The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

تعلیمی نظام کی اصلاح وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے

آج کے اس پرآشوب اورتیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے تعلیم کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ جس معاشرے میں ہم جی رہے ہیں اُس معاشرے میں تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟ اُس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتی اقدامات  کیا ہیں اور اُس پر کس حد تک عمل ہوتا ہے ۔

یوں تو پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی تعلیمی نظام رائج ہوچکا تھا اور اس سلسلے میں حکومت نے کچھ اقدامات بھی کئے۔ نومبر 1947 میں ایجوکیشن کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پاکستان بننے کے بعد حکومت کی طرف سے پہلا ایجوکیشن کمیشن بنا۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی پالیسی بھی بنائی گئی۔ تین مرتبہ دس سالہ منصوبہ بندی کی گئی۔  قومی تعلیمی پالیسی میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ملک بھر کے تمام شہریوں کو تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان لوگوں کے جو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہوں انہیں بھی سہولیات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ میٹرک کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل تعلیم بھی متعارف کرانے کی سوچ نے نمو پائی اوراس مقصد کے لیے ثانوی اور اعلیٰ درجوں تک کمپیوٹر کی تعلیم کو عام کرنے کافیصلہ بھی کیا گیا۔ تعلیم کی مُد پر خرچ ہونے والی رقم  2.2٪ سے بڑھا کے 4٪ کردی گئی۔

یہ وہ نکات ہیں جو آخری تعلیمی پالیسی میں بیان کئے گئے۔ ان پرعمل کرکے تعلیمی نظام ترقی کرسکتا تھا لیکن صورتحال یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلیمی نظا، ترقی کرنے کے بجائے زبوں حالی کا شکار ہے۔

پاکستان دنیا کے سب سے گنجان آباد ممالک میں شامل ہے۔ لیکن شرح خواندگی کے اعتبار سے کم درجے پر ہے۔یونیسکو کے مطابق 160 ممالک میں سے پاکستان 55 نمبر پر آتا ہے۔ اس کی وجہ شرح خواندگی کی کمی ہے۔ تعلیمی شعبہ میں موجود مسائل تعلیمی نظام کی بدحالی کی وجہ ہے جس پر کوئی کان نہیں دھرتا۔

ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ نوکرشاہی قابض رہا ہے، جن کے نزدیک اس پیشے کی قدرو قیمت کی کوئی اہمیت نہیں۔ بدقسمتی سے کچھ عناصر ایسے بھی تعلیم کے دشمن ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی  کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔

پاکستان میں جاگیردارانہ طرزعمل تعلیم کی راہ میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ دیہی علاقوں میں جاگیردار اور زمیندار بچوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ خاص طور پرلڑکیوں  کی تعلیم حاصل کرنے کے خلاف ہیں۔ جس وجہ سے پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے مرد اورعورتوں کی تعداد میں واضح فرق ہے۔  تعلیم حاصل کر نے والے مردوں کی تعداد 70٪ اور عورتوں کی 49٪ ہے۔ جو شرح خواندگی کی کمی کا باعث ہے۔

بہتر تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایجوکیشن کمیشن کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے جو تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔ اُنھیں معلوم ہو کہ قوموں کی ترقی کے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے۔ بہترتعلیم کے لیےقابل اساتذہ بہت ضروری ہیں۔ اساتذہ محض وہ نہیں جو چار کتابیں پڑھا کرکچھ کلاسیں لیکراپنے فرض سےمبراہوگیا بلکہ ایسے ہوں جوطالبات کی خفیہ صلاحیت کو بیدار کرکے شعوروادراک، علم وآگہی، نیز فکرونظرکی دولت سےمالامال کرے۔

آج کا دورکمپیوٹر، ایٹمی ترقی، سائنس کا دور ہے۔ اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل، انجینئرنگ اورمختلف جدید علوم حاصل کرناآج کے دورکا لازمی تقاضہ ہیں۔

پاکستان میں نظامِ تعلیم مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ضرورت نظام تعلیم کو درست اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تعلیم کو دورِحاضر کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔ تعلیم کے معیارمیں پستی اور زوال کا سبب بدنظمی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سازو سامان کی کمی، عمارتیں بوسیدہ، اوراساتذہ کی اکثریت نااہل ہے۔دوسری جانب پرائیوٹ سیکٹر کا کام صرف پیسہ بنانا ہے۔

بہتر تعلیم کےلیے ضروری ہے کہ اسکول، کالجز، یونیورسٹیوں کا نظام درست کر کے سب کےلیے ایک جیسا پلیٹ فارم فراہم کریں۔ ہردوسال بعد پورا نہیں تو نصاب کے کچھ حصے تبدیل کئے جائیں۔ ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی قرار دی جائے۔ نصاب کم اور مضامین مختصر رکھیں۔ اساتذہ پراوراُن کی کارکردگی پر نظر ثانی کرکے باز پرس کی جائے۔ رشوت دینے اور لینےپر، نقل کرنےاورکروانے والےکی سخت پکڑکی جائے۔ طلباء کوگریڈ اوراچھی ملازمت کےحصول کےلیےگدھوں کی دوڑمیں شامل ہونے کی سیکھ دینے کے بجائےایساقابل انسان بنائیں جسےتمیز،تہزیب،روایات اورمعاشرتی اقدارکا پاس ہو۔

آج ضرورت اس امرکی ہےکہ ہم اپنےتعلیمی نظام کےمقاصدکوواضح کریں اوراصل مرض کی طرف توجہ دیں۔ لارڈ میکالے کےمادہ پرستانہ نظام تعلیم کے بجائے پاکستان کی  نظریاتی بنیادوں کوسامنےرکھ کرایسا نظام تعلیم وضع کرناچاہیےجوہمارےافراداورمعاشرے کے درمیان پل کا کام انجام دے سکے تاکہ ہمارا معاشرہ ترقی کی جانب گامزن ہو۔

Print Friendly, PDF & Email