The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

پردیس میں روزہ کیسے رکھیں؟

پردیس میں نماز اور روزے یا دیگر عبادات کا رنگ وطن کے گلی کوچوں سے بہت مختلف ہوتا ہے، نہ کہیں سے اللہ اکبر کی صدا آتی ہے اور نہ ہی کوئی اعلان کی زحمت کرتا ہے۔

مسلم پرو نامی ایپلیکشن کے مطابق میرے علاقے میں نمازِ عشاء کا وقت رات گیارہ بج کر پچیس منٹ (11:25) ہے، جب کہ نمازِ فجر کا وقت دو بج کر پنتالیس منٹ (2:45) ہے، اب نماز عشاء اور تروایح کے بعد سحری کا وقت کتنا بچتا ہے؟ اِس کا حساب کتاب آپ پر چھوڑے دیتے ہیں۔ کارپی اٹلی میں آج کل موسمِ گرما چل رہا ہے، یہاں کے لمبے دن اور لمبی راتوں کو چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات کی طرح سمجھا جاتا ہے۔

آج کل جو چند گھنٹوں کے لئے سورج غروب ہوتا ہے، اِس کو رات کہا جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کا وقت گزشتہ روز نو بج کر چالیس منٹ (9:40) تھا اور طلوع آفتاب قریباً چار چالیس (4:40) رہا۔ ایسے دنوں اور اِس موسم میں روزے رکھنا کئی طرح سے صبر آزما ہے۔

پردیس میں نماز اور روزے یا دیگر عبادات کا رنگ وطن کے گلی کوچوں سے بہت مختلف ہوتا ہے، کہیں سے اللہ اکبر کی صدا نہیں آتی، کوئی اعلان کی زحمت نہیں کرتا، باہر جاتی ہوئی دھوپ اور ہلکے اندھیروں سے خود ہی اندازے لگانے ہوتے ہیں یا مسلم پرو طرز کی ایپلیکشنز ہی ساتھ دیتی ہیں۔

کام کے ساتھ اِس طویل روزے کو نبھانا اور اِن اوقات کا گزارنا کافی مشکل ہے۔ جیسے اگر آپ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں اور صبح آٹھ بجے دفتر جاتے ہیں تو کب سوئیں گے کہ دفتر وقت پر پہنچیں؟ عملی طور پر چھ گھنٹوں کی رات میں افطار اور سحر کو نپٹانا اور کام کے معاملات کو ساتھ ساتھ چلانا خاصا مشکل ہے پھر بھی بہت سے لوگ ماہِ رمضان کی برکتیں سمیٹتے نظر آتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ غالب سے بھی آگے کے مسلمان ہیں جن کے پاس کھانے کو تو سب کچھ ہے مگر پھر بھی روزہ ہی شوق سے کھاتے ہیں۔

سیاسی اور سماجی طرز کی افطاریوں کا بھی خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ اپنے اپنے قبیلوں اور ہم خیال لوگوں کو کسی ہوٹل، ہال یا گھر میں بلا کر لوگ افطاریاں کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

اٹلی میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں عملی طور پر یوں لگتا ہے کہ رات آئی ہی نہیں۔ اِن حالات میں بھی روزے رکھنے والے اِس فرض سے نہیں چوکتے، لیکن اِس قدر طویل روزے کو کیسے نبھایا جائے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ ایسی جگہیں کہ جہاں روزے اِس قدر طویل ہیں، وہاں سحر و افطار کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟۔

کچھ علماء کا خیال ہے کہ قریب ترین معلوم مقام کے سحر و افطار کے مطابق روزے رکھے جائیں، جبکہ کچھ علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سحر و افطار کے مطابق بھی روزہ رکھا جاسکتا ہے۔ میرے علم میں کچھ دوست ایسے آئے ہیں جو اِس طرز کے روزے رکھ رہے ہیں یعنی یہاں عصر کا وقت ہوا ہوگا تو وہ سعودی عرب کے وقت کے مطابق افطار کرلیں گے۔ اب ایسے حالات میں کن اطوار پر عمل پیرا ہونا چاہیئے؟ یہ فیصلہ اہل علم و عمل پر چھوڑتے ہیں۔

ہم ایسے لوگ ہیں، جن کو یورپ میں آئے ابھی چھ سات برس ہی ہوئے ہیں جن کی جڑیں ابھی تک اِس زمین میں نہیں لگ پائیں۔ اِن کو ایسی صورت حال میں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دو تین عشروں کا عمل ایک طرف اور چند سالوں کا وطیرہ ایک طرف۔ میرے لئے تو روزہ سورج کے اگنے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور سورج غروب ہونے پر ہی افطار ہوتا ہے۔

ابھی آغازِِ رمضان ہے، بے شمار دوست پردیس کی مشکل زندگیوں کے ساتھ ساتھ رمضان کی فرض عبادت کو محبت سے ادا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی اِن سب کے روزے قبول کرے اور اِس محنت کے توسط جس صبر و استقلال کے پھل کے متمنی ہم ہوتے ہیں خدا کرے کہ وہ ہم سب کو نصیب ہو۔

غیرمسلم پوچھتے ہیں کہ اتنی دیر بھوکا پیاسا آدمی کیسے رہ سکتا ہے؟ میں اِن سے کہتا ہوں کہ روزہ ایک جذبے کا نام ہے، پروردگار کے حکم سے اپنی جائز خواہشات پر قابو پالینے کا نام، کسی خواہش سے خود کو روک لینے کا نام، روزہ بھوک اور پیاس سے بڑا ہے۔ اگر یہ بھوک صرف پیٹ کی ہو تو میں کب کا ہار مان جاؤں مگر یہ تو میرے رب کا حکم ہے اور یہی جذبہ مجھے مجبور کرتا ہے کہ خواہ سامنے خوان دھرے ہوں یا میووں کے ڈھیر پڑے ہوں میں اُن کو ہاتھ تک نہ لگاؤں گا۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں