The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

خواتین آج بھی مردوں سے پیچھے کیوں ہیں؟

مرد اورعورت کسی بھی معاشرے کے بنیادی رکن ہیں اورمعاشرے کی ترقی کے لیے دونوں کا ہم قدم ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک عام کہاوت ہے کہ  مرد اور عورت ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، جس طرح گاڑی ایک پہیے پر نہیں چل سکتی اسی طرح ایک معاشرہ بھی محض مرد یا عورت نہیں چلا سکتے لہذا ایک مضبوط اورطاقتور معاشرہ تشکیل دینے کے لیے دونوں کا شانہ بشانہ ہونا بہت ضروری ہے۔

پاکستان وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ پاکستان بنانے  لیے بہت ساری وجوہات تھیں جن میں سے ایک بہت بڑی وجہ ہندوستان میں مسلمانوں کو برابری کے حقوق نہ ملنا بھی تھی۔ لیکن آج ایک آزاد ملک میں بھی عوام ان ہی مسائل کا شکار ہے۔ جہاں شہریوں کو آج بھی برابری کے حقوق میسر نہیں۔ اس ملک میں رنگ و نسل، لسانی، طبقاتی فرق پایا جاتا ہے اور سب سے ذیادہ مرد اور عورت کا فرق پایا جاتا ہے جس کی بناء پر پورا معاشرہ تباہ حالی کا شکار ہے۔

پاکستان اسلام کے نام پر حاصل ہونے والا ملک ہے اور اسلام میں کسی کی بھی حق تلفی نہیں کی گئی۔ اسلام میں مرد اور عورت کو یکساں حقوق حاصل ہیں لیکن پاکستان میں عورتوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ۔ علم حاصل کرنا جتنا ایک مرد پہ فرض ہے اتنا ہی عورت پہ بھی ہے لیکن عورت کو تعلیم دینا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں دو طبقات پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو تعلیم کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو تعلیم کے حق میں نہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صرف مردوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق میں ہیں اور عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں کبھی معاشرے کے نام پہ، کبھی غیرت کے نام پہ، کبھی وسائل کی کمی تو کبھی گھریلوں مسائل کی بناء پر۔ آج بھی عورت بہتر تعلیم سے محروم ہے۔

دوسری طرف جہاں والدین لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہے وہاں معاشرے میں پھیلے مسائل ان کی راہ میں حائل ہوجاتے ہیں۔ ایک عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو وہ دماغی طور پر ہی دباؤ کا شکار ہوتی ہے اُسے گھر سے نکل کر واپس آنے تک بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سرفہرست مردوں کا مختلف طریقوں سے خواتین کو ہراساں کرنا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عورت عدم تحفظ کا شکار ہے جس کی بناء پر والدین لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں ۔ کچھ مہنگائی کی وجہ سے تعلیم کے دروازے لڑکیوں پر بند کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عورت زبوں حالی کا شکار ہے۔ آج بھی عورت اپنے جائز حق سے محروم ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عورت ہی ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے لیکن اس کے لیے عورت کو دینی اور دنیاوی تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ وہ اچھے بُرے کا فرق کر سکے۔ بھتر فیصلہ کر سکے اور یہ تب ھی ممکن ہے جب وہ علم کے زیور سے آراستہ ہوگی۔

عورتوں کو اُن کے جائز حق سے محروم کر کے ہم اپنا ہی معاشرہ برباد کر رہے ہیں۔ ایک بہتر اور پڑھے لکھے معاشرے کو وجود میں لانے کے لیے مرد اور عورت دونوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ مرد اور عورت دونوں ہی اس معاشرے کا اہم رکن ہیں۔ دونوں کا فرض ہے مل کر بہتر ماحول بنایئں تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کو پڑھا لکھا معاشرہ دیں سکیں۔ یہ اُس ہی وقت ممکن ہے جب مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی بہتر تعلیمی مواقع میسر ہوں گے تاکہ وہ بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کےعورتوں کی تعلیم کے حق کے لئے کی گئی قانون سازی پر عمل درآمد یقینی بنائے اوربغیر کسی فرق کے سب کے لیے یکساں تعلیم اور اس کے حاصل کرنے کے مواقع پیدا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں