The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

آخر ہمارے رویے کب بدلیں گے؟

جب میں سٹور پر خریداری کے بعد کاونٹرپربل جمع کروانے پہنچا تو وہاں کوئی اورگاہک موجود نہ تھا مگر دکاندار مصروف تھا مجھے کچھ دیر انتظار کرنا پڑا‘ اسی اثناء میں وہاں دو تین اور گاہک بھی جمع ہو گئے اور ہر ایک جانتا تھا کہ کون کس نمبر پر پہنچا ہے۔ دکاندار جب فارغ ہوا تو یہ نہ جانتے ہوئے کہ کون پہلے سے کھڑا ہے اس نے ایک دو نوجوانوں کو پہلے فارغ کیا ۔

میں خاموشی سے دیکھتا رہا ، اتنی دیر میں وہاں گاہک اور بھی زیادہ ہو گئے اور ایک کے بعد ایک بغیر کسی ترتیب اور لائن کے اپنا کام کروا کر جا رہے تھے مجھے جلدی تو تھی مگر مجھے لگا کہ مجھے میری باری مل جائے گی تب تک انتظار کرنا بہتر ہو گا ‘تبھی ایک نوجوان جس کی عمر چوبیس سال ہو گی اور اس نے اچھی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور تعلیم یافتہ اور اچھے خاندان کا لگ رہا تھا وہ وہاں پہنچا اور جب میں اپنے ہاتھ میں لی ہوئی پرچی دکاندار کو دینے لگا اس نوجوان نے میرے پیچھے کھڑے رہتے ہوئے میرے سر کے اوپر سے ہاتھ گزار کر مجھ سے پہلے اپنی پرچی دکاندار کو دے دی ، میں نے اس نوجوان کی طرف دیکھا وہاں کوئی ندامت یا کوئی احساس اس کے چہرے پر نہیں تھا”۔

بحیثیتِ قوم ترقی کرنے کا جنون پاکستان کی نئی نسل پر غالب ہے اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ہمارے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کر رہے ہیںمگر جس شدت کے ساتھ ہم اپنے ملک اور اس کے اداروں کی بہتری کی امید کرتے ہیں ‘ وہ شدت انفرادی طور پر ہمارے روز مرہ کے رویے میں نظر نہیں آتی ہے۔ ہم لوگ حکومتی اداروں اور سیاسی لیڈروں سے امید کرتے ہیں کہ وہ کچھ ایسا کریں گے کہ راتوں رات سب کچھ بہتر ہو جائے گا مگر بحیثیتِ قوم ہم خود بہتری لانے کو دیوانے کا خواب سمجھتے ہیں۔ہم صبر و برداشت جیسی اسلامی خصوصیات سے دور جا رہے ہیں جن کو اپنا کر آج غیر مسلمان قومیں بھی ہم سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔

سڑک پر بنی ان لائنوں کا کیا مطلب ہے؟

کوئی لکھاری یہ لکھنا نہیں چاہتا مگریہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی اکثریت انتظار کرنے، صبرکرنے، اچھے رویے سے پیش آنے، لائن بنانے، دوسرے کا شکریہ ادا کرنے، دوسروں کا احترام کرنے، مدد کرنے اور اس جیسی دوسری مثبت ذمہ داریوں اور ان کے اثرات سے ناواقف ہیں، نوجوان نسل سوشل میڈیا ، نمود و نمائش ،شارٹ کٹ طریقے سے پیسہ اکٹھا کرنے اور دوسروں سے خود کو اعلی ثابت کرنے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

بچپن سے کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں اچھے شہری کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں، دوسروں کی مدد کرنا کیا ہوتا ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا کیا ہوتا ہے، دوسروں کا احترام کرنا کیا ہوتا ہے، غصہ کیا ہوتا ہے اور ایسی ہر بات جو کتابوں میں نوجوانوں کی تربیت کے لئے لکھی گئی ہے وہ ہر نوجوان پڑھتا ہے۔ ہم لوگ تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں مگر تربیت میں جو کمی رہ گئی ہے نوجوان نسل کی ،آخر اس کا ذمہ دار کون ہے اور بحیثیتِ قوم اس خامی پر قابو پانے کے لئے کب کوئی جامع منصوبہ بنایا جائے گا؟۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام کے درمیان واضح فرق ان کے رویہ اور تعلیم و تربیت کا ہے۔اچھی اقوام کے نوجوان اپنے ذمہ داریوں سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ دوسروں سے احترام اور عزت سے پیش آنے کے مثبت اثرات سے بھی واقف ہیں۔ نوجوان نسل میں تربیت کی یہ کمی ہمارے تعلیمی نظا م اور نصاب کی خامیوں کو نمایاں کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر اس خامی کو مستقبل میں کم کرنے کے لئے واضح اقدامات کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے تعلیمی اداروں،درست نصاب اور تربیت یافتہ اساتذہ کا بہتر استعمال ہی کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں