیت کی موجودگی تقریباََ ناپید تھی او رنہ ہی زوال کے اس عمل کو روکنے کے لئے کوئی انقلابی تحریک پروان چڑھی ،شاہ والی اللہ کے افکار ونظریات ان کے اپنے دور میں کوئی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت نہ ہوسکے بقول ڈاکٹرمبارک علی ’’شاہ والی اللہ کے افکار اورنظریات اپنے عہد میں کوئی عملی نتائج پیدا نہیں کرسکے اورناکام ہوئے انہیں نظریات کو جدید دو رکے مسائل کاحل بنا کرپیش کیا جارہاہے اور جدید علوم کی روشنی میں ان کے خیالات کو جدید اصطلاحات کے ذریعے پیش کیاجارہاہے ‘‘( المیہ تاریخ، مبارک ، ص 88)۔

شاہ والی اللہ کے نظریات کو بنیاد بنا کر اسے ایک تحریک کی صورت میں پیش کرنا جدید دور کے علماء اور چند مورخوں کاکام ہے او ریہ سب ذہن کی اختراع اور تاریخی حقائق سے عدم واقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ’’ عہد برطانیہ میں جب انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں علماء نے بھی حصہ لینا شروع کیا مسلمان معاشرے میں اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کے لئے ضروری تھا کہ ماضی میں اپنے کردار کو شاندار طریقے سے پیش کیاجائے تاکہ یہ ثابت کیاجائے کہ علماء نے ہر موقع پر ہر مرحلے پر مسلمان معاشرے کی قیادت کی ہے اور اس لئے جدید عہد میں بھی ان کی قیادت پر اعتماد او ربھروسہ کیا جاسکتاہے اس مقصد کے لئے علماء کی دعوت وعزیمت ، ان کی قربانیاں اور ان کی بہادری وحق گوئی کو تاریخ کے ذریعے ثابت کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ علماء کے لئے متحرک اور فعال ہونا اس لئے بھی ضروری ہوگیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان معاشرے کی راہنمائی جدید تعلیم یافتہ اور سیکولر ذہن کے لوگوں کے ہاتھ میں آئے ‘‘۔( المیہ تاریخ ، ص 90)۔یہی کچھ شاہ والی اللہ کی شخصیت کو ابھارنے اور اسے انقلابی اندا زسے پیش کرنے کی بڑی وجہ بھی ہے ۔

کریم اللہ: چترال سے تعلق رکھنے والے کریم اللہ نے پشاور یونی ورسٹی سے پالیٹیکل سائنس میں گرایجویش کیا ہے۔ فری لانس صحافی‘ کالم نگار اور بلاگر ہیں اور معاشرے کے سیاسی‘ سماجی اور ثقافتی موضوعات پر بھرپور گرفت رکھتے ہیں۔